طالبان کا (آج) سے سرکاری یونیورسٹیوں اور اعلی تعلیمی اداروں میں تعلیمی سرگرمیاں شروع کرنے کا اعلان

0 152

کابل (امروز ویب ڈیسک)افغانستان کے وزیر برائے ہائر ایجوکیشن مولوی عبدالباقی حقانی نے (آج)بدھ سے سرکاری یونیورسٹیوں اور اعلی تعلیمی اداروں میں تعلیمی سرگرمیاں شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔تفصیلات کے مطابق گزشتہ سال 15 اگست کو طالبان کے افغانستان کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد سے سرکاری یونیورسٹیز بند ہیں۔امارت اسلامی افغانستان کے ترجمان کے مطابق وزیر برائے ہائر ایجوکیشن مولوی عبدالباقی حقانی نے کابل میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے

افغانستان بھر میں سرکاری یونیورسٹیز میں تعلیمی سلسلے کے آغاز کا اعلان کیا۔قائم مقام وزیر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ گرم صوبوں میں جامعات 2 فروری سے دوبارہ کھلیں گی جبکہ سرد علاقوں کی یونیورسٹیاں 26 فروری کو کھلیں گی۔انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ طالبات کے لیے کلاسوں کے کیا انتظامات کیے جائیں گے کیونکہ ماضی میں طالبان حکام نے یہ عندیہ دیا تھا کہ طالبات کو الگ کلاسوں میں پڑھایا جا سکتا ہے۔اب تک طالبان ملک کے اکثر حصوں میں صرف لڑکوں کے لیے ہائی اسکول کھلے ہیں

، کچھ نجی یونیورسٹیاں دوبارہ کھل گئی ہیں تاہم اکثر امور میں طالبات کلاس میں واپس نہیں آ سکیں۔15 جنوری کو طالبان کے نائب وزیر ثقافت اور اطلاعات ذبیح اللہ مجاہد نے کہا تھا کہ محکمہ تعلیم 21 مارچ سے شروع ہونے والے نئے افغان سال کے بعد تمام لڑکیوں اور لڑکیوں کے لیے کلاس رومز کھولنا چاہتا۔ذبیح اللہ نے اس بات پر زور دیا تھا کہ ہم تعلیم کے خلاف نہیں ہیں

تاہم ان کے بیان کے ایک دن بعد ہی طالبان فورسز نے افغانستان کے دارالحکومت میں کام کرنے اور تعلیم کے حقوق کا مطالبہ کرنے والی خواتین کے ایک گروپ پر کالی مرچ کا اسپرے کردیا تھا۔مغربی حکومتوں کی جانب سے طالبان سے کیے گئے بیشتر مطالبات میں سے ایک اہم مطالبہ یہ بھی تھا کہ وہ طالبات کو تعلیم کے حصول کی اجازت دیں،طالبان نے 15 اگست کو غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد ملک کا کنٹرول سنبھال لیا تھا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.