افغانستان کے عوام غیر ملکی حکمران قبول نہیں کرتے، وزیراعظم
اسلام آباد(امروز ویب ڈیسک)وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ امریکا اور چین کے درمیان رقابت کے بجائے صحت مند مقابلے سے پوری دنیاکو فائدہ ہوگا،اس حوالے سے پاکستان ماضی کی طرح اپنا مثبت کردار ادا کرنا چاہتا ہے،میری ترجیح اپنے ملک میں قانون کی حکمرانی اور اپنے عوام کی فلاح و بہبود ہے، جیو اکنامکس پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہیں، اپنے لوگوں کو غربت سے نکالنے کیلئے چین ہمارے لئے مثال ہے، بھارتی حکومت کے مطابق بھارت صرف ہندوو¿ں کیلئے ہے ، دیگر مذاہب کے ماننے والوں کو دوسرے درجے کا شہری سمجھا جاتا ہے،
بھارت کشمیریوں کو حق خودارادیت دینے سے انکار کے باعث زیادہ نقصان اٹھائےگا، اجب ایک بار اسامہ لادن کو امریکیوں نے مار دیا تھا تو مشن ختم ہو جانا چاہئے تھا ،فغانستان میں امریکا کے مقاصد واضح نہ ہونے کے باعث اسے ناکام ہی ہونا تھا،افغانستان کی امداد نہ کی گئی تو انسان کا پیدا کردہ سب سے بڑا المیہ جنم لے سکتا ہے۔ غیر ملکی میڈیا کو دیئے گئے انٹرویومیں وزیراعظم نے کہا کہ میں نے دو دہائیوں تک بین الاقوامی کرکٹ کھیلی، یہ کسی کھلاڑی کا عالمی کھیلوں میں طویل ترین کیریئر تھا۔انہوں نے کہا کہ جو عالمی پائے کے کھلاڑی ہوتے ہیں وہ باقی ماندہ زندگی کمنٹیٹر یا کوچ بن کر یا میڈیا میں جا کے گزارتے ہیں
اور ان کیلئے بہت مواقع ہوتے ہیں تاہم جب میں ریٹائر ہوا تو میں کبھی بھی دوبارہ کرکٹ کی طرف نہیں جانا چاہتا تھا۔ وزیراعظم نے کہا کہ خدا نے ہم سب کو بے تحاشا صلاحیتوں سے نوازا ہے تاہم اس صلاحیت کے ساتھ آپ تب ہی انصاف کر سکتے ہیں جب آپ خود کو چیلنج کرتے ہیں، اس طرح آپ زندگی میں مزید اوپر جاتے ہیں اور جونہی آپ خود کو چیلنج کرنا چھوڑ دیتے ہیں تو آپ روبہ زوال ہوتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے ہم انسانوں کو ایسا ہی تخلیق کیا ہے، میں ہمیشہ سے اپنا کھیلوں کا کیریئر ختم ہونے کے بعد اس سے کنارہ کش ہونا چاہتا تھا، میں ا±س زندگی سے نہیں جڑا رہنا چاہتا تھا، اس لئے میں نے کھیل سے کنارہ کش ہونے کے بعد پہلے کینسر ہسپتال بنایا کیونکہ اس وقت پاکستان میں کینسر کا کوئی ہسپتال نہیں تھا اور شوکت خانم ملک کا سب سے بڑا خیراتی ادارہ بھی تھا اور آج بھی ہے اور اب میں نے عطیات سے دوسرا کینسر ہسپتال بنایا ہے اور ابھی تیسرے ہسپتال کی تعمیر کے عمل میں ہوں،
اس کے علاوہ دو یونیوسٹیاں بھی بنائی ہیں اور یہ تمام خیراتی ہیں، کوئی کاروباری ادارے نہیں ہیں، بنیادی طور پر یہ ان لوگوں کے لئے ہیں جو یونیورسٹی کی معیاری تعلیم کے اخراجات اور کینسر کے علاج کے اخراجات برداشت کرنے کے قابل نہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ شوکت خانم ہسپتالوں سے تقریباً 75 فیصد لوگ کینسر کا مفت علاج کراتے ہیں اور یونیورسٹیوں میں 90 فیصد طلبہ مفت تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ میں اسی سمت آگے بڑھ رہا تھا، پھر میں نے سیاست میں جانے کا فیصلہ کیا کیونکہ مجھے احساس ہوا کہ بعض بگڑے ہوئے سیاستدان ہمارا ملک تباہ کر رہے ہیں،
میرا ایمان ہے کہ ملک غریب صرف بدعنوانی کی وجہ سے ہیں، بدعنوانی قانون کی حاکمیت نہ ہونے کی ایک علامت ہے، ایسا ملک جو اپنے طاقتور کو قانون کے تابع نہیں لا سکتا ”بنانا ریپبلک“بن جاتا ہے اور اس کے عوام غربت کا شکار ہو جاتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ میں سیاست میں آیا، میرا منشور دو اصولوں پر مبنی تھا ایک قانون کی حکمرانی اور دوسرا پاکستان کو فلاحی ریاست بنانا، یہی وجہ ہے کہ 25 سال پہلے میں سیاست میں آیا، میں 22 سال کی جدوجہد کے بعد آخرکار اس منصب تک پہنچا۔ افغانستان کی صورتحال سے متعلق ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ امریکیوں نے افغانستان کی تاریخ کا مطالعہ نہیں کیا، ایک کہاوت ہے کہ جو لوگ تاریخ سے سبق نہیں سیکھتے وہ اسے دہرا کر برباد ہوتے ہیں، لہٰذا جو کوئی افغانستان کی تاریخ جانتا ہے وہ یہ نہ کرتا جو امریکیوں نے کیا، میں وہ شخص تھا جو شروع دن سے کہتا رہا ہوں کہ امریکی افغانستان میں کبھی بھی کامیاب نہیں ہوں گے، انہیں سمجھ ہی نہیں تھی کہ وہ افغانستان میں حاصل کیا کرنا چاہتے ہیں، آیا وہ قوم تشکیل دینا چاہتے تھے یا وہ جمہوریت لانا چاہتے تھے
یا وہ افغان خواتین کو آزادی دلوانے آئے تھے، ان کے کوئی واضح مقاصد ہی نہیں تھے، اگر کچھ تھا تو جب ایک بار اسامہ لادن کو امریکیوں نے مار دیا تھا تو ان کا مشن ختم ہو جانا چاہئے تھا کیونکہ بظاہر تو وہ صرف القاعدہ سے لڑنے کیلئے آئے تھے مگرالقاعدہ تو افغانستان میں پہلے دو سال میں ہی مٹا دی گئی تھی تو اس کے بعد وہ وہاں کیا کر رہے تھے، امریکیوں میں سے کوئی بھی نہیں جانتا تھا کہ وہ وہاں کیا کر رہے تھے، جب آپ کے سامنے واضح مقاصد ہی نہ ہوں کہ آپ نے ایک ملک پر چڑھائی کیوں کی تو یہ بہرصورت ناکامی پر ہی منتج ہونا تھا۔ دوسری بات یہ کہ وہ افغانوں کے کردار کو ہی نہیں سمجھتے، افغانستان کے عوام اپنے ملک پر غیرملکی حاکمیت قبول نہیں کرتے، وہ باہر سے کنٹرول کیا جانا قبول نہیں کرتے، وہ دنیا کے سب سے آزاد منش لوگ ہیں، لہٰذا جو کوئی بھی سمجھتا ہے کہ وہ افغانستان کے لوگوں کو کنٹرول کر سکتا ہے یا ان پر قبضہ جما سکتا ہے تواس نے ان کی تاریخ نہیں پڑھی ہوئی، اس لئے میں 20 سال تک یہ کہتا رہا کہ اس کا کوئی فوجی حل نہیں نکلے گا کیونکہ میں افغانستان کی تاریخ سے واقف ہوں
۔ وزیراعظم نے کہا کہ بدقسمتی سے کوئی یہ بات نہیں سمجھا کیونکہ امریکا اور اس کے اتحادیوں کو اپنے اسلحہ کی طاقت پر بہت بھروسہ تھا، وہ خود کو ناقابل تسخیر سمجھتے تھے، تاہم اگر لوگ آپ کی حکومت کو قبول نہ کرنا چاہیں تو آپ ان پر حکومت نہیں کر سکتے، اگر کوئی لوگ کسی غیرملکی حملہ آور کو قبول نہ کریں تو اس حملہ آور کو زیادہ عرصہ تک انہیں زیرنگیں رکھنے میں مشکلات ہوں گی، اس لئے پہلی بات تو یہ کہ امریکا کا سارا منصوبہ ہی غلط منطق پر مبنی تھا اور اس کے کوئی واضح مقاصد نہ تھے اور اس نے کبھی بھی کامیاب نہیں ہونا تھا، اب 40 سال بعد یہ پہلا موقع ہے
کہ درحقیقت افغانستان میں کوئی لڑائی نہیں ہو رہی ہے، وہاں کوئی خانہ جنگی نہیں ہو رہی لیکن افغانستان کو جو مسئلہ درپیش ہے وہ یہ ہے کہ کسی وجہ سے امریکی طالبان کی حکومت اور 4 کروڑ افغان شہریوں میں تفریق نہیں کر پا رہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ افغانستان میں ایک بہت بڑا انسانی المیہ جنم لے رہا ہے اور یہ وہ چیز ہے جس سے بچا جانا چاہئے، میں نے ہر فورم پر آواز بلند کی ہےوزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ امریکہ کے افغانستان میں مقاصد واضح نہیں تھے