افغانستان کو سنگین انسانی اور معاشی چیلنجز کا سامنا ہے، وزیر اعظم

0 186

اسلام آباد (امروز ویب ڈیسک) وزیر اعظم عمران خان نے کہاہے کہ حکومت مہنگائی کے اثرات کو لوگوں تک پہنچنے سے روکنے کیلئے اقدامات کر رہی ہے،حکومت خیبر پختونخوا میں سیاحتی مقامات کی نشاندہی کر چکی، جلد سیاحتی مقامات کی ترقی کیلئے منصوبے شروع کئے جائیں گے،صحت کارڈ، اشیاءضروریہ پر مستحق خاندانوں کو رعایت، تعلیمی سہولیات میں بہتری حکومت کے فلاحی ریاست کے قیام کے وعدے کی تکمیل کا سنگِ میل ہے۔ پیر کو وزیرِ اعظم عمران سے خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے اراکینِ قومی و صوبائی اسمبلی نے ملاقات جس میں وفاقی وزرا ،

گورنر و وزیرِ اعلی خیبر پختونخوا اور صوبائی کابینہ کے اراکین اور پاکستان تحریکِ انصاف کے عہدیداران نے شرکت کی ،ملاقات میں حکومت کے صوبے میں عوامی فلاح کے منصوبوں اور جاری ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی، شرکاءنے وزیرِ اعظم کو متعلقہ حلقوں کے مسائل سے آگاہ کیا اور پارٹی کے امور گفتگو بھی ملاقات کا حصہ رہی۔ بتایاگیاکہ خیبر پختونخوا میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ ختم کرنےکیلئے حکومت تاریخی منصوبہ شروع کرنے جارہی ہے،20 ارب کی لاگت سے منصوبہ بجلی کے ترسیلی نظام میں جدت اور بہتری لے کر آئے گا۔

بتایاگیاکہ صوبائی سطح پر سستی بجلی کے منصوبوں اور کم نرخوں پر آف گرڈ فراہمی کیلئے حکمتِ عملی کو حتمی شکل دے دی گئی ہے،پاکستان تحریکِ انصاف کے گزشتہ دورِ حکومت کی طرح دور دراز علاقوں میں پن بجلی کے چھوٹے منصوبے شروع کئے جا رہے ہیں،ان منصوبوں سے ان دور دراز علاقوں میں بھی سستی بجلی کی فراہمی ممکن ہوسکے گی جہاں ٹرانسمیشن لائن موجود نہیں۔ بتایاگیاکہ چشمہ رائٹ بنک کنال کا منصوبہ بھی حتمی مراحل میں داخل ہو چکا ہے،منصوبے کی تکمیل سے لاکھوں ایکڑزرعی اراضی قابلِ کاشت بنائی جا سکے گی۔

بتایاگیاکہ رشکئی صنعتی زون مکمل طور پر فعال ہوچکا، حکومت 6 بڑے صنعتی شعبوں میں سرمایہ کاری یقینی بنانے کیلئے جامع حکمتِ عملی تیار کر رہی ہے،نوجوان کو آئی ٹی شعبے میں روزگار کی فراہمی اور ملکی آئی ٹی برآمدات بڑھانے کیلئے خیبر پختونخوا میں اسپیشل ٹیکنالوجی زونز کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے،خیبر پختونخوا میں مستحق خاندانوں میں احساس راشن رعایت پروگرام کی تقسیم کا آغاز ہو چکا ہے

۔ بتایاگیاکہ کارڈ کے تحت خیبر پختونخوا کے مستحق خاندانوں کو ہر ماہ اشیائ ِ ضروریہ پر 1 ہزار روپے تک کی رعایت دی جائے گی،انضمام شدہ اضلاع میں ترقیاتی کام تیزی سے جاری ہیں۔ بتایاگیاکہ 2018 میں انضمام شدہ اضلاع کا سالانہ ترقیاتی بجٹ 24 ارب روپے تھا. موجودہ حکومت نے اس سال 54 ارب روپے کے ترقیاتی بجٹ کی فراہمی یقینی بنائی، اجلاس کو خیبر پختونخوا میں انفراسٹرکچر کی بہتری کیلئے شروع کئے گئے منصوبوں اور اہم شاہراہوں اور رابطہ سڑکوں کی تعمیر پر پیش رفت سے بھی تفصیلی طور پر آگاہ کیا گیا۔وزیرِ اعظم نے جاری ترقیاتی منصوبوں کی معینہ مدت میں تکمیل یقینی بنانے اور عوامی فلاحی منصوبوں کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرنے کی ہدایات جاری کیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ موجودہ حکومت نے خیبر پختونخوا میں تاریخی ترقیاتی منصوبوں کو آغاز کیا،انضمام شدہ اضلاع کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت نے انضمام شدہ اضلاع کے سالانہ ترقیاتی بجٹ کو 2018 کی 24 ارب کی سطح سے بڑھا کر رواں سال 54 ارب روپے کیا۔ وزیر اعظم نے کہاکہ عالمی سطح پر اشیاءکی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے مہنگائی میں اضافہ ہوا،حکومت مہنگائی کے اثرات کو لوگوں تک پہنچنے سے روکنے کیلئے اقدامات کر رہی ہے۔ وزیر اعظم نے کہاکہ پاکستان میں سیاحت میں اضافہ ہوا ہے۔ وزیر اعظم نے کہاکہ حکومت خیبر پختونخوا میں سیاحتی مقامات کی نشاندہی کر چکی، جلد سیاحتی مقامات کی ترقی کیلئے منصوبے شروع کئے جائیں گے

۔ وزیر اعظم نے کہاکہ صحت کارڈ، اشیاءِ ضروریہ پر مستحق خاندانوں کو رعایت، تعلیمی سہولیات میں بہتری حکومت کے فلاحی ریاست کے قیام کے وعدے کی تکمیل کا سنگِ میل ہے۔وزیراعظم عمران خان نے ملک میں تعلیمی اداروں کے قیام پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمیں نوجوانوں کی تعلیم کو ملک کی ضروریات سے ہم آہنگ کرنا ہے ،ہمارے ملک میں دی جانے والی تعلیم کا ملک کی موجودہ ضروریات سے کوئی تعلق نہیں ،ماضی کی حکومتوں نے تعلیم کی ضرورت پر زور نہیں دیا، جس سے ہم ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ گئے،تعلیم کے ملکی ضروریات سے منسلک نہ ہونے سے نوجوان ڈگریاں ہونے کے باجود بے روزگار ہیں،ملک میں بڑھتی ہوئی آبادی کو روزگار دینا ایک بہت بڑا چیلنج ہے،

تعلیم، ٹیکنالوجی اور آئی ٹی سیکٹر پر توجہ دے کر ہم اس چیلنج پر قابو پاسکتے ہیں،ہماری حکومت نے پانچویں کلاس تک ایک نصاب بنادیا ہے اور اب آئندہ اس کو مزید اوپر لے کر جائیں گے۔ہری پور میں اسپیشل ٹیکنالوجی زون کے قیام کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہاکہ تعلیم کے ملکی ضروریات سے منسلک نہ ہونے سے نوجوان ڈگریاں ہونے کے باجود بے روزگار ہیں، ایک طرف ملک میں پیشہ ورانہ اور ہنر مند افراد کی ضررت ہے جبکہ دوسری طرف نوجوانوں کی بہت بڑی تعداد بے روزگار ہے

۔انہوںنے کہاکہ ملک میں بڑھتی ہوئی آبادی کو روزگار دینا ایک بہت بڑا چیلنج ہے، تعلیم، ٹیکنالوجی اور آئی ٹی سیکٹر پر توجہ دے کر ہم اس چیلنج پر قابو پاسکتے ہیں، میرا ایمان ہے کہ ملک تعلیمی اداروں سے بنتے ہیں، ماضی کی حکومتوں نے تعلیم کی ضرورت پر زور نہیں دیا، جتنے زیادہ ملک میں معیاری تعلیمی ادارے ہوتے ہیں وہ ملک اتنے ہی زیادہ بالاصلاحیت میں پاور پیدا کرتے ہیں۔انہوںنے کہاکہ انگلینڈ نے آکسفرڈ اور کیمبرج یونیورسٹیاں بنائیں تو کئی سو سالوں تک ان تعلیمی اداروں نے دنیا کی قیادت کرنے والے لوگ دئیے

، ان دو اداروں نے دنیا کو دانشوارانہ سرمایہ فراہم کیا۔انہوں نے ملک کے تعلیمی نظام پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں تین سطح کا تعلیمی نظام ہے، قیام پاکستان کے بعد ہم نے اپنے تعلیمی نظام پر توجہ نہیں دی، ماضی کی حکومتوں نے تعلیم کی ضرورت پر زور نہیں دیا، جس سے ہم ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ گئے۔وزیراعظم نے کہا کہ بد قسمتی سے ملک میں تین تعلیمی نظام بن گئے، انگلش میڈیم ، اردو میڈیم اور دینی مدرسے جو تین مختلف کلچر متعارف کرا رہے تھے اور اس کے معاشرے پر بہت منفی اثرات مرتب ہورہے تھے

، ہمارے معاشرے میں کئی مسائل کی وجہ یہ طبقاتی نظام تعلیم ہے وزیراعظم عمران خان نے روس کے صدر ولادی میر پیوٹن سے ٹیلیفونک رابطہ کر کے توہین رسالت کے خلاف صدرپیوٹن کے بیان کا خیر مقدم کیا ہے پیر کو وزیراعظم عمران خان اورروسی صدرولادی میرپیوٹن کے درمیان ٹیلی فونک رابطے میں دونوں رہنماو¿ں نے دوطرفہ تعلقات، عالمی اورعلاقائی امورپرتبادلہ خیال کیا۔وزیراعظم عمران خان نے روسی صدرپیوٹن کے توہین رسالت کیخلاف بیان کوسراہا۔ وزیراعظم نے کہا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں اسلاموفوبیا میں خوفناک اضافے اوراس سے منسلک نفرت کو باقاعدگی سے اجاگرکیا۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان اورروس کے تعلقات بہتری کی جانب گامزن ہیں جس میں تجارتی واقتصادی تعلقات اورتوانائی کے تعاون پرتوجہ مرکوزکی گئی ہے

۔وزیراعظم نے کہا کہ پرامن اور مستحکم افغانستان علاقائی استحکام کے لیے اہم ہے۔افغانستان کو سنگین انسانی اور معاشی چیلنجز کا سامنا ہے۔ اس نازک موڑ پر افغانستان کے عوام کے لیے بین الاقوامی برادری کی حمایت انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔وزیراعظم نے افغان عوام کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے افغانستان کے مالیاتی اثاثوں کے اجراءکی اہمیت پر بھی زور دیا۔دونوں رہنماو¿ں نے دوطرفہ تعاون، اعلیٰ سطح کے تبادلے بڑھانے اور افغانستان سے متعلق معاملات پر قریبی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا اورایک دوسرے کو اپنے ممالک کے دورے کی دعوت دی۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.