عوام کے جان و مال کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے،وزیراعلیٰ بلوچستان

0 170

کوئٹہ (امروز ویب ڈیسک) وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہاہے کہ اگر حکومت بلوچستان کے استعفیٰ سے داعش کامسئلہ حل ہوتا تو حکومت پاکستان مستعفیٰ ہوجاتی ،دہشتگردی روزمرہ کے واقعات نہیں بلکہ ڈیزائنڈ اور فنانسڈ ہیں ،دہشتگردی جیسے ناسور کامقابلہ کرنے کیلئے ایک دوسرے کو کمزور کرنے کی بجائے متحد ہوکر آپس میں اتحادواتفاق اور یکجہتی پیدا کرنا ہوگی ،عوام ہماری ہے وزیر اعظم، صدر وزراءسب آئیں گے اور لواحقین سے تعزیت کرینگے ،بلوچستان میں سیکورٹی صورتحال کو بہتر بنانے کیلئے اقدامات جاری ہے

انہوں نے کہکاکہک وزیر اعظم آئیں گے لیکن میتو ں کی تدفین کو ان کی آمد کے ساتھ مشروط نہ کیا جائے، قبائلی روسم ورواج کے مطابق خاتون رکن اسمبلی کے ساتھ میڑھ لے کرآئے ہیں۔مچھ واقعہ کے لواحقین اور دھرنے کے شرکاءسے وزیراعلیٰ بلوچستان اور وفاقی وزراءکے ایک بار پھر مذاکرات ناکام ،دھرنا منتظمین نے وزیراعظم کے آنے سے میتوں اور دھرنا ختم کرنے کو مشروط کردیا۔بدھ کے روز وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال کی قیادت میں وفد نے مغربی بائی پاس شاہراہ پر مچھ واقعہ کے لواحقین اور مجلس وحدت المسلمین کی جانب سے جاری دھرنے کے منتظمین سے مذاکرات کئے اس موقع پر وفاقی وزیر علی زیدی ،وزیراعظم کے معاﺅن خصوصی سید عباس بخاری ،ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری ،صوبائی وزراءمیر ضیاءاللہ لانگو ،انجینئر زمرک خان اچکزئی ،پارلیمانی سیکرٹری بشریٰ رند ،چیف سیکرٹری کیپٹن(ر) فضیل اصغر ودیگر بھی موجود تھے ۔وزیراعلیٰ نے دھرنے کے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ میں مچھ واقعہ سے ایک دن قبل دبئی گیا تھا

میڈیا پر غلط خبریں نشر کی گئی بلوچستان کو جلتے سب نے دیکھاہے دس سال پہلے کوئٹہ کی حالت کیسی تھی سب کو پتہ ہے لیکن ہم نے ایک محنت کی اورڈھائی سالہ حکومتی مدت کے دوران ہم نے بہت سے چیزوں کو بہتر کیاہے ،صوبائی دارالحکومت کوئٹہ ہم سب کا مشترکہ شہر ہے ،ہم نے ہمیشہ سب کوسوچا کبھی ایک کمیونٹی کا نہیں سوچا اگر یہاں حالات خراب ہوںگے تو اس کے نتائج ہم سب بھگتیںگے مچھ واقعہ سے بلوچستان ایک بار پھر لہو لہان ہوگیاہے جس سے ہم سب کو نقصان ہواہے موت انسان کے ہاتھ میں نہیںبلکہ اللہ کے ہاتھ میں ہے غفلت پر میں اور میری کابینہ سمیت ہرشخص جواب دہ ہیں بلوچستان میں بیرونی طاقتوں کی دخل اندازی کا سب کو معلوم ہے ہم یہاں سیاست کرنے نہیں آئے ہیں بلوچستان نے ہمیشہ سے مشکل حالات کامقابلہ کیاہے امام بارگاہ فاتحہ خوانی کیلئے گیاتھا

صوبے کے مسائل ہم اور آپ نے مل کر حل کرناہے ،اگر ہم نیت ٹھیک کرینگے تو مسائل حل کرنے میں آسانی ہوگی،ٹیکنالوجی کادور ہے کوئی شے چھپ نہیں سکتا مچھ واقعہ بہت ناخوشگوار واقعہ گزرا ،میں بحیثیت وزیراعلیٰ ایک ذمہ دار ہوں ، میری آپ سے اپیل اور التجاءہے کہ لواحقین میتوں کی تدفین کرکے دھرنا ختم کرے ،وزیراعظم گورنر سمیت سب آئیںگے اور آپ کے ساتھ اپنے احساسات شیئر کرینگے مسائل شروع دن سے آخر تک رہیںگے لیکن اگر کوشش کی جائے تو ان مسائل کو حل کیاجاسکتاہے ،نیتوں میں فطور سے کبھی بھی مسائل حل نہیں ہونگے ،لواحقین جس غم سے گزررہے ہیں ان احساسات میں نہیں بتا سکتا اگر عمران خان کے آنے سے یہاں مسئلے حل ہوتے تو وہ دو منٹ نہیں لگیںگے یہاں آنے میں ،اگر آئے تو وہ کہیں گے کہ یہ مسائل صوبائی حکومت کے ہیں ،چاغی کے روٹ سے گزرنا زائرین کیلئے بہت بڑا عذاب تھا لیکن آج حالات قدرے بہتر ہے ۔وزیراعظم عمران خان سے میری بات ہوئی ہیں وزیراعظم نے اعلان کیاہے کہ وہ ورثاءکے پاس خود آئیںگے

،حالات جیسے بھی ہوں وزیراعظم کو آنا چاہےے ۔اس سے قبل صدر پاکستان بھی آئے تھے ۔مچھ واقعہ کے لواحقین اور دھرنے کے شرکاءسے وزیراعلیٰ بلوچستان اور وفاقی وزراءکے ایک بار پھر مذاکرات ناکام ،دھرنا منتظمین نے وزیراعظم کے آنے سے میتوں اور دھرنا ختم کرنے کو مشروط کردیا۔بدھ کے روز وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال کی قیادت میں وفد نے مغربی بائی پاس شاہراہ پر مچھ واقعہ کے لواحقین اور مجلس وحدت المسلمین کی جانب سے جاری دھرنے کے منتظمین سے مذاکرات کئے اس موقع پر وفاقی وزیر علی زیدی ،وزیراعظم کے معاﺅن خصوصی سید عباس بخاری ،ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری ،صوبائی وزراءمیر ضیاءاللہ لانگو ،انجینئر زمرک خان اچکزئی ،پارلیمانی سیکرٹری بشریٰ رند ،چیف سیکرٹری کیپٹن(ر) فضیل اصغر ودیگر بھی موجود تھے ۔وزیراعلیٰ نے دھرنے کے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ میں مچھ واقعہ سے ایک دن قبل دبئی گیا تھا میڈیا پر غلط خبریں نشر کی گئی بلوچستان کو جلتے سب نے دیکھاہے دس سال پہلے کوئٹہ کی حالت کیسی تھی سب کو پتہ ہے لیکن ہم نے ایک محنت کی اورڈھائی سالہ حکومتی مدت کے دوران ہم نے بہت سے چیزوں کو بہتر کیاہے ،صوبائی دارالحکومت کوئٹہ ہم سب کا مشترکہ شہر ہے ،ہم نے ہمیشہ سب کوسوچا کبھی ایک کمیونٹی کا نہیں سوچا اگر یہاں حالات خراب ہوںگے

تو اس کے نتائج ہم سب بھگتیںگے مچھ واقعہ سے بلوچستان ایک بار پھر لہو لہان ہوگیاہے جس سے ہم سب کو نقصان ہواہے موت انسان کے ہاتھ میں نہیںبلکہ اللہ کے ہاتھ میں ہے غفلت پر میں اور میری کابینہ سمیت ہرشخص جواب دہ ہیں بلوچستان میں بیرونی طاقتوں کی دخل اندازی کا سب کو معلوم ہے ہم یہاں سیاست کرنے نہیں آئے ہیں بلوچستان نے ہمیشہ سے مشکل حالات کامقابلہ کیاہے امام بارگاہ فاتحہ خوانی کیلئے گیاتھا صوبے کے مسائل ہم اور آپ نے مل کر حل کرناہے ،اگر ہم نیت ٹھیک کرینگے تو مسائل حل کرنے میں آسانی ہوگی،ٹیکنالوجی کادور ہے کوئی شے چھپ نہیں سکتا مچھ واقعہ بہت ناخوشگوار واقعہ گزرا ،میں بحیثیت وزیراعلیٰ ایک ذمہ دار ہوں ، میری آپ سے اپیل اور التجاءہے کہ لواحقین میتوں کی تدفین کرکے دھرنا ختم کرے

،وزیراعظم گورنر سمیت سب آئیںگے اور آپ کے ساتھ اپنے احساسات شیئر کرینگے مسائل شروع دن سے آخر تک رہیںگے لیکن اگر کوشش کی جائے تو ان مسائل کو حل کیاجاسکتاہے ،نیتوں میں فطور سے کبھی بھی مسائل حل نہیں ہونگے ،لواحقین جس غم سے گزررہے ہیں ان احساسات میں نہیں بتا سکتا اگر عمران خان کے آنے سے یہاں مسئلے حل ہوتے تو وہ دو منٹ نہیں لگیںگے یہاں آنے میں ،اگر آئے تو وہ کہیں گے کہ یہ مسائل صوبائی حکومت کے ہیں ،چاغی کے روٹ سے گزرنا زائرین کیلئے بہت بڑا عذاب تھا لیکن آج حالات قدرے بہتر ہے ۔وزیراعظم عمران خان سے میری بات ہوئی ہیں وزیراعظم نے اعلان کیاہے

کہ وہ ورثاءکے پاس خود آئیںگے ،حالات جیسے بھی ہوں وزیراعظم کو آنا چاہےے ۔اس سے قبل صدر پاکستان بھی آئے تھے ۔وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال وفاقی وزراءسید زلفی بخاری، علی زیدی ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری بدھ کے روز کوئٹہ میں ولی عصر امام بارگاہ گئے اور علماءاہل تشیع و ہزارہ کمیونٹی کے معززین سے ملاقات کی اس موقع شہداءسانحہ مچھ کے لئے دعا بھی کی گئی اس موقع وزیر اعلی بلوچستان جام کمال خان نے نے کہاکہ سیکورٹی کی صورتحال کی بہتری کے لئے کوششیں جاری ہیں پاکستان اور بلوچستان کے دشمن امن نہیں چاہتے وفاقی اور صوبائی حکومتیں تمام مشکلات کے باوجود امن و ترقی کے لئے کوشاں ہیں مچھ میں پیش آنے والا واقعہ درد ناک ہے جس کی بھرپور مذمت کرتے ہیں مچھ واقعہ میں ملوث عناصر کو سخت سے سخت سزا دی جائے گئی اور ملوث عناصر کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا جام کمال خان نے کہا متاثرہ خاندانوں سے اظہار یکجہتی و تعزیت کے لئے صدر وزیر اعظم، وزراءسب آئیں گے ہم سب کو اس واقعہ پر دلی دکھ ہوا ہے اور پوری قوم سوگوار ہے یقین دلاتے ہیں کہ واقعہ کی تفتیش پوری تندہی سے کی جائے گی اور ہر پہلو سے کی جائے گی۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.