پی ایس ڈی پی کی بنیاد غربت کا خاتمہ اور روزگار کی فراہمی ہے

0 329

کوئٹہ(امروز نیوز)وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے ہفتہ کے روز محکمہ منصوبہ بندی وترقیات کا دورہ کرکے آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام کی تیاریوں کا جائزہ لیا اور محکمہ کے افسران کے اجلاس کی صدارت کی جس کے دوران وزیراعلیٰ کو پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام 2019-20ءکے حوالے سے بریفنگ دی گئی، وزیراعلیٰ کو آگاہ کیا گیا کہ ان کے وژن کے مطابق صوبے کی ترقیاتی ترجیحات کا
تعین کرکے ان کی بنیاد پر پی ایس ڈی پی مرتب کی جارہی ہے، معاشی استحکام، غربت کا خاتمے اور روزگار کے مواقعوں میں اضافہ کے نکات پی ایس ڈی پی کی بنیاد ہوں گی، جبکہ سروس ڈیلیوری سسٹم، انسانی وسائل کی ترقی، تربیتی پروگرام، اچھی گورننس کے ذریعہ پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کو یقینی بنانے کی جانب خصوصی توجہ دی جائے گی اور محکموں کو ایس ڈی جی کے ساتھ منسلک کرکے ان کی استعداد کار میں اضافہ کیا جائے گا، وزیراعلیٰ کو بتایا گیا کہ پی ایس ڈی پی کی تیاری کے لئے تمام محکموں کو اہداف دیئے گئے اور انہیں پانچ سالہ ترقیاتی پلان کی تیاری کی ہدایت کی گئی جن کی بنیاد پر پی ایس ڈی پی کی تیاری اپنے حتمی مراحل میں ہے، محکمے کے افسران کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام کی تیاری کے تمام مراحل پر اطمینا ن کا اظہا رکرتے ہوئے یقین ظاہر کیا کہ مالی سال 2019-20ءکی پی ایس ڈی پی صحیح معنوں میں عوامی ضروریات اور خواہشات کے منصوبوں پر مشتمل ہوگی جس پر عملدرآمد اور آئندہ پانچ سال کے ترقیاتی پلان کو عملی جامہ پہنانے سے بلوچستان میں ناقابل یقین ترقی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوگا، وزیراعلیٰ نے کہا کہ پی ایس ڈی پی کی تیاری صرف محکمہ منصوبہ بندی وترقیات کا اختیار ہے جس کے لئے محکمے میں اپنے اپنے شعبوں کے ماہرین موجود ہیں، وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ یا کوئی اور محکمہ پی ایس ڈی پی کی تیاری میں مداخلت کرنے کا اختیار نہیں رکھتا، گذشتہ ادوار میں ان طے شدہ امور کو ملحوظ خاطر نہ رکھے جانے کی وجہ سے ترقی کا عمل سست روی کا شکار رہاہے، انہوں نے کہا کہ سیاسی قیادت کے دیئے گئے وژن اور صوبے کی ترقیاتی ضروریات کے مطابق پی اینڈ ڈی سالانہ ترقیاتی پروگرام تیار کرکے حکومت سے منظوری حاصل کرے گا تو تمام معاملات میں شفافیت بھی نظر آنا شروع ہوجائے گی، وزیراعلیٰ نے کہا کہ یہ امر باعث اطمینان ہے کہ پی ایس ڈی کی تیاری میں محکموں کی جانب سے قواعد وضوابط کے مطابق منصوبے تجویز کئے گئے ہیں، انہوں نے کہا کہ ہمیں بڑی بڑی عمارتوں اور تعمیرات سے آگے نکل کر ایسی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے جس سے پائیدار ترقی کے اہداف حاصل ہوسکیں اور معاشی اور اقتصادی سرگرمیوں کا آغاز ہوسکے انہوں نے کہا کہ ایسے تمام محکموں میں سرمایہ کاری کرنے کی ضرورت ہے جو محاصل کے حصول اور معاشی سرگرمیوں میں کردار ادا کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ اگر ہم نے اپنے ریونیو میں اضافہ نہ کیا تو آئندہ دس سالوں میں مالی صورتحال ابتر ہوجائے گی جس کا زیادہ اثر سرکاری ملازمین پر پڑے گا، وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبے کی اپنی آمدنی سالانہ 35سے پچاس ارب روپے تک ہو گی تو ترقیاتی اور غیرترقیاتی اخراجات مینج ہوسکیں گے، وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہمیں خود انحصاری کے حصول کے بغیر سنجیدہ مالی مسائل کا سامنا رہے گا جس کی ایک بڑی وجہ صوبے کا بڑا رقبہ اور انتظامی اخراجات ہیں، انہوں نے کہا کہ سیاست دانوں کو بھی موجودہ صورتحال کا ادراک کرنا ہوگا، انہوں نے کہا کہ بدانتظامی کے لئے کسی ایک محکمے کو مورد الزام نہیں ٹھہرایا جاسکتا، ماضی میں ایسا ماحول رہا ہے جس میں محکموح کی منشا کے بغیر ان پر دبا¶ ڈال کر کام لیا گیا، ہم سیاسی لوگوں
نے خود اپنا تاثر خراب کیا ، صوبے میںایسے اضلاع بھی ہیں جن کا ترقیاتی نظام ایک ٹھیکیدار چلاتا رہا ، وزیراعلیٰ نے محکمہ پی اینڈ ڈی کو لینڈ مینجمنٹ سسٹم، یوتھ ڈویلپمنٹ اور سکل ڈویلپمنٹ اور سرمایہ کاری کے شعبوں کو خصوصی توجہ دینے کی ہدایت کرتے ہوئے اس حوالے سے محکمہ میں خصوصی سیل قائم کرنے کی ہدایت کی، اس موقع پر اسکیموں کی مانیٹرنگ کے لئے خصوصی میکنزم کے قیام اور سہ ماہی پروگریس ریویو اجلاس کے انعقاد کا فیصلہ کیا گیا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.