دنیاءتہذیبی و عملی تبدیلیوں سے گزررہی ہیں ، عبدالمتین اخونزادہ

0 118

خضدار(امروز نیوز)دنیاءتہذیبی و عملی تبدیلیوں سے گزررہی ہیں مادی ترقی اور ٹیکنالوجی کے تیز رفتار چیلنجز کے باعث ہماری سوسائٹی، کے اپنے معاملات اور اپنے فیصلہ سازی کے مراحل پر از سرنو غورکرنا ہوگا ، خضدار ترقی کا شاہراہ اور علم و ٹیکنا لوجی کا مرکزی دروازہ و جنکشن بن چکا ہے ، نوجوان ، طلبہ و طالبات ، خواتین سول سوسائٹی ،تبدیلی کے لئے آمادگی اور سفر کا آغاز کریں تو سی پیک کے مواقع اور آٹو مشین ایج کے باعث ہم تحقیق و تخلیق کی طرف قدم بڑھاسکتے ہیں ، ان خیالات کا اظہار شہید ایڈوکیٹ باز محمد کاکڑفاﺅنڈیشن کے جنرل سیکریٹری و مجلسِ دانش و فکر علمی وفکری مکالمے کے آرگنائزر عبدالمتین اخونزادہ نے بلوچستان یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنا لوجی خضدارآڈیٹوریم میں شہید ایڈوکیٹ باز محمد کاکڑ کے زیر اہتمام منعقد سیمینار سے لیکچر خطاب کرتے ہوئے کیا ۔سیمینار کی صدارت ممتاز سرجن وسماجی رہنماءشہید باز محمد کاکڑفاﺅنڈیشن کے چیئرمین ڈاکٹر لعل خان کاکڑ اور مہمانِ خاص انجینئرنگ یونیورسٹی خضدار کے وائس چانسلر ڈاکٹراحسان اللہ خان کاکڑ تھے ۔ اس سیمینار میں طلباءو طالبات خواتین و حضرات کی بڑی تعداد نے شرکت کی ۔ عبدالمتین اخونزادہ کاخطاب کرتے ہوئے مذید کہنا تھاکہ وقت کا بھر پور اور بامقصد استعمال اس وقت کامیاب قوموں کا طرہ امتیاز ہے طلباء، نوجوان اور خواتین و دانشور وں اپنے وقت کے استعمال اور زیادہ مفید و ثمر بار بنانے کے لئے توجہ ومحنت کی ضرورت ہے ،دنیاءکے معاملات اورذہین سازی کے حوالے سے ہمیں بحیثیت معاشرہ اپنے نقشہ کاراور پیراڈیز از سرنو غور کی ضرورت ہیں ، مطالعہ و کتب بینی کے ساتھ ریسرچ و تحقیق اور تخلیق و ایجادات کی طرف سفر قدموںکوبااثر بنا دیتی ہیں ،اور مادی و تہذیب طور پر قومیں و معاشرے توانائی سے سرشار ہو پاتی ہیں ، ہمارے جامعات و مدارس اور قبائلی و سول سوسائٹی نے علم و تحقیق اور ایجاد و کے باعث اپنے ذہین اور قبائلی و سول سوسائٹی نے علم و تحقیق اور ایجادو تخلیق کی بابت اپنے ذہین پر غور کرنا ہوگا بقول ممتاز مسلم مفکر ڈاکٹر محمد رفیع الدیم مرحوم کے، کہ علم سارے کا سارامسلمان ہے علم کافر نہیں ہوسکتا ہے ۔عبدالمتین اخونزادہ نے اپنے خطاب میں مذید کہاکہ خواتین ، نوجوان اور بچوں کو حقوق و مواقع مہیا کرنے کے حوالے سے ہماری سوسائٹی پسماندگی اور بند ذہنیت کا شکار ہے ،جس کے باعث ہمارا معاشرہ مسلسل خسارے اور نقصان کی طرف گامزن ہے ۔خواتین ، کائنات میں انسانیت سازی کا سب سے مقدم و مقدس کارخانہ ساز ادارہ ہیں ،خواتین کے وقار ، وعزت تحفظ اور ترقی و خوشحالی کے مواقع سے معاشرے پھلتے و پھولتے ہیں ہمارا جاہلانہ وقبائلی تنگ نظرانہ سوچ نے علمیت کے باوجود ذہنی و آفاقی ترقی نہیں کی ہیں جس کی واضح و اندوہناک مثال جامعہ بلوچستان میں قوم کی بیٹیوں کی شرمناک و منصوبہ بندتذلیل و توہین ہمارے سامنے ہیں ۔خواتین معاملات میں از سرنو ذہن سازی وسعت نظری کی ضرورت ہے ۔ عبدالمتین اخونزادہ نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ آپ ٹیکنالوجی اور ترقی کے مواقع سے ضرور استفادہ حاصل کریں ،مواقع کاضیاءتنزلی اور علم و مواقع کا بھر پور و بروقت استعمال پیش رفت ترقی کا زینہ بن سکتے ہیں ۔ تہذیبی و علمی ترقی کے لئے نئی دنیاءکے مواقع سے بھر پور استفادہ کرنا چاہیے یونیورسٹیز کالجز ، گھر و خاندان کے ادارے اور مساجد و مدارس ان مواقع کے لئے شاندار وحسین پناہ گاہیں ثابت ہونی چاہیے ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.