اپوزیشن کاحق ہے کہ وہ حکومت کی تبدیلی کی بات کریں،جام کمال

0 127

کوئٹہ (امروز نیوز) وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہا ہے کہ خواہشات کا اظہار آج ،کل اور عید کے بعد ہوسکتا ہے اپوزیشن کاحق ہے کہ وہ حکومت کی تبدیلی کی بات کریں لیکن عید کے بعد بلوچستان میں ترقیاتی منصوبوں ،روزگار، بجٹ ،پی ایس ڈی پی کی بہتری کی صورت میں تبدیلی آئی گی ، اپوزیشن کے بہت سے اراکین ہمارے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کی خواہش کا اظہار کرچکے ہیں ، پی ایس ڈی پی کا تھرو فاروڈ 450ارب سے 170ارب تک لائے ہیں ،آئندہ مالی سال کے پی ایس ڈی پی میں ریونیو بڑھا نے والے محکموں پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں ،صوبے میں نئے ڈویژنز کا قیام عمل میں لایا جائےگا ،اگلے پی ایس ڈی پی پر جولائی یا اگست میں عمل درآمد شروع ہو جا ئےگا، یہ بات انہو ں نے پیر کو وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں صحافیوں کے اعزاز میں دئےے گئے افطار ڈنر کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہی، وزیراعلیٰ جام کمال خان نے کہا کہ عید پر ویسے کی خوشیوں کی تبدیلی آتی ہے اپوزیشن ہمیشہ تبدیلی کی بات کرتی ہے یہ انکا حق ہے کہ وہ بات کریں یہ حق بھی چھین لیں تو انکے پاس کیا رہ جائےگا سردار اختر مینگل نے کچھ اشارے دئےے ہیں الحمداللہ ہمارے ساتھ بھی اپوزیشن کے اراکین بڑی گرم جوشی سے ملتے ہیں اور اچھے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے اپنے تعلقات ہم سے مزید بہتر کرنے کی خواہش کا اظہار بھی کرتے ہیں ایسی باتیں ہم بھی کر سکتے ہیں لیکن عید کے بعد بجٹ ، پی ایس ڈی پی ، ترقیاتی پیکج ، عوام کی بہتری ، مزید نوکریوں کی صورت میں تبدیلی لائےں گے ، خواہشات کا اظہار عید یا دو سال کے بعد ، آج اور کل بھی ہوسکتا ہے ،انہوں نے کہا کہ پی ایس ڈی پی کی بہتری کے لئے سسٹم کی مشکلات ضرور ہیں لیکن ہم پی ایس ڈی پی کو ساڑھے 5ہزار اسکیمات سے کم کر کے 1600کی سطح پر لائے ہیں ، بجٹ تھرو فاروڈ 400سے 170ارب پر آگیا ہے پی ایس ڈی پی میں 2ہزار ایسی اسکیمات تھیں جن پر صفر فیصد ہوا کا م ہو ا انہیں پی ایس ڈی پی سے نکال دیا ہے، انہوں نے کہا کہ اب پی ایس ڈی پی کے دائرے کوسی اینڈ ڈبلیو ، پی ایچ ای ، ایر یگیشن سے بڑھا کر مائنز ، لائےوسٹاک ، وومن ڈوپلمنٹ، پاپولیشن سمیت دےگر آمدن بڑھانے والے محکموں تک بڑھا رہے ہیں ڈگری یافتہ ، ہنر مند اور پڑھے لکھے نوجوانوں کے لئے نوکریاں بڑھا رہے ہیںاس بار پی ایس ڈی پی پر عمل درآمد جولائی اور اگست میں شروع ہوجائیگا جبکہ پی ایس ڈی پی میں 1 کروڑ سے کم کی کوئی اسکیم شامل نہیں کی جائےگی کم مالیت کی اسکیمات کے لئے ڈپٹی کمشنر کو ترقیاتی پروگرام دے رہے ہیں تا کہ کسی بھی علاقے کے لوگوں کو چھوٹے چھوٹے کاموں کے لئے کوئٹہ نہ آنا پڑے، انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں نئے ڈویژنز بنا نے کی گنجائش موجود ہے قلات ڈویژن کا رقبہ صوبہ خیبر پختونخواءسے بڑا ہے اسی طرح نصیر آباد سمیت دےگر ڈویژنز میں آبادی اور رقبے کے تناسب میں واضح فرق ہے جسے دو ر کرنے کے لئے اقدامات کئے جائےں گے ،ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ماضی میں ونٹر کےپٹل بنا ئے گئے لیکن ہم صرف موجود ہ کےپٹل کو سمجھ کر صےحح کام کرلیں یہی بہت بڑی بات ہے ، کیپٹل شفٹ کرنے سے وسائل اور وقت کا ضیاع ہوتا ہے ،انہوں نے کہا کہ اسکیمات بنا نے ، ان پر عمل درآمد کرنے ، ٹرانسفر پوسٹنگ کے معاملات کو ڈویژنل سطح پر منتقل کریں گے تاکہ کوئٹہ میں صرف ضروری اور بڑے درجے کے کام ہوں ایسا کرنے سے گورننس میں بھی بہتری آئے گی ، وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ گوادر ماسٹر پلان میں ترمیم کے بعد اس کام تیزی سے جاری ہے گوادر انڈسٹریل زو ن میں کچھ تبدیلوں کے علاوہ مقامی آبادی اور شہر کے خدوخال کو مد نظر رکھتے ہوئے تبدیلیاں کی گئی ہیں ہماری کوشش ہے کہ 450ارب کے پیکج سے اس سال 80ارب روپے ایلوکیشن کروا کرکے گوادر ماسٹر پلان پر عملد آمد شروع کریں انہوں نے کہا کہ ژوب، کوئٹہ ، نوکنڈی ، چاغی ، خضدار، ہوشاب، آوران ، جھاﺅ ، بیلہ میں سڑکوں کی تعمیر اور تبدیلی پر کام جاری ہے ان سڑکوں کے بننے سے بلوچستان میں نئے راستے کھلیں گے یہ وہ سب کام ہیں جو پچھلی وفاقی حکومتوں کو کر نے چاہےے تھے جو کہ انہوں نے نہیں کئے سی پیک کے ابتدائی مرحلے میں انفراسٹرکچر کی تعمیر میں بلوچستان کو کوئی حصہ نہیں ملا ابتدائی مرحلے میں گوادر پورٹ اور حبکو پاور پلانٹ پر کام ہوا جن کا فائدہ محض بلوچستان نہیں پورے ملک کو ہورہا ہے بلوچستان کے لئے کسی قسم کے خصوصی منصوبے نہیں رکھے گئے، انہوں نے مزید کہا کہ ماضی میں وفاقی پی ایس ڈی پی میں بلوچستان کی اسکیمات کے لئے انتہائی قلیل رقم رکھی جاتی تھی لیکن اس بار وزیراعظم سے بات کر کے ہم اسکیمات کی جلد تکیمل کے لئے رقم مختص کروائےں گے ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.