وزیراطلاعات مقرر کیا جائے۔حکومت صوبے کی واحد صنعت کی سرپرستی کرے۔ایکشن کمیٹی

0 206

روزگار کے مواقعوں کی کمی کی وجہ سے صوبے کے پڑھے لکھے افراد کی بڑی تعداد اخباری صنعت سے وابستہ ہے

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اس سنجیدہ معاملے پر نوٹس لیں کیونکہ اخبارات وجرائد کی بندش سے مسائل گھمبیر ہوسکتے ہیں

کوئٹہ ایکشن کمیٹی اخباری صنعت بلوچستان کا علامتی احتجاجی کیمپ آٹھویں روز بھی جاری رہا۔علامتی احتجاجی کیمپ میں اخبارات و جرائد کے مدیران اور اخبار مارکیٹ کے نمائندگان نے شرکت کی۔کیمپ کے شرکاء کا کہنا تھا کہ حکومت ہمارے مطالبات کو تسلیم کرتے ہوئے سرکاری اشتہارات کو BPPRA پر منتقل کرنے کی کوشش ترک کرتے ہوئے صوبے کی واحد صنعت کی سرپرستی کرے۔

صوبے کے پڑھے لکھے افراد کی بڑی تعداد اخباری صنعت سے وابستہ ہے اگر سرکاری اشتہارات مجوزہ ڈرافٹ کے مطابق BPPRA پر منتقل ہو جاتے ہیں تو اس سے نہ صرف صوبے کے پڑھے لکھے افراد بے روزگار ہوں گے بلکہ یہ تجویز اس وجہ سے بھی زمینی حقائق کے برعکس ہوگا کہ پورے بلوچستان کے نصف سے زائد علاقوں میں انٹرنیٹ دستیاب ہی نہیں ۔ علامتی احتجاجی کیمپ کے شرکاء کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اس سنجیدہ معاملے پر نوٹس لیں کیونکہ اخبارات وجرائد کی بندش سے مسائل گھمبیر ہوسکتے ہیں۔کیمپ کے شرکاء نے وزیراعلیٰ بلوچستان سے مطالبہ کیا کہ وزارت اطلاعات بغیر وزیر کے چلایا جارہا ہے میڈیا کے مسائل کے جلد حل کیلئے وزیر اطلاعات مقرر کیا جائے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.