طالبان پر تنقید کرنے پر افغان پروفیسر کو گرفتار کرلیا گیا

طالبان پر تنقید کرنے پر افغان پروفیسر کو گرفتار کرلیا گیا

پروفیسر جلال کوسوشل میڈیا پر لوگوں کو بغاوت پر اکسانے جیسے بیانات پر حراست میں لیا گیا ،طالبان ترجمان
کابل(امروز ویب ڈیسک)طالبان حکومت کے ایک ترجمان نے بتایا ہے کہ حکومت پر کھل کر تنقید کرنے والے افغان یونیورسٹی کے ایک ممتاز پروفیسر فیض اللہ جلال کو کابل میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق اگست میں امریکی حمایت یافتہ سابقہ حکومت کے خاتمے کے بعد سے پروفیسر فیض اللہ جلال نے ٹیلی ویژن ٹاک شوز میں کئی بار شرکت کی،

انہوں نے طالبان کو بگڑتے ہوئے مالیاتی بحران کا ذمہ دار ٹھہرایا اور ان پر طاقت کے ذریعے حکومت کرنے پر تنقید کی۔اقتدار میں واپسی کے بعد سے طالبان نے اختلاف رائے رکھنے والوں پر کریک ڈان کیا ہے، خواتین کے حقوق کے احتجاج کو زبردستی منتشر کیا ہے اور کئی افغان صحافیوں کو مختصر دورانیے کے لیے حراست میں بھی لیا ۔طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ٹویٹ کیا کہ پروفیسر جلال کوسوشل میڈیا پر دیے گئے

بیان پر حراست میں لیا گیا ہے، ان بیانات میں وہ لوگوں کو نظام کے خلاف اکسانے کی کوشش کر رہے تھے اور لوگوں کے وقار سے کھیل رہے تھے۔انہوں نے مزید کہا کہ انہیں اس لیے گرفتار کیا گیا ہے تاکہ دیگر لوگ پروفیسر یا اسکالر ہونے کے نام پر ایسے تبصرے نہ کریں جس سے دوسروں کے وقار کو نقصان پہنچے۔ذبیح اللہ مجاہد نے ان ٹویٹس کے اسکرین شاٹس شیئر کیے جن کے بارے میں ان کا دعوی تھا

کہ وہ پروفیسرجلال نے پوسٹ کی تھیں، ان ٹوئیٹ میں کہا گیا تھا کہ طالبان انٹیلی جنس چیف پاکستان کا کٹھ پتلی ہے، اور نئی حکومت افغانوں کو گدھا سمجھتی ہے۔ایک ٹیلی ویژن پروگرام میں پروفیسر جلال نے طالبان کے ترجمان محمد نعیم کو جو اس پروگرام میں موجود تھے کو بچھڑا کہہ دیا تھا جوکہ افغانستان میں بے عزتی سمجھا جاتا ہے۔ان کی پرجوش تنقید کے کلپس سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئے تھے، جس سے خدشات پیدا ہوئے کہ وہ طالبان کے انتقام کا خطرہ مول لے رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں