مستونگ میں میرٹ کی کوئی نام ونشان نہیں نیشنل پارٹی، بی ایس او پجار
مستونگ(نامہ نگار) نیشنل پارٹی مستونگ کے صدر نواز بلوچ سینئر نائب صدر حاجی نزیر آحمد سرپرہ تحصیل مستونگ کے صدر نثار مشوانی میر سکندر خان ملازئی محمد گل شاہوانی آغا انور شاہ کامریڈ اعجاز بنگلزئی بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پجار کے مرکزی رنماء بابل ملک بلوچ زونل صدر ناصر بلوچ جنرل سیکریٹری نثار بلوچ رئیس ناصر احمد سارنگزئی و یگر نے اپنے ایک مشترکہ جاری کردہ پریس ریلیز میں محکمہ تعلیم مستونگ کی جانب سے نان ٹیکنیکل پوسٹوں کے ٹیسٹ و انٹریوز کے میرٹ لسٹ آوازاں کرنے سے پہلے راتوں رات سفارش اور اقربا پروری کی بنیاد پر 80 کے قریب اپنے من پسند افراد کو نوازنے کی شدید الفاظ میں مزمت کرتے ہوئے کہا کہ میرٹ اور شفافیت کی دعوے دار موجودہ سلکٹڈ اور کھٹپتلی حکومت کے لیے باعث شرم کا مقام ہے۔۔انھوں نے کہا کہ آسامیوں کی سلکشن کمیٹی کے چیرمین اور ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر نے مل کر میرٹ کا گلہ گونٹ کر سیکنڑوں پڑے لکھے اور حقدار نوجوانوں کو مایوس کرکے انکی حقوق پر جو غیر قانونی ڈاکہ ڈالا گیا ہے۔۔ نیشنل پارٹی اس مجرمانہ عمل پر کسی خاموشی اختیار نہیں کر ینگے۔۔۔انھوں نے کہا کہ نیشنل پارٹی کا روز اول سے یہی موقف رہا ہے کہ میرٹ کو ترجیح دے کر من پسند افراد کو سفارش اور اقرباء پروری جیسے غیر قانونی اقدامات کی حوصلہ شکنی کی جائے۔۔لیکن یہاں میرٹ کے قواعد و ضوابط کو پس پشت ڈال کر میرٹ کی بد ترین پامالی کی گئی۔انھوں نے کہا کہ حالیہ پوسٹوں کی بولی لگانے والے موجودہ ڈی ای او مستونگ ایک نا اہل اور متنازعہ شخص ہے جوکھلے عام حکمران جماعت کی مفادات کے لیے سر گرم نظر آتے ہے اور موصوف نے محکمہ ایجوکیشن کے تمام 80 کے قریب خالی آسامیوں پر حکمران جماعت کے افراد کو بھرتی کروا کر کرپشن و اقربا پروری کی ایک نئی مثال قائم کر دی ہے موصوف کا یہ عمل میرٹ کی دعوے دار سلکٹڈ وزیر اعلی اور انکی کھٹپتلی حکومت کی چہرے پر طمانچہ کے مترادف ہے۔۔۔نیشنل پارٹی اور بی ایس او پجار کے رنماوں نے کہا کہ ہم چیف سیکریٹری بلوچستان اور سیکریٹری تعلیم سے مطالبہ کرتے ہے کہ محکمہ تعلیم مستونگ کی نان ٹیکنیکل آسامیوں کے موجودہ خفیہ میرٹ لسٹ اور من پسند تعیناتی آرڈرز کو فلفور کینسل کر کے ازسر نو میرٹ لسٹ ترتیب دے کر عوام کے سامنے لاکر تعیناتی آرڈرز جاری کیے جائے اور ملوث زمہ داروں کے خلاف اعلی سطحی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دیا جائے۔۔بصورت دیگر نیشنل پارٹی ان غیرقانونی اقدامات کے لیے ہر فورم پر بھر پور آواز بلند کر کے انصاف کے حصول کے لیے عدالت عدلیہ کا بھی دروازہ کھٹکٹائیں۔۔