پی ٹی آئی دور حکومت میں بجلی چوری اور لائن لاسز میں سو فیصد اضافے کا انکشاف
آڈیٹر جنرل آف پاکستان میں انکشاف ہوا ہے کہ گزشتہ دورحکومت میں نہ صرف بجلی چوری اور لائن لاسز میں 100 فیصد سے زائد کا اضافہ ہوا، بلکہ گردشی قرضوں میں بھی بے پناہ اضافہ ہوا۔
آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے تحریک انصاف کے ہر شعبے میں مہارت اور اہلیت کے بلند بانگ دعوؤں کا پول کھول دیا ہے۔
آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے اپنی آڈٹ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ عمران خان دور میں بجلی چوری اور لائن لاسز میں سو فیصد سے بھی زیادہ اضافہ ہوا۔
آڈٹ رپورٹ کے مطابق عمران خان کے دور حکومت میں بجلی کے بلوں کی وصولی بھی غیرتسلی بخش رہی، جس کی وجہ سے گردشی قرضے بھی بڑھ گئے، اور پھر کپیسٹی پیمنٹ کی مد میں صارفین سے خریدی گئی بجلی سے زیادہ وصولی کی گئی۔
پاور سیکٹر کی مالی سال 2021-22 کی آڈٹ رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی دور میں بجلی کی چوری اور لائن لاسز دوگنا سے زیادہ بڑھے، پہلے یہ نقصانات 42 ارب 36 کروڑ روپے سالانہ تھے، اور پھر بڑھتے بڑھتے 91 ارب 91 کروڑ روپے تک جا پہنچے، جو بجلی بلوں میں شامل کر کے صارفین سے وصول کئے گئے۔
آڈٹ رپورٹ کے مطابق بجلی کے بلوں میں ہوشربا اضافہ تحریک انصاف حکومت کی نااہلی کی وجہ سے ہوا، عمران خان حکومت میں بجلی بلوں کی وصولی بھی تسلی بخش نہ تھی، صارفین کو 1745ارب کے بجلی بلز بھیجے گئے مگر وصولی 1366ارب روپے رہی۔
آڈیٹر جنرل نے کپیسٹی پیمنٹ کو بھی بجلی بل زیادہ آنے کی ایک وجہ قرار دیا ہے، پاور کمپنیاں آئی پی پیز سے 24 ہزار میگاواٹ بجلی لیتی ہیں، جب کہ صارفین سے 36 ہزار میگاواٹ کی کپیسٹی پیمنٹ لی جاتی ہے۔