علی ظفر سے پہلی ملاقات کیسے ہوئی؟ اہلیہ عائشہ فضلی نے بتادیا

0 23

گلوکار علی ظفر کی اہلیہ عائشہ فضلی بہت کم میڈیا پر نظر آتی ہیں اور نہ ہی وہ سوشل میڈیا پر متحرک رہتی ہیں جبکہ علی ظفر اور میشا شفیع کے کیس میں بھی عائشہ نے زیادہ تر خاموشی اختیار کی تھی ۔

گلوکار علی ظفر کی اہلیہ عائشہ فضلی نے گزشتہ روز اپنے انسٹاگرام پر سوال جواب کا سیشن رکھا، جس میں ان کے مداحوں نے ان کی زندگی کے حوالے سے مخلتف سوال کئے ۔

ایک صارف نے سوال کیا کہ آپ اور علی کس عمر میں اور کیسے ملے تھے ؟ جس کے جواب میں عائشہ نے بتایا کہ علی ظفر نے ان کے چہرے کا خاکہ بنایا تھا اس وقت عائشہ کی عمر 16 برس جبکہ علی کی عمر 19 برس تھی ۔

بعدازاں علی ظفر نے اپنے انسٹا اسٹوری پر عائشہ فضلی خود سے بنائی گئی پینٹگ شیئر کی جو انہوں نے پہلی بار بنائی تھی۔ علی ظفر تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ یہ وہ تصویر ہے جو میں نے عائشہ سے پہلی ملاقات کے بعد بنائی تھی ۔

علی ظفر نے بھی یہی بتایا کہ یہ خاکہ میں نے سال 1999 میں بنایا تھا اس وقت میری عمر 19 اور عائشہ کی عمر 16 برس تھی اور ہم ایک دوسرے پیار میں مبتلا ہوگئے تھے ۔

علی ظفر کی اسٹوری کو عائشہ نے اپنی انسٹا اسٹوری پر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ مجھے یہ تصویر یاد ہے ایسا لگتا ہے کہ جیسے یہ کل ہی بنائی گئی ہو ۔

اسی دوران ان سے علی ظفر اور میشا شفیع کے کیس کے حوالے سے بھی سوال کیا گیا کہ کیا انہیں یقین ہے کہ علی بے گناہ ہے؟ کیونکہ بیوی سے زیادہ شوہر کو اور کوئی نہیں جان سکتا۔

اس سوال پر عائشہ نے جواب دیا کہ یقیناً! جب بلیک میلنگ شروع ہوئی تو میں وہاں موجود تھی اور میں دیکھا کہ سارا معاملہ کیسے ہوا، کون لوگ ملوث تھے، بہت کچھ ہے جس کا ہم نے پردہ فاش کیا۔

ایک سوال میں ان سے پوچھا گیا کہ اگر ان کے پاس دو آپشن ہوں کہ یا تو پاکستان میں رہیں یا دنیا کے کسی دوسری ملک میں تو کہاں رہنا پسند کرینگی ، جس پر عائشہ نے انگلینڈ کا انتخاب کیا ۔

یہ پوچھا گیا کہ جب آپ کو اغوا کیا گیا تھا اس واقع کے بارے میں بتائیں، جس پر عائشہ نے کہا کہ بہت سالوں پہلے کی بات ہے ہمیں ایک میوزک شاپ کے باہر سے 3 گھنٹے کیلئے اغوا کیا گیا تھا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق سال 2008 میں علی اور عائشہ کو صرف چند گھنٹے کے لئے اغوا کیا گیا تھا اغوا کار نے ان کے والدین سے پچیس لاکھ روپے وصول کرکے رہا کیا تھا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.