سی پیک سے بلوچستان میں ایک روپیہ خرچ نہیں ہوا ہے، مالک بلوچ

0 138

کوئٹہ (امروز ویب ڈیسک )نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر وسابق وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہاہے کہ ریکوڈک سے متعلق معاہدے کے بعد اصل حقیقت عوام کے سامنے رکھیںگے ،نیشنل پارٹی نے گوادر کا تحفظ اور باڑ کے خلاف مضبوط تحریک چلائی تھی ،سی پیک سے بلوچستان میں ایک روپیا خرچ نہیں ہوا ہے ،موجودہ حکومت کو ختم کرنے کیلئے ہمارے دوسینیٹرزہے ہم آج بھی استعفی دینے کو تیار ہیںگزشتہ عام انتخابات میں ہمارے جیتے ہوئے سیٹ ہار میں تبدیل کیے گئے ریکوڈک کے حوالے سے جو بھی معاہدے ہوئے ہیں ان کو عوام کے سامنے رکھا جائے۔

ان خیالات کااظہار انہوں نے نصیرآباد سے میر نثار احمد کھوسہ اورپی ٹی آئی کے صحبت پور حاجی خاوند بخش نے ساتھیوں سمیت تحریک انصاف سے مستعفیٰ ہوکر نیشنل پارٹی میں شمولیت کے موقع پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری خیر بخش بلوچ ،مرکزی جوائنٹ سیکرٹری عبدالرسول بلوچ، زبیر بلوچ ،عطا محمد بنگلزئی ،دوران کھوسہ راحب بلیدی ایڈووکیٹ صوبائی ترجمان علی احمد لانگو ودیگر بھی موجود تھے ۔نصیرآباد سے میر نثار احمد کھوسہ اورپی ٹی آئی کے صحبت پور حاجی خاوند بخش نے ساتھیوں سمیت تحریک انصاف سے مستعفیٰ ہوکر نیشنل پارٹی شامل ہونے کااعلان

کرتے ہوئے کہاکہ ڈاکٹر مالک بلوچ نے اپنے دور حکومت میں بہترین کارکردگی دیکھائی ہے تحریک انصاف کے دور حکومت میں مہنگائی بے روزگاری سمیت بہت سے مسائل درپیش رہیں۔ اس موقع پر نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہاکہ آج نیشنل پارٹی کیلئے بہت اہم دن ہے پچھلے الیکشن میں نیشنل پارٹی نصیر آباد اور سبی ڈویژن میں کمزور رہاحاجی نثار کے آنے کے بعد نصیر آباد ودیگر علاقوں میں پارٹی مضبوط ہوگی آئندہ الیکشن میں نیشنل پارٹی کی کارکردگی بہتر ہوگی ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ حاجی نثار کی شمولیت سے نیشنل پارٹی نصیر آباد اور سبی ڈویژن میں مزید مضبوط ہوگی پارٹی اب نصیر آباد میں نمائندگی حاصل کر چکی ہے حاجی نثار الیکشن میں 8 ہزار ووٹ لے چکے ہیں۔ راحب بلیدی ودیگر کی کوششوں سے یہ ممکن ہواہے

حاجی نثار سے بہت عرصے سے بات چیت کا سلسلہ جاری تھا آج ہم نے اہم کامیابی حاصل کی ،انہوں نے کہاکہ حاجی نثار بھی نیشنل پارٹی کے مشن جمہوریت کی بحالی ،پارلیمنٹ کی بالادستی ،عدلیہ اورمیڈیا کی آزادی کیلئے جدوجہد کا حصہ ہونگے ۔ڈاکٹر مالک بلوچ نے کہا کہ نیشنل پارٹی پارلیمنٹ سے باہر ہے سینیٹ میں صرف دو سینیٹرز ہیں اگر حکومت دو سینیٹرز سے گرائی جاسکتی ہے تو ہم ابھی استعفیٰ دے دیں گے استعفوں سے متعلق پی ڈی ایم کے حصہ داروں سے پوچھا جائے نیشنل پارٹی نے ہمیشہ واضح موقف رکھاہے ۔انہوں نے کہاکہ نیشنل پارٹی مجموعی طورپر ہرقسم کی قربانی کیلئے تیارہے گزشتہ الیکشن میں ٹھپے لگا کر نیشنل پارٹی کے امیداروں کو ہروایا گیا

وقت بڑا استاد ہے ہم نے تمام معاملات وقت پر چھوڑ دئےے ہیں ،اس وقت بعض دوستوں نے نیشنل پارٹی اعتراض کیاتھاکہ ڈاکٹرمالک بلوچ نے ریکوڈک بیچ دیاہے اگر کوئی ایک پتھر بھی ثابت کرے کہ تو ہم تیار ہیں ،انہوں نے کہاکہ وہ ڈاکٹر مالک بلوچ ہی تھے جنہوں نے ریکوڈک جیسے منصوبے کا تحفظ کیاہے یہاں ہمیشہ جمہوری کارکن پر نزلہ گرایاجاتاہے ہم چاہتے ہیں کہ ریکوڈک منصوبے سے متعلق تفصیلات عوام کے سامنے رکھی جائیں ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ نیشنل پارٹی نے پہلا پیدل لانگ مارچ کے ذریعے پٹ فیڈر کینال و دیگر مسائل اجاگر کئے کچھی پٹ فیڈر اور کھیتر کینال کو نصیر آباد کے اصلی وارثوں کے حوالے کریں گے ، ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ جب نیشنل پارٹی پارلیمان کا حصہ نہیں ہے تو پھر دعوت دیکر کیا ثابت کرناچاہتے ہیں سوال یہ ہے کہ اسمبلی ممبر نہ ہونے کے باوجود ہم کیسے اسمبلی میں بیٹھ سکتے ہیں معاملات باہر آنے کے بعدوقت آنے پر ریکوڈک کا پوسٹ مارٹم کرکے سب کچھ عوام کے سامنے رکھا جائے گا۔گوادر کا تحفظ اور باڑ کے خلاف نیشنل پارٹی نے ہی مضبوط تحریک چلائی تھی ،انہوں نے کہاکہ ہم واضح کرتے ہیں کہ سی پیک سے بلوچستان میں ایک روپیا خرچ نہیں ہوا ہے ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.