بلوچستان میں انسان اور جانور ایک ساتھ پانی پیتے ہیں، منظور کاکڑ
کوئٹہ (امروز ویب ڈیسک)بلوچستان عوامی پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری وسینیٹرمنظور احمدکاکڑ نے کہاہے کہ ہم بلوچستان کے حقوق کی بات کرتے ہیں وفاق میں بلوچستان کی نمائندگی ایک وزارت سے نہیں ہوتی ،فیڈریشن ہے جس میں سب کو آئینی حقوق حاصل ہیں کابینہ وہ جگہ جہاں ملک وقوم کے فیصلے کئے جاتے ہیں لیکن بلوچستان کی بدقسمتی ہے کہ کابینہ میں اس کی نمائندگی نہ ہونے کے برابر ہے ،بلوچستان میں انسان اور جانور ایک ساتھ پانی پیتے ہیں خدارا بلوچستان اور یہاں کے لوگوں پر رحم کیاجائے اگر اتحادی کا یہ رویہ رہا تو پھر ہم بھی جواب دینے پر مجبور ہونگے۔
ان خیالات کااظہار انہوں نے ایوان بالا میں اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔ سینیٹر منظوراحمدکاکڑ نے کہاکہ آج سیشن کے دوران تحفظات کااظہار کیا اور ساڑھے تین سالوں سے یہ سلسلہ چلا آرہاتھا ہم نے بائیکاٹ کیا لیکن دوست ہمیں واپس لائے لیکن آتے ہی محسن صاحب کے الفاظ پر انتہائی افسوس ہے کہہ رہے ہیں کہ آپ کو وزارت مل گئی ہے ہم وزارت کیلئے یہاں نہیں آئے ہیں محسن صاحب سن لیں آپ ہم بلوچستان کے حقوق کی بات کرنے آئے ہیں اگر آپ کا یہ رویہ رہا تو پھر جواب بھی مل جائے گا
انتہائی افسوس کے ساتھ ہیں ہم نے ساڑھے تین سال سے پی ٹی آئی کے اتحادی لیکن آپ کے یہ الفاظ افسوسناک ہے ہم حکومتی بینچز پر بیٹھے تھے ہیں اور بیٹھے رہیںگے لیکن بلوچستان کے حقوق کے حوالے سے ہم کسی کے ساتھ نہیں ہے جس طرح پرنس عمر صاحب نے کہاکہ وفاق میں ایک وزارت سے بلوچستان کی نمائندگی نہیں ہوتی کابینہ وہ اہم جگہ ہے جہاں پر ملک اور صوبوں کے مسائل کے حوالے سے فیصلے کئے جاتے ہیں ہم نے یہاں بلوچستان کے حقوق کی بات رکھی ہے وزارت کی نہیں وزارت کسی بھی پارٹی کو دیاجائے ہمیں اعتراض نہیں انہوں نے کہاکہ جس طرح 70بورڈز ہیں اس میں بلوچستان کی نمائندگی صفر ہیں ہم نے بارہا یہ مسائل ایوان بالا میں اٹھائے ہیں اور لسٹ فراہم کی جائیں نیشنل بینک میں کوئی نمائندگی نہیں دی گئی ہے ،بلوچستان کے پانی کے حقوق کے حوالے سے بھی مسائل اجاگر کئے ہیں
،بارڈرز کے مسائل ہیں ،امن وامان کی صورتحال ہیں ،انہوں نے کہاکہ وزیراعلیٰ آتے ہیں کمیٹی میں ان کے سامنے سارے غلط اعداد وشمار پیش کئے جاتے ہیں کیا کوئی بات سکتاہے کہ پشتون بیلٹ میں کتنا کام کیاگیاہے بلوچستان کوئی موٹروے ملاہے ایکسپریس وے ملا ہے ،صرف وزارت کی خاطر ہم نے واک آﺅٹ نہیں کیا ہے کیابلوچستان میں لوگ نہیں رہتے ؟ چاغی ہوں یا پھرژوب ،ایران بارڈر ،چمن بارڈر ہوں یہاں انسان اور جانور ایک ساتھ پانی پیتے ہیں یہ بلوچستانیوں کی زندگی ہیں ،کچھی کینال کامسئلہ دیکھ لیں معاملہ تعطل کاشکار ہیں ،واپڈا کے رویہ دیکھ لیں آسامیاں آتی ہے
ایک بلوچستان سے جبکہ 3سے 4سو باہر سے تعینات کئے جاتے ہیں اسی طرح گیس کا مسئلہ اٹھا لیں ،فیڈریشن ہمارا گھر ہے ہم فیڈریشن کے ساتھ ہیں گیس کا ہیڈکوارٹرسندھ میں ہے تمام صوبے ہماری ہیں لیکن بلوچستان میں بھی لوگ رہتے ہیں ہم کہتے ہیں کہ سی پیک ہیں پاکستان کا مستقبل بلوچستان سے وابستہ ہیں اگر بلوچستان سے وابستہ ہیں تو صوبے کو یہ نمائندگی دی گئی ہے ،40سے50سالوں سے محرومیوں کے خاتمے کی باتیں کررہے تھے وہ تو اس طرح نہیں ہونگے بلوچستان اور خیبرپشتونخوا کے طلباءاحتجاج پر بیٹھے ہیں وزیر موصوف سے طلباءسے بات کرنے کا کہاتھا کیونکہ یہ طلباءباہر کے نہیں بلکہ پاکستان کے صوبہ بلوچستان سے تعلق رکھتے ہیں اگر ان سے مذاکرات کی جائیں ان کی کوٹہ بڑھایاجائے کیا ان کا تعلق پاکستان سے نہیں ہے ان طلباءکو کس چیز کی سزا دی جارہی ہے ۔انہوں نے کہاکہ بلوچستان اور یہاں کے لوگوں پر رحم کیاجائے ۔