وفاقی حکومت اور افواج پاکستان مدبرانہ طور پر کشمیر کے مسئلے کا حل نکالنے کی صلاحیت رکھتی ہیں ، یار محمدرند
کوئٹہ (امروز نیوز) بلوچستان اسمبلی میں پاکستان تحریک انصاف کے پارلیما نی لیڈر و وزیراعظم کے معاون خصوصی سردار یار محمدرند نے کہا ہے کہ اپوزیشن کی حکومتی خارجہ پالیسی پر تنقید کھیسانی بلی کھمبہ نوچے کے مترادف ہے، مودی خطے کو جنگی جنو ن کی طرف لیکر جارہا ہے مودی سرکاری کی مذہبی جنونیت کا انجام تباہی کے علاوہ کچھ نہیں ہے ، وفاقی حکومت اور افواج پاکستان مدبرانہ طور پر کشمیر کے مسئلے کا حل نکالنے کی صلاحیت رکھتی ہیں ،بھارتی دہشتگردی کا نشانہ بلوچستان ہوگا حکومت اور ادارے بلوچستان کے حالات کو مزید بہترکرنے کے لئے اقدامات کریں ، یہ بات انہوں نے بدھ کو فیڈرل لاجز کوئٹہ میں پریس کانفر نس کرتے ہوئے کہی اس موقع پر پی ٹی آئی کے صوبائی صدر ڈاکٹر منیر بلوچ، جنرل سیکرٹر ی عبدالباری بڑیچ، مرکزی رہنماءسردار خادم حسین وردگ ، سابق صوبائی ترجمان بابر یوسفزئی سمیت دےگر بھی انکے ہمراہ تھے، سردار یار محمد رند نے کہا کہ کوئٹہ میں گزشتہ روز ہونے والادھما کہ بلوچستان اسمبلی میں کشمیر کے حق میں پیش ہونے والی قرار داد کا نتےجہ ہے بھارت نے ہمیشہ بلوچستان کو اپنی دہشتگردی کا نشانہ بنایا ہے اگر مودی سرکار خطے میں رہی تو حالات مزید خراب ہونگے ان حالات کو ٹھیک کرنے کےلئے حکومت اور سکیورٹی اداروں کو مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے بصورت دےگر بلوچستان کے حالات میں مزید خرابی آسکتی ہے بلوچستان سمیت ملک بھر میں سکیورٹی فورسز نے 98فیصد تک دہشتگرد ی پر قابو پایا ہے اور امید ہے وہ آگے بھی اسی طرح دہشتگردی کو شکست دیں گے ، انہوں نے کہا کہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کر ختم کر نے کا بھارتی اقدام غیر قانونی اور غیر آئےنی ہے ہم پہلے بھی کشمیر پر بھارتی قانون سازی کو کبھی تسلیم نہیں کیا نہ ہی آئندہ کریں گے کشمیر متنازعہ علاقے ہے بھارت نے کشمیری عوام کی خواہش کے بر عکس اس پر جبری قبضہ کر رکھا ہے کشمیر مسلمانوں کی ریاست ہے یہ انکا حق ہے یہ وہ آزاد ،پاکستان یا بھارت کے ساتھ رہیں کشمیریوں نے اپنے شہداءکی لاشوں کو پاکستان پرچم میں دفن کر کے گواہی دے دی ہے کہ وہ کس کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں کشمیر سے ہمارا مذہبی کے ساتھ ساتھ دلی رشتہ بھی منسلک ہے انہوں نے کہا کہ مودی کی وجہ سے خطہ جنگی جنون کی جانب جا رہا ہے خطے کا امن تبا ہ ہونے درپے ہے جو کہ قابل مذمت اقدام ہے ہم نہیں چاہتے کہ جنگ کی صورتحال پیدا ہوا اگر ایساہوا تو خطے او ر دنیا بھر میں اس کے اثرات جائےں گے مودی مذہبی جنونیت کا شکار ہے جس کا راستہ صرف تباہی ہے انہوں نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ عمران خان کی قیادت میں وفاقی حکومت مدبرانہ طور پر مسئلہ کا حل نکالنے کی صلاحیت رکھتی ہے جبکہ افواج پاکستان بھی با صلاحیت اور ذمہ ادارے ہیں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ایران ، پاکستان ،افغانستا ن،برما سمیت خطہ تنازعات کی صورتحال سے گزر رہا ہے جس کے اثرات بلوچستان نے بھی دیکھے ہیں انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کی جانب سے حکومتی خارجہ پالیسی پر تنقید کھےسانی بلی کھمبہ نوچے کے مترادف ہے اپوزیشن والے جب حکومت میں تھے تو ان سے فرسٹ سیکرٹری بھی ملاقات نہیں کرتا تھا جبکہ عمران خان کو اسٹیٹ وزٹ نہ ہونے کے باوجود بھی انتہائی اہم پروٹوکول ملا ہے انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان پر جنگ مسلط کی گئی تو ہم اپنا دفاع کرنے کا حق رکھتے ہیں اپنے تمام وسائل ملک کے دفاع میں استعمال کرنی ضرورت پڑی تو وہ بھی کر سکتے ہیں انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت وزیراعلیٰ جام کمال خان کی قیادت میں صوبے کے حالات بہتر کرنے کے لئے کوشاں ہے ہم اتحادی کے ناطے حکومت کے ساتھ اور اپنی جانب سے بہتری کی ہر ممکن کوشش کریں گے