بلوچستان میں پانچ سال کے دوران کوئی بڑا منصوبہ شروع نہیں ہوا ، ، خسرو بختیار

0 127

کوئٹہ(امروز نیوز) وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات خسرو بختیار نے کہا ہے کہ گزشتہ پانچ سال کے دوران بلوچستان میں کوئی بڑا منصوبہ شروع نہیں ہوا آئندہ بجٹ میں جو نئے پروجیکٹ وفاقی حکومت شروع کررہی ہے اس میں سب سے زیادہ حصہ بلوچستان کا ہوگا ہمیں یقین ہے کہ بلوچستان ترقی کرے گا تو پاکستان کی ترقی ممکن ہوسکے گی تحریک انصاف کی حکومت سی پیک سے متعلق کوئٹہ کچلاک ژوب روڈ کے توسیعی منصوبے پر بہت جلد کام شروع کرے گی اور اس سلسلے میں وزیراعظم عمران خان جلد بلوچستان میں اس روڈ کا افتتاح کریں گے، سابق حکومت میں دو کھرب کی 300 سے زائد غیر منظور شدہ اسکیمات پی ایس ڈی پی میں رکھی تھی جن پر کام کرتے تو 40 سال لگتے ہماری حکومت نے سیاسی بنیادوں پر اسکیمات نہیں رکھے گی گزشتہ 5 سال میں بلوچستان میں کوئی بڑا منصوبہ شروع نہیں ہوا آیندہ وفاقی پی ایس ڈی پی میں بلوچستان کا حصہ سب سے زیادہ ہوگا گوادر کو نیشنل گرڈ سے منسلک کرنے سیمت اہم منصوبے ثھی شامل ہونگے یہ بات وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات خسرو بختیار نے وزیراعلیٰ ہاﺅس میں بلوچستان کے حوالے سے جاری ترقیاتی اور نئے منصوبوں کا جائزہ اجلاس اور پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا۔ انہوںنے کہا کہ آئندہ مالی سال 2019-20ء میں وفاقی پی ایس ڈی پی میں جو بڑے پروجیکٹس رکھے جارہے ہیں ان میں گوادر کو نیشنل گریڈ کے ساتھ منسلک کرنا ، روڈ انفراسٹرکچر ، سوشو اکنامک ڈویلپمنٹ کے تحت توانائی ، واٹر، سکیل ڈویلپمنٹ کے پروجیکٹس شامل ہونگے اور پورے ترقیاتی منصوبوں میں بلوچستان کا حصہ سب سے زیادہ ہوگا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ہماری حکومت کو جو مسائل ورثے میں ملی ہے جس سے ملک میں معاشی بحران پیدا ہوا ہے اس پر ہماری حکومت جلد قابو پالے گی۔ ماضی میں بلوچستان کو اس حد تک نظر انداز کیا گیا تھا کہ ترقیاتی منصوبوں کی صرف تختیاں اور بورڈز لگائے جارہے تھے لیکن گراﺅنڈ پر کوئی کام نہیں ہوا ہے۔ انہوںنے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کا ویژن ہے کہ ماضی میں جو علاقے پسماندہ رہ گئے ہیں ان علاقوں پر زیادہ توجہ دینا ہوگا جس میں فاٹا، بلوچستان اور جنوبی پنجاب شامل ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں دس ایسے اضلاع ہیں جس میں آج تک وفاقی حکومت کا ایک بھی پروجیکٹ نہیں ہے جو بہت افسوسناک ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت کبھی پسند اور ناپسند کی بنیاد پر ترقیاتی کام نہیں کرے گا ماضی میں من پسند افراد کو نوازنے کے لئے چھوٹے منصوبوں کو بھی وفاقی پی ایس ڈی پی میں پاس کیا جارہا تھا جس کا فائدہ ان علاقوں کو پہنچتا نہ ہی ترقی ملی۔ انہوںنے کہا کہ موجودہ حکومت نے بڑے منصوبوں پر توجہ مرکوز کیا ہے تاکہ اس کے ثمرات اور فائدہ پورے علاقے اور عوام تک پہنچ جائیں۔ انہوںنے کہا کہ سابقہ حکومت نے بلوچستان سے گزرنے والی مغربی روٹ کو مکمل نظر انداز کیا تھا اور عوام کے ساتھ جھوٹ بول رہے تھے نام نہاد افتتاح کررہے تھے لیکن حقیقت میں کچھ نہیں تھا۔ سابقہ حکمرانوں کے پاس ویژن، اہلیت اور نہ طریقہ کار تھا اس وجہ سے بلوچستان کے بہت سے ایسے اضلاع ہیں جس کا وفاقی پی ایس ڈی پی میں نام تک نہیں۔ ہم نے بلوچستان حکومت سے کہا ہے کہ مستقبل کے لئے اپنی ترجیحات وضع کریں اور صوبائی حکومت اپنے عوام کی بہتری کے لئے ان ترجیحات کو ہم سے شیئر کریں تاکہ وفاقی حکومت بلوچستان کو غربت کی لکیر سے نکال کر عوام کی فلاح و بہبود کے لئے ترقیاتی کام شروع کرسکیں اور آئندہ پی ایس ڈی پی میں ان ترجیحات کو شامل کرائیں تاکہ اس آئندہ بجٹ میں جو اسکیمات صوبہ بلوچستان کو دے رہے ہیں چاہے وہ ڈیم، توانائی ، سڑکیں، سوشو اکنامک ڈویلپمنٹ کی صورت میں ہو بلوچستان کے ہر ڈویژن میں پھیلا دیں گے جس سے پورا بلوچستان ترقی کرے گا تو اس کے اثرات پورے بلوچستان اور اس کے معیشت پر پڑے گا اور منصوبہ بندی کا اصل طریقہ کار بھی یہی ہے۔ وفاقی وزیر خسرو بختیار نے کہا کہ پچھلی حکومت نے آخری سال میں 343 نئی اسکیمیں شروع کئے تھے جس کا کوئی فائدہ نہیں تھا اور اپنے مفاد کے لئے وفاقی پی ایس ڈی پی میں شامل کئے تھے جس کے نقصانات حد سے زیادہ تھے اور اس سوچ کے ساتھ کہ آئندہ آنے والی حکومت کے لئے مشکلات شروع دن سے پیدا ہو اگر ہم ان منصوبوں کو جاری رکھ دیتے تو ان کو مکمل کرنے کے لئے دو ہزار ارب روپے چاہئے تھے اور پاکستانی قوم کے ساتھ پچھلی حکومت کا اخلاص یہ تھا کہ ان منصوبوں کے لئے صرف 55 ارب روپے مختص کئے تھے۔ دو ہزار ارب روپے کی اسکیمات اور مختص فنڈز صرف 55 ارب روپے رکھنا کون سا سوچ ۔ وہ منصوبے اگر موجودہ حکومت جاری رکھ لیتے تو وہ چالیس سال میں مکمل ہوجاتے ۔ ماضی کے حکمرانوں نے ملکی مفاد کم اور اپنے مفادات کو زیادہ فوقیت دی تھی جس کی وجہ سے ترقی کے اثرات عوام تک نہیں پہنچے۔ انہوںنے کہا کہ ہماری حکومت پسند اور ناپسند کی بنیاد پر ملک کے غریب شہریوں کے پیسے کبھی بھی خرچ نہیں کرے گی بلکہ اجتماعی منصوبوں کو اولیت دی جائے گی۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان کا سوچ اور ویژن صوبے کے سابقہ حکمرانوں سے بالکل مختلف ہے اور صوبے کے ساتھ مخلص ہے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان مختصر عرصے میں جو اقدامات ترقیاتی سکیموں کے حوالے سے اٹھائے ہیں وہ قابل ستائش ہے اور اس کے ثمرات جلد پورے صوبے اور عوام تک پہنچ جائیں گے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.