جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس کو ہم قابل گرفت و قابل مذمت عمل سے تعبیر کرتے ہیں
کوئٹہ(امروز نیوز)عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی بیان میں عدالت عظمی کے معزز جج جسٹس فائز عیسی کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کو عدلیہ خاموش کرانے کی آزمودہ و روایتی ہتھکنڈہ اور اپنے خواہشات کے مطابق فیصلے لینے کی قابل گرفت و قابل مذمت عمل سے تعبیر کیا سانحہ 8 اگست 2016 کو انکوائری کمیشن کی رپورٹ مقتدر بالادست اور حکمرانوں سے ہضم نہیں ہو رہا سابق وفاقی اور سابق صوباءحکومتیں اس رپورٹ کو چیلنج کرنے جیسے قومی جرم دہشتگردوں پر پردہ ڈالنے کے بھی مرتکب ہوئے سوال یہ ہے کہ وہ آج قاضی فائز عیسی کے خلاف ریفرنس دائر کرنے والوں کے بارے کیا موقوف رکھتے ہیں عوامی نیشنل پارٹی واضح اور برملا کہتی ہے کہ سول بالادستی کی ہر سطح پر دفاع کرتے رہینگے اور اس پر کوءکمپرومائز نہیں کرینگے ملک اس وقت اندرونی اور بیرونی طور انتہائی خطرناک صورتحال سے گزررہاہے چھوٹے صوبوں اور قومیتوں کی اواز دبانے ان سے جینے کا حق چھیننے کے اچھے نتائج ہر گر برآمد نہیں ہونگے حکمران اور اشرافیہ ملک کو 70 کی دہاءوالے حالات کی طرف لے جارہے عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی دفتر باچاخان مرکز سے جاری کردہ صوبائی بیان میں کہا گیا ہے کہ عوامی نیشنل پارٹی عدلیہ کی آزادی کے لئے روز اول سے واضح موقف رکھتی ہیں جب بھی آمروں اور بالادست حکمرانوں نے عدلیہ کی ازادی صلب کرنے کی کوشش کی تو پارٹی قیادت نے اسکاراستہ روکھا ہے اور جا نوں کی قربانی سے بھی دریغ نہیں کیا جسکی واضح مثال جنرل مشرف کے دور میں شہداء12 مئی کا واقعہ ہے قاضی فائز عیسی سپریم کورٹ میں چھو ٹے صوبے کی نمائندگی کرہاہے ان کے خلاف ریفرنس دائر کرنا عدلیہ کو زیردست رکھنا اور من پسند فیصلے دلوانےکی بھونڈی اور شعوری حربے ہیں جوکسی صورت ملک کیلئے کارگر ثابت نہیں ہو سکتے اس عمل سے چھوٹی قومیتوں میں پہلے پھیلی احساس محرومی اور احساس بیگانگی کو مزید تقویت ملے گی قاضی فائز عیسی نے سانحہ 8 اگست 2016 کے شہید وکلا بارے کمیشن کی رپورٹ میں جن سیکورٹی لیپس کی نشاندہی اور اس کے مرتکب ذمہ داران کو عیان کیا گیا اس پر بالادست اشرافیہ کے ساتھ ساتھ اس وقت کی نوازشریف حکومت اور صوبے میں قوم پرستی کے دعویداروں کی یکساں موقف تھی آج ہم پوچھنا چاہتےہیں کہ وہ اج قاضی فائز عیسی کے خلاف ریفرنس دائر کرنے پر کیا موقف رکھتے ہیں؟ بیان میں کہا گیا ہے کہ عوامی نیشنل پارٹی عدلیہ کی آزادی صاف شفاف صحافت جمہوریت اور جمہوری رویوں کے فروغ پر مکمل یقین رکھتی ہے اور ایسے کسی عمل کی مخالفت میں سب سے بڑھ کر کردار ادا کریگی جس سے ملک میں جمہوریت جمہوری اداروں عدلیہ کی ازادی صاف شفاف صحافت قومیتوں کے حقوق امن کے قیام وسائل پر اختیار کے راستے میں حائل ہو لہذا حکمران اور اشرافیہ ہوش کے ناخن لیتے ہوئے چھوٹے قومیتوں اور وحدتوں میں پاءجانے والی بے چینی اضطراب اور احساس محرومی وبیگانگی میں اضافے کا موجب نہ بنیں