گومل یونیورسٹی کے طالب علموں کیساتھ ناروا رویہ برداشت نہیں ’بلوچ طلباء ایکشن کمیٹی

0 139

کو ئٹہ (امروز نیوز)
بلوچ سٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں گومل یونیورسٹی کے طالبعلموں کیساتھ ناروا سلوک اور جامعہ سے بے دخلی کے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پْرامن احتجاج کسی بھی شہری کا آئینی اور جمہوری حق ہے۔گومل یونیورسٹی کے پْر امن اجتجاجی طالبعلموں پر انتظامیہ کی جانب سے لاٹھی چارج اور سلاخوں کے نظر کرنے کے بعد یونیورسٹی سے بے دخل کرنا نہایت ہی افسوسناک ہے،انھوں نے مزید کہا کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کی جانب سے تعلیمی اداروں کے بجٹ میں کمی کی وجہ سے تعلیمی اداراے آئے روز خسارے کی نظر ہو رہے ہیں جس کا خمیازہ طالبعلموں کو فیسوں میں اضافے کی شکل میں بھگتنا پڑ رہا ہے۔چند روز قبل بولان میڈیکل کالج کے طالبعلموں کے جانب سے بھی فیسوں میں بے انتہا ء اضافے کیخلاف پْرامن مظاہرہ کرنے پر ضلعی انتظامیہ کی جانب سے دھاوا بول کر طالبعلموں کو گرفتار کیا گیا اور گومل یونیورسٹی میں ہونے والا واقعہ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، انھوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے طالبعلموں کو زدوکوب کرنے کے بجائے ملک میں تعلیمی اصلاحات کیلئے عملی اقدامت کیے جائیں۔تسلسل کیساتھ فیسوں میں اضافے کو روکنے کیلئے تعلیمی ایمرجنسی نافذ کی جائے اور گومل یونیورسٹی کے بے دخل کیے گئے طالبعموں کے دوبارہ سے اندراج اور اْن پر لاگو کی گئی جرمانوں کو جلد از جلد واپس لیا جائے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.