عمران خان پر دہشت گردی کا مقدمہ، مدعی، اور آئی جی ڈی آئی جی کو نوٹسز جاری
عمران خان پر دہشت گردی کا مقدمہ خارج کرنے کی درخواست پر عدالت نے آئی جی، ڈی آئی جی، ایس ایچ او اور مدعی کو نوٹسز جاری کردیئے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی جانب سے خود پر دہشت گردی کا مقدمہ خارج کرنے کی درخواست پر سماعت ہوئی۔
عمران خان کی درخواست پر سماعت چیف جسٹس اطہرمن اللہ کی سربراہی میں بینچ نے کی، جب کہ عمران خان کی جانب سے بیرسٹر سلمان صفدر اور نعیم حیدر ایڈووکیٹ پیش ہوئے۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر رکھی ہے، جس میں استدعا کی گئی ہے کہ میرے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ غیر قانونی قرار دیا جائے۔
عدالت نے دہشت گردی کا مقدمہ خارج کرنے کی عمران کی درخواست پر آئی جی، ڈی آئی جی پولیس کو نوٹس جاری کر دیئے، اور جواب بھی طلب کرلیا۔
عدالت نے مدعی مقدمہ مجسٹریٹ اور ایس ایچ او کو بھی نوٹس جاری کرتے ہوئے، 8 ستمبر کو تمام فریقین سے جواب طلب کیا ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کیخلاف 20 اگست کی تقریر پر دہشت گردی کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
عمران خان کا متنازعہ بیان
20 اگست کو اسلام آباد میں جلسے سے خطاب میں عمران خان کا کہنا تھا کہ آئی جی، ڈی آئی جی اسلام آباد ہم تم کو نہیں چھوڑیں گے، مجسٹریٹ زیبا چوہدری تم پر کیس کریں گے، مجسٹریٹ کو پتہ تھا کہ شہباز گل پر تشدد ہوا پھر بھی ریمانڈ دے دیا۔
عمران خان کے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ
21 اگست کو ایڈیشنل سیشن جج اور اعلیٰ پولیس افسران کو دھمکیوں کے معاملے پر سابق وزیراعظم عمران خان کیخلاف مجسٹریٹ اسلام آباد علی جاوید کی مدعیت میں تھانہ مارگلہ میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
ایف آئی آر کے متن کے مطابق عمران خان نے تقریر میں پولیس افسران اور جج کو دھمکیاں دیں اور ڈرایا، عمران خان کی تقریر کا مقصد عدلیہ اوراعلیٰ حکام کا دہشت زدہ کرنا تھا۔
متن کے مطابق دھمکیوں کا مقصد یہ تھا کہ عدلیہ اور حکام اپنی قانونی ذمہ داریاں پوری نہ کریں، تقریر سے پولیس حکام عدلیہ اورعوام میں خوف وہراس پھیلایا گیا ہے، تقریر سے عوام میں بے چینی، بد امنی، دہشت پھیلی اور امن تباہ ہوا۔