ماضی کے بڑے منصوبے ادھورے ہیں ، جام کمال
اوتھل(امروز نیوز) وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے اوتھل میں بلوچستان ریزیڈینشل کالج اور گورنمنٹ پولی ٹیکنیک انسٹیٹیوٹ فار بوائیز کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ماضی کے حکمرانوں کی ناقص منصوبہ بندی سے صوبے کے اکثر بڑے منصوبے ادھورے ہیں بروقت تکمیل نہ ہونے سے ان کی تعمیراتی لاگت بھی بڑھ گئی ہے۔اور لوگ ان اسکیمات کے ثمرات سے مستفید بھی نہ ہوسکے۔کءاسکیمیں کتابوں میں تو مکمل ہیں لیکن جب کہ حقائق اس کے برعکس ہیں عوام کے ٹیکس سے بنی اسکیمیں آٹھ دس سالوں سے نامکمل ہیں۔موجودہ کولیکشن حکومت 500 اسکیمیں جو آٹھ اور دس سالوں سے نامکمل پیں ان کو انشاءاللہ اس سال جون تک مکمل کیا جائے گا۔ہم جدید اور پیشہ ورانہ تعلیم ہی سے صوبے کو ترقی یافتہ بنا سکتے ہیں۔ہمارا مشن بلوچستان کے عوام کے لیئے اجتماہی بڑی اسکیمات جیسے ڈیم ،ٹرانسمشن لائینز اور دیگر منصوبے صوبہ بنا کر ان کا معیار زندگی بلند کرنا ہے۔جب کہ چھوٹی اسکیمیں ضلع اپنے وسائل سے بنائے گا۔وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے ضلع لس بیلہ کے شہر لاکھڑا کو میونسپل کمیٹی بنانے کا بھی اعلان کیا۔انہوں نے کہا کہ محکمہ± تعلیم میں بیس سے پچیس ہزار آسامیاں اور دیگر محکموں میں بھی سینکڑوں آسامیاں خالی ہیں ان کو پ±ر کیا جائے گا۔اور نءآسامیاں پیدا کی جائیں گی جس سے بے روز گاری کا کسی حد تک خاتمہ ہوگا۔وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہا کہ اگر بلوچستان ریزیڈنشل کالج اور پولی ٹیکنیک انسٹیٹیوٹ 2005 میں اپنے وقت پر مکمل ہوتے تو ان اداروں سے ایک ہزار بچہ ہنر مند ہوکر نکلتا۔اور صوبے کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتا۔یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ 2003 اور 2004 کے بڑے بڑے منصوبے تاحال نامکمل ہیں۔صوبہ اس بات کا متحمل نہیں ہوسکتا کہ عوام کے ٹیکس سے حاصل شدہ رقم کرپشن کا شکار ہو۔ہم ان اور نءاسکیمات کو بروقت تکمیل کریں گے تاکہ عوام کا معیار زندگی بلند ہو۔ہم انشاءاللہ کولیکشن گورنمنٹ اور اپوزیشن کو ساتھ ملا کر ایسی اسکیمیں رکھیں گے تاکہ قوم کا پیسہ ضائع نہ ہو۔ہمارا نصب العین تمام اداروں کو ٹھیک کرنا ہے خاص کر ایجوکیشن، صحت، زراعت، لائیواسٹاک اور دیگر محکموں کو صحیح ڈگر پر لانا ہے۔جب تک ہم احسن طریقے سے منصوبہ بندی نہیں کریں گے تب تک ترقی و خوشحالی کا خواب ادھورا رہے گا۔ماضی کے حکمرانوں کی غلط پالیسیوں کا خمیزہ ہم بھگت رہے ہیں۔پورے بلوچستان کی ترقی میرا فرض اولین ہے۔ہماری حکومت ہرضلعے کے پرائمری، مڈل، ہاءسکول بنائے گی اور ہاءاسکولز میں انٹرمیڈیٹ کلاسوں کا اجراءکیا جائے گا۔اور پرانی عمارتوں کو ٹھیک کرنے کے ساتھ ساتھ ان اسکولز کو تمام سہولتوں سے آراستہ کیا جائے گا اور آبادی کے بجائے رقبے کے لحاظ سے سکول بنائیں گے تاکہ دورافتادہ اور پسماندہ علاقوں کے بچے بھی تعلیم حاصل کرسکیں۔ہمارا ضلع چاغی رقبے کے لحاظ سے اتنا بڑا ہے کہ پورا کے پی کے صوبہ اس میں سماسکتا ہے۔ہماری گورنمنٹ کی کوشش ہے کہ ہر ضلع کے اندر وسائل و مسائل دیکھ کر چھوٹی چھوٹی اسکیمیں ضلعی سطح پر بناءجائیں تاکہ لوگوں کی ضروریات ضلع میں ہی پوری ہوں۔ہر ضلع میں ہسپتالز کو جدید سہولتوں سے مزین کرکے سرجنز تعینات کئے جائیں گے تاکہ غریب لوگ علاج معالجے اور سرجری کے لیئے کوئٹہ، کراچی اور دیگر بڑے شہروں میں علاج کے بجائے اپنے علاقے میں ہی اپنا علاج کرواکر لاکھوں روپے بچائیں۔صوبے کا مستقبل روشن ہے۔ہمیں لوگوں کی زندگی میں خوشیاں لانی ہیں۔اگر ہم نے اپنی ذمہ داری نہ نبھاءتو قوم ہمیں بھی معاف نہیں کرے گی۔جام کمال خان نے کہا کہ صوبے بھر کے سیلاب اور برف باری سے متاثرین کی مدد کی جائے گی۔بارشوں، سیلاب اور برف باری سے 5 فیصد نقصان ہوا ہے لیکن اس سے گزشتہ کءسالوں سے قحط سالی کا خاتمہ ہوا ہے۔کیوں کہ بلوچستان کے 70 فیصد لوگ مال مویشی پالنے سے وابستہ ہیں ان کو فائدہ ہوا ہے۔