پشتون تاریخ میں کھبی دہشت گرد نہیں رہے ، عبید اللہ جان بابت

0 124

لورالائی(امروز نیوز) پشتون خواءمیپ کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری سابق صوبائی وزیر عبید اللہ جان بابت نے کہا ہے کہ پشتون تاریخ میں کھبی دہشت گرد نہیں رہے بلکہ دہشت گردی کا شکار رہے ہیں انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف بے نامی جنگ میں قبائلی علاقوں اب تک اسی ہزار پشتونوں کا ناحق خون بہا یا گیا اور اپنے ہی ملک میں مہاجرین کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں انہوں نے کہا کہ مقتدر قوتیں پشتونوں کو دہشت گرد قرار دینے کی کوشش میں لگے ہیں وزیر ستان اور فاٹا میں پشتونوں کے گھرمسمار اور انھیں بیدخل کرنے اور ان پر سیاسی پابندیوں کی ہمارے ائین اور قانون میں کوئی اجازت نہیں ہے انہوں نے کہا کہ پشتون خوامیپ تمام محکوم اقوام کے حقوق کی بات کرتی ہے ہم پاکستان کے سب سے زیادہ خیر خواءاور ہمدرد ہیں لیکن غلامی کی زندگی کے کسی صورت قائل نہیں اپنے ہی ازاد ملک میں کسی طرع غلام نہیں رہ سکتے ہمیں وہ تمام حقوق ملنے چاہیئے جو دوسرے اقوام کو حاصل ہیں انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں جان بوجھ کر پشتونوں کے سیاسی قائدین کو تواتر کے ساتھ انکی ٹار گٹ کلنگ کی جارہی ہے چمن میں مولانا محمد حنیف اور مسلم باغ لیویز اہلکار کی شہادت موجودہ حکومت کی ناکامی ہے ہم پر زندگی تنگ کرنے والی حکومت کو بھی ایکدن جواب دینا پڑیگا انہوں نے کہا کہ ٹارگٹ کئے جانے والوں کے قاتلوں کو حکومت نے اج تک گرفتار نہیں کیا جو کہ ایک سوالیہ نشان ہے مر بھی ہم رہے ہیں اور دہشت گردی کا لیبل بھی ہم ہی پر لگایا جارہا ہے ہم اس ناانصافی کے خلاف اور اپنی بقاءکی جنگ لڑ رہے ہیں انہوں نے لورالائی سنجاوی مسلم باغ چمن میں دہشت گردی کے واقعات میں شہداءکے اصل قاتلوں کی جلد گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ایسا نہ ہو کہ پشتون خواءمیپ سڑکوں پر نکل ائے اور حکومت کو پھر حالات کنٹرول کرنا مشکل پڑے ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.