ملک کے مستقبل 5 سال کی پلاننگ سے نہیں بنتے، وزیراعظم

0 87

لاہور (امروز ویب ڈیسک) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت کی اولین ترجیح غریب اور پسے ہوئے عوام کی زندگی میں ہر ممکن آسانی فراہم کرنا ہے، گندم کی ترسیل اور آٹے کی قیمت کے نظام کو جامع حکمت عملی کے تحت مستحکم کرنے کی ضرورت ہے تا کہ مستقبل میں بھی عوام کو پریشانی کا سامنا نہ ہو ۔ وزیر اعظم کی زیر صدارت جمعہ کو انکے دورہ لاہور میں صوبہ پنجاب میں فروٹ اور سبزی منڈ یوں کی تعداد میں اضافے اور آٹے کی قیمت میں کمی لانے کے حوالے سے کیے جانے والے اقدامات کا جائزہ اجلاس منعقد ہوا ۔اجلاس میں پھل اور سبزی منڈیوں کی تعداد میں اضافے کی غرض سے موجودہ قوانین میں نظر ثانی و ترمیم، نجی شعبے کے اشتراک اور طریقہ کار کو مزید سہل بنانے کے حوالے سے لئے گئے فیصلوں پر عملدرآمد کے لئے ابتدائی پیش رفت اور مستقبل کے لائحہ عمل پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔اجلاس کو وزیراعظم عمران خان کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں اشیائے ضرور یہ کی عوام الناس کو مقرر کردہ نرخوں پر دستیابی، آٹے کی قیمت میں کمی لانے کے لئے گندم سے آٹے کی پیداوار بڑھانے کے ضمن میں فلور ملوں میں پسائی کے 80:20تناسب پر عملدرآمد، گندم کی خریداری، ترسیل اور سٹوریج میں انتظامی اخراجات میں کمی کے حوالے سے اصلاحات پر مجوزہ تجاویز پیش کی گئیں۔ پھل اور سبزی منڈیوں کی تعداد میں اضافہ کے حوالے سے پنجاب ایگری کلچر مارکیٹنگ ریگولیشن ایکٹ میں ترامیم کے حوالے سے سفارشات، نجی شعبے کو منڈیوں کے قیام میں غیر ضروری انتظامی منظوریوں کے عمل کے خاتمے اور طریقہ کار کو مزید سہل بنانے اور موجودہ منڈیوں میں قیمتوں کے غیر ضروری اتار چڑھاو ¿ کو مانیٹر کرنے کے حوالے سے بھی وزیراعظم کو آگاہ کیا گیا۔وزیراعظم کو پھل اور سبزی منڈیوں میں اضافے کے ایکشن پلان پر عملدرآمد حوالے سے نئے رجیم پر بھی آگاہ کیا گیا

۔وزیراعظم کو آٹے کی قیمت میں کمی لانے کے حوالے سے گندم سے آٹے کی پیداوار بڑھانے کے ضمن میں فلور ملوں میں پسائی کے 80:20 تناسب پر عملدرآمد کے لئے سفارشات، گزشتہ چند ماہ سے فلور ملوں کی جانب سے کی جانے والی خلاف ورزیوں پر موثر کریک ڈاو ¿ن پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ وزیراعظم نے متعلقہ اسسٹنٹ کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو اشیائے ضرور یہ کی قیمتوں میں استحکام کو یقینی بنانے کے حوالے سے کہا کہ افسران کی اولین ترجیح قیمتوں میں اتار چڑھاو ¿ کو مانیٹر کر کے غیر ضروری اضافے کے خاتمے کو یقینی بنانا ہونی چاہیے۔انتظامیہ اس بات کو یقینی بنائے کہ اشیائ خورد نوش کی منڈی اور ریٹیل قیمت میں بے جا فرق نہ ہو تا کہ عوام کو کم سے کم قیمت پر اشیائ خورد نوش کی فراہمی یقینی بنائی جا سکےموجودہ حکومت کی اولین ترجیح غریب اور پسے ہوئے عوام کی زندگی میں ہر ممکن آسانی فراہم کرنا ہے۔ وزیر اعظم نے اس امر کو یقینی بنانے کی ہدایت کی کہ معاشی لحاظ سے سب سے کمزور طبقے کی امداد کے لئے خصوصی پلان ترتیب دیا جائے تا کہ حکومت کے وسائل کو بطورسبسڈی عوامی فلاح کے لئے موثر انداز میں استعمال کیا جا سکےوزیر اعظم نے مزید ہدایت کی کہ صحت افزائ خوراک اور آٹے کے بارے میں عوامی شعور اجاگر کرنے پر توجہ دی جائے

۔گندم کی ترسیل اور آٹے کی قیمت کے نظام کو جامع حکمت عملی کے تحت مستحکم کرنے کی ضرورت ہے تا کہ مستقبل میں بھی عوام کو پریشانی کا سامنا نہ ہو ۔اجلاس میں وزیر برائے اقتصادی امور مخدوم خسرو بختیار، مشیر وزیر اعظم شہزاد اکبر، وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار، معاون خصوصی ملک امین اسلم، سینئر صوبائی وزیر برائے خوراک عبدالعلیم خان، صوبائی وزیر زراعت سردار حسین جہانیاں گردیزی، معاون خصوصی وزیر اعلی پنجاب ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان اور سینئر افسران شریک تھے۔ وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت صوبہ پنجاب میں یونیورسل ہیلتھ انشورنس کی فراہمی کے حوالے سے پیش رفت پر جائزہ اجلاس،اجلاس میں وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار، وزیر برائے اقتصادی امور مخدوم خسرو بختیار، مشیر وزیر اعظم شہزاد اکبر، معاون خصوصی ملک امین اسلم، صوبائی وزیر خزانہ پنجاب مخدوم ہاشم جواں بخت، معاون خصوصی وزیر اعلی پنجاب ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان اور سینئر افسران شریک ہوئے ۔اجلاس میں پنجاب کی صوبائی کابینہ کی جانب سے صوبے کی 100 فیصد آبادی کو اس سال کے آخر تک یونیورسل ہیلتھ کوریج کی فراہمی کی منظوری کے بعد اب تک کی پیش رفت کےحوالے سے آگاہ کیا گیا۔ صحت سہولت پروگرام کی فزیبلٹی، بجٹ کے تخمینے، اور مرحلہ وار عملدرآمد پر شرکائ کو تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے آگاہ کیا گیا کہ قلیل مدتی پلان کے تحت موجودہ مالی سال کے اختتام تک ساہیوال اور ڈیرہ غازی خان ڈویڑن کے 7 اضلاع میں ہیلتھ کارڈز کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی جبکہ دسمبر 2021 تک پنجاب کی 100 فیصد آبادی کو یونیورسل ہیلتھ انشورنس کے تحت ہیلتھ کارڈ کے ذریعے علاج معالجے کی بہتر سہولیات میسر ہوں گی۔وزیراعظم عمران خان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں صحت اور تعلیم کے شعبوں کو نظرانداز کیا گیا جس کی وجہ سے صحت کا نظام غیر موثر ہو گیا اور اس کا سب سے زیادہ نقصان غریب عوام کو ہوا۔عوام، خصوصا نچلے طبقےکو صحت کی معیاری اور سستی سہولیات کی فراہمی اور سماجی تحفظ فراہم کرنا موجودہ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہیلتھ کارڈ کی فراہمی کی بدولت نہ صرف عام آدمی کو صحت کے حوالے سے تحفظ فراہم ہو گا جس وہ گزشتہ ستر سال سے محروم رہا بلکہ نظام صحت میں بھی انقلابی تبدیلی رونما ہو گی اور نظام صحت پختہ بنیا دوں پر استوار ہو گا۔وزیراعظم عمران خان نے یونیورسل ہیلتھ انشورنس کے اہداف کی تکمیل کے حوالے سے مسلسل مانیٹرنگ کرنے کی ہدایت کی اور وفاقی حکومت کی طرف سے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ سموگ خاموش قاتل ہے آلودگی ختم کرنے کیلئے شجر کاری ناگزیر ہے،ملک کے مستقبل 5 سال کی منصوبہ بندی سے نہیں بنتے بلکہ اس کے لیے طویل مدتی منصوبوں کی ضرورت ہوتی ہے۔لاہور میں جیلانی پارک میں اربن فاریسٹ منصوبے کی افتتاحی تقریب میں خطاب کرتے ہوئے عمران نے کہا کہ لاہور میں جو درخت لگئے ہوئے تھے وہ پچھلے 12، 13 سال میں 70 فیصد کم ہوا اور اس کے نتیجے میں آج سورج نظر نہیں آتا اور بارش نہ ہو تو نومبر سے اسموگ شروع ہو جاتی ہے اگر اسموگ مسلسل رہے تو ہر انسان کی زندگی 6 سے 11 سال کم کرتی ہے، خاص کر بچوں اور بزرگوں پر برے اثرات ہوتے ہیں، اس کا نقصان نظر نہیں آتا ہے اس لیے لوگ اس کو سمجھتے نہیں ہیں، یہ ایک خاموش قاتل ہے۔انہو ںنے کہاکہ لاہور ایک ہرا شہر تھا لیکن آبادی بڑھنے کے ساتھ ساتھ لاہور کی ماحولیات پر کسی نے توجہ نہیں دی تاہم اب ہم اس کو تبدیل کرنے جا رہے ہیں اور کوئی ایسی چیز نہیں جو تبدیل نہ ہو سکے۔عمران خان نے کہا کہ ہم جب پہلی مرتبہ سنگاپور گئے تو وہاں کا مرکزی دریا راوی کی طرح سیوریج تھا لیکن 10 سال میں ایک وزیراعظم کو ماحولیات اور صاف پانی کی فکر پڑتی تو آج اس دریا میں صاف پانی اور مچھلیاں ہیں، اس کے لیے ہمیں محنت کرنی پڑے گی اور ہم نے پہلا قدم لیا ہے جب خیبرپختونخوا میں ایک ارب درخت اگانے کا فیصلہ کیا تو آج وہ علاقے دیکھ سکتے ہیں جو علاقے ریگستان تھے وہ جنگل بن گئے ہیں، صوبائی حکومت اس کو دکھائیں کیونکہ ایک ارب درخت سوئیاں نہیں ہیں اس لیے سب کو نظر آئیں گی۔انہوں نے کہا کہ اب ہم سارے پاکستان میں 10 ارب درخت کا ہدف اپنے لیے مقرر کیا ہے وہ شروع ہوگا، جہاں ہم یہ منصوبہ بنا رہے ہیں وہاں جاو ¿ں گا، خاموش انقلاب آرہا ہے کیونکہ ہم زیتون کے جنگلات اگانے لگے ہیں، جو پاکستان اربوں روپے کا تیل اور گھی درآمد کرتے ہیں تو جس طرح زیتون اگا رہے ہیں اس کے مطابق چند برسوں میں برآمد کرے گا ساری قوم کو اس میں شرکت کرنی چاہیے کیونکہ اب یہ ہمارے بچوں کے مستقبل کا سوال ہے

Leave A Reply

Your email address will not be published.