تعلیمی ایمرجنسی مگر۔۔۔۔۔نصیرآباد کے نوے خواتین اساتذہ تنخواہوں سے محروم
ڈیرہ مراد جمالی(امروز نیوز)
بلوچستان میں تعلیمی ایمرجنسی گلوبل پروجیکٹ نصیرآباد کے سکولوں کے نوے خواتین ٹیچرز آٹھ ماہ سے تنخواہوں سے محروم ہونے سے گھروں میں فاقہ کشی کے مناظر جبکہ بلوچستان بھرتعلیمی اداروں میں عالمی ادارہ یونیسف کا مانیڑنگ سسٹم آرٹی ایس ایم سسٹم بحال نہ ہونے کی وجہ سے اساتذہ کرام کی موجیں ہی موجیں سکولوں سے غیر حاضر ہونے لگے والدین میں پریشان ہیں۔صوبائی وزیر تعلیم سے نوٹس لینے کامطالبہ تفصیلات کے مطابق بلوچستان میں معیار تعلیم کی بہتری کیلئے انڑنیشنل این جی او گلوبل نے خواتین کی شرع خواندگی بڑھانے کیلئے بلوچستان بھر کی طرح نصیرآباد میں درجنوں تعلیمی ادارے قائم کرکے نوے ٹیچرز بھرتی کیئے ہیں جن میں سینکڑوں کی تعداد میں بچیوں کو تعلیم سے روشناس کیا جارہا ہے لیکن آٹھ ماہ گزرنے کے باوجود نوے خواتین ٹیچروں کو تنخواہیں نہ ملنے کی وجہ سے گھروں میں فاقہ کشی کے مناظر ہیں۔دوسری جانب بلوچستان میں محکمہ تعلیم میں ایمرجنسی ہونے کے باوجود ایک سال سے زائد بلوچستان کے تعلیمی اداروں میں عالمی ادارہ یونیسف کا مانیڑنگ کا سسٹم آر ٹی ایس ایم یونیسف کی فنڈنگ بند ہونے کے بعد بلوچستان حکومت نے ایک سال کا عرصہ گزرنے کے باوجود بحال نہ ہونے کی وجہ سے سینکڑوں کی تعداد میں اساتذہ کرام تعلیمی اداروں میں غیر حاضر ہونے لگے ہیں۔جس کی وجہ سے والدین پریشان ہوچکے ہیں نصیرآباد کے عوامی حلقوں اور والدین نے صوبائی وزیر تعلیم سے مطالبہ کیاہیکہ نصیرآباد کے گلوبل سکولوں کی اساتذہ کرام کو تنخواہیں دینے کے ساتھ ساتھ مانیٹرنگ کا سسٹم آر ٹی ایس ایم بحال کیا جائے۔