حکومت کی عالمی مالیاتی فنڈ کے شرائط کے تحت منی بجٹ رہی سہی معاشی سرگرمیوں کو بھی زمین بوس کریگا، جان محمد بلیدی

0 135

غریب عوام کو حکومت کی غلطیوں کا خمیازہ مہنگائی اور بے روزگاری کی صورت میں بھگتنا پڑے گا ، سیکرٹری جنرل نیشنل پارٹی
کوئٹہ( امروز ویب ڈیسک)نیشنل پارٹی کے مرکزی سکریٹری جنرل جان محمد بلیدی نے کہاکہ حکومت کی عالمی مالیاتی فنڈ کے شرائط کے تحت منی بجٹ رہی سہی معاشی سرگرمیوں کو بھی زمین بوس کریگا،حکومت کی غلطیوں کا خمیازہ غریب عوام کو مہنگائی اور بے روزگاری کی صورت میں بھگتنا پڑے گا۔ موجودہ منی بجٹ کسی صورت بھی قابل قبول نہیں۔ مجوزہ منی بجٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے

کہ وفاقی و صوبائی حکومتوں کی تین سالہ بیڈ گورننس نے عام آدمی کا زندہ رہنا پہلے زیادہ مشکل بنا دیا ہے حالیہ منی بجٹ آئی ایم ایف کے طے شدہ شیڈول کے مطابق 350 ارب روپے جو ٹیکس چھوٹ تھا ایسے ختم کیا جارہا ہے اور جو ٹیکس چھوٹ تھی ایسے واپس لیا جارہا ہے موجود ٹیکس تجاویز سے پیٹرولیم لیوءسمیت اسٹیشنری اور بعض فوڈ آٹیم میں اضافے کا سبب بن جائے گا

جس کے برائے راست اثرات عام آدمی پر پڑیں گے۔انھوں نے کہاکہ حالیہ منی بجٹ کے بعد پاکستان کو آئی ایم ایف سے ایک عرب ڈالر کی قسط وصولی کا امکان ہے انھوں نے کہاکہ تحریک انصاف کی حکومت نے گزشتہ تین سالوں کے درمیان 20 کھرب روپے کا قرضہ بین الاقوامی اداروں سے حاصل کی ہے جو مجموعی قرضے کا 40 فیصد بنتے ہیں اس وقت ملک پر مجموعی قرضہ 50 کھرب ہے غلط معاشی پالیسیوں کے سبب ملک روز مزید مشکلات و مسائل کا شکار ہوتا جارہا ہے مہنگائی و بے روزگاری بڑھتی جارہی ہے

جبکہ لوگوں کی آمدنی اور تنخواہوں میں اضافہ نہ ہونے کے برابر ہے حکومتی غلط معاشی پالیسیوں کی وجہ سے عوام کی رہی سہی قوت خرید بھی ختم ہوکر رہ گئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ عمران حکومت نے اپنے پہلے بجٹ میں قوم سے یہ وعدہ کیاتھا کہ فلاعی ریاست میں پیش کیئے جانےوالے اس بجٹ کے بعد غربت کی چکی میں پسے ہوئے عوام پر منی بجٹ کابوجھ نہیں لاداجائےگااور نہ ہی آئی ایم ایف سے رجوع کیا جائےگا لیکن اسکے بعد ہر بجٹ میں حکومت کی کارکردگی کامعیارگرتے گرتے مائنس ہوچکا ہے آئی ایم ایف سےقرض نہ لینےکا عہد کرنے والے حکمرانوں نےچھ ارب ڈالر کے قرضے کےلئے نہایت حقیر اور توہین آمیز شرائط پرملک اور 22 کروڑعوام کو آئی ایم ایف کی غلامی کاطوق پہنا دیا ہے حکومت کی ناکام معاشی پالیسیوں کا اندازہ اس بات س لگایا جا سکتا ہے

کہ ساڑھےتین سال کے عرصے میں یہ چوتھا وزیرخزانہ ہیں، شوکت ترین کا تعلق نہ توکسی سیاسی جماعت سے ہے اورنہ ہی یہ صاحب ماہر معاشیات ہیں یہ محض بینکر اور بین القوامی سامراجی ادارے آئی ایم ایف کےآلہ کارہیں بینکرکے پاس عوام کوریلیف دینے کی کوئی ٹریک نہیں ہوتی انکاکام عوام کی رگوں سے خون نچوڑنا اور بین الاقوامی ادارے کی خوشنودی حاصل کرنا ہوتا ہے۔ مرکزی سکریٹری جنرل نے کہاکہ تشویشناک امر یہ ہے کہ موجودہ حکومت اپنی غلطیوں اور ناکامیوں تسلیم کرکےدرست سمت اختیار کرنے کے بجائے فخریہ انداز اختیار کرکے مہنگائی، بے روزگاری اور بدامنی کے طوفان میں گیرے ہوئے عوام کے زخموں پرنمک پاشی کررہی ہے

انہوں نے کہاآج ہمارے ملک کاسب سے بڑا مسئلہ مہنگائی ،بےروزگاری، لاقانونیت اور انصاف کی فراہمی ہے اس بدترین صورتحال پراحتجاج کرنے والے اپوزیشن کو جھوٹے اور بے بنیاد مقدمات میں الجھایا جارہا ہے، انہوں نے کہاکہ ایک آزاد اور خودمختارملک کی حکومت لیے یہ بات باعث شرم ہونی چاہیے کہ وہ سامراجی معاشی اداروں کی ایما پر عوام کو دی گئی ٹیکسوں میں چھوٹ اور دیگر مراحات کاخاتمہ کرکے مہنگائی اور بے روزگاری کا سامان کرے اور حکومت کے350ارب روپے کے منی بجٹ کی وجہ سےرہی سہی معاشی سرگرمیاں بھی زمین بوس ہوجائیں گی۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.