ایک مثالی معاشرہ انصاف اور توازن سے بنتی ہے ، جام کمال

0 133

کوئٹہ ( امروز نیوز)وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہا ہے کہ ایک مثالی معاشرے کی بنیاد انصاف اور توازن پر مبنی ہوتی ہے، انسان کسی ایک معاشرے کا حصہ ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے نظام کے تحت مختلف قوم، قبیلوں اور معاشروں میں تقسیم ہیں جہاں ہر معاشرہ اپنا ایک نظام بناتا ہے، اسلام نے ہمیںایک مکمل ضابطہ حیات دیا ہے جس پر عمل پیرا ہوکر ایک بہترین معاشرہ تشکیل دیا جاسکتا ہے، قدرت کا نظام بھی انصاف اور توازن پر قائم ہے جن معاشروں میں انصاف نہیں ہوتا ان میں بگاڑ پیدار ہوتا ہے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے عالمی ہفتہ انسداد بدعنوانی کی مناسبت سے اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ بلوچستان کے زیراہتمام نیب کے اشتراک سے منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا، صوبائی مشیر عبدالخالق ہزارہ، چیف سیکریٹری بلوچستا فضیل اصغر، ڈی جی نیب بلوچستان فرمان اللہ خان، ایڈیشنل آئی جی پولیس اکرم نعیم بھروکہ، صوبائی سیکریٹریز اور دیگر حکام بھی سیمینار میں شریک تھے، وزیراعلیٰ نے اپنے تفصیلی خطاب میں کہا کہ یہ ایک افسوس ناک امر ہے کہ ہم کسی مسئلے اور مرض کی تشخیص سے پہلے ہی نتیجہ اخذ کرلیتے ہیں اور فیصلہ سازی میں مصلحتوں کا شکار ہوجاتے ہیں جس سے نظام بری طرح متاثر ہوتا ہے، انہوں نے کہا کہ ہمیں نظام میں بنیادی تبدیلیوں کی ضرورت ہے جو بظاہر آسان نہیں لیکن اگر صحیح فرد صحیح مقام پر کام کرے گا تو امور کی انجام دہی میں بہتری آنا شروع ہوجائے گی، وزیراعلیٰ نے کہا کہ لوگوں کو ضروریات زندگی اور بنیادی سہولیات کی فراہمی سے سماجی اور معاشی طور پر ایک مثالی معاشرے کی تشکیل ممکن ہے، انہوں نے کہا کہ مثالی معاشروں میں قانون کی عملداری سب کے لئے یکساں طور پر ہوتی ہے اور نظام ہر قسم کے دبا¶ سے آزاد ہوتا ہے، انہوں نے کہا کہ معاشروں میںاچھائی اور برائی ساتھ ساتھ چلتی ہیں لیکن جہاں بے انصافی اور معاشرتی ناہمواری میں اضافہ ہوتا ہے وہیں سے بدعنوانی اور بے چینی کا آغاز ہوتا ہے، وزیراعلیٰ نے کہا کہ جب ہم اپنے ذاتی امور کی انجام دہی میں کمال ڈھونڈتے ہیں تو پھر حکومتی امور کی انجام دہی میں بھی پرفیکشن کیوں نہیں لائی جاتی، انہوں نے کہا کہ فیصلہ سازی میں جلد بازی ،سمجھوتے اور ذاتی پسند ناپسند سے میرٹ کی پامالی ہوتی ہے، انہوں نے کہا کہ میرٹ کو یقینی بنانے اور توازن برقرار رکھنے کے لئے جزا اور سزا کے تصور کو عملی جامہ پہنانا ضروری ہے، وزیراعلیٰ نے کہا کہ بدعنوانی کا خاتمہ بھی نظام کی بہتری کے ذریعہ ہی ممکن ہے، مغرب میں بدعنوانی میں کمی نظام کی بہتری کے ذریعہ ہی لائی گئی ہے، وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہماری ضروریات اور معاشرتی تقاضے مختلف ہیں عوام کی حکومت اور اداروں سے بہت سی توقعات وابستہ ہیں جن پر پورا اترنا ضروری ہے جس کی بنیادی شرط انصاف کا قیام اور معاشرتی ناہمواری کا خاتمہ ہے، انہوں نے کہا کہ جب سمت صحیح نہ ہو تو ہم غیر متعلق امور میں اپنی صلاحیتیں ضائع کرتے ہیں، نظم وضبط کا قیام حکومت کی ذمہ داری ہے، سینئر افسروںکا فرض ہے کہ وہ نظام کو بہتر بنائیں اس طرح ان پر بھی دبا¶ کم ہوگا اور انہیں سمجھوتے نہیں کرنے پڑیں گے، وزیراعلیٰ نے کہا کہ معاشرے میں ایک بڑی تعداد ایسے لوگوں کی ہے جو معاشرتی فرق کی وجہ سے سیاستدانوں اور صاحب حیثیت لوگوں کوپسند نہیں کرتے ۔ اگر اس فرق میں کمی نہ لائی گئی تو اس کے نتائج خطرناک بھی ہوسکتے ہیں، وزیراعلیٰ نے کہا کہ بدعنوانی کی روک تھام کے لئے بتدریج اصلاحات لائی جائیں گی جن کے ذریعہ بہتری کا عمل شروع ہوجائے گا، وزیراعلیٰ نے کہا کہ یہ ہم سب کی اخلاقی اور سماجی ذمہ دار ی ہے کہ معاشرے سے بدعنوانی کا خاتمہ کرتے ہوئے ایک بہتر نظام قائم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں، حکومت بدعنوانی کے مکمل خاتمے کے لئے سنجیدہ ہے اور حکومتی کوششوں سے بڑے پیمانے اور سطح پر بدعنوانی کم ہوئی ہے، اب ہم نچلی سطح پر بھی بدعنوانی کے خاتمے کی جانب آئیں گے، سیمینار سے چیف سیکریٹری بلوچستان فضیل اصغر، ڈی جی نیب فرمان اللہ خان ، ایڈیشنل آئی پولیس اکرم نعیم بھروکہ، سماجی شعبہ کی نمائندہ فاطمہ اقبال خان اور انسانی حقوق کی تنظیم کے نمائندہ نے بھی خطاب کیا جبکہ ڈائریکٹر اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ ایاز احمد بلوچ نے سپاسنامہ پیش کیا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.