پشتونوں نے آج تک اپنے وطن پر کسی کو قبضہ کرنے نہیں دیا، محمود خان اچکزئی

0 123

چارسدہ/کوئٹہ (امروز ویب ڈیسک )پشتونخواملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے پشتون سیاسی وقبائلی رہنماﺅں پر زور دیتے ہوئے کہاہے کہ پشتون اولس کو مسائل کے دھندل سے نکالنے کیلئے متحدہ محاذ بنائیں ، یہ وطن ہمیں کسی نے خیرات یا زکواة میں نہیں دیابلکہ پشتونوں کی معلوم ونامعلوم شہداءکی قربانیوں کے بعد ہمیں یہ وطن ملا ہے ،پشتونوں نے آج تک اپنے وطن پر کسی کو قبضہ کرنے نہیں دیاپشتونخوا وطن معدنیات سے مالا مال لیکن اس کے باوجود پشتون بھوک وافلاس سے دوچار ہیں اس وقت پشتون وطن کے 100میں سے 70لوگ مسافر ہیں،پاکستان کو بے انصافی کے ساتھ نہیں چلایاجاسکتا

،یونائیٹڈ اسٹیٹ آف امریکہ کی طرز پر پشتون ،بلوچ،سرائیکی ،سندھی اور پنجابی ریاست بنائیں اور انہیں مکمل خودمختاری دیںاورہر قوم کا حق تسلیم کیاجائے تو ہی پاکستان ترقی کرسکتاہے ،ایٹم بم کے علاوہ انسان کا بنایاہوا ہر اسلحہ افغانستان میں استعمال ہوا لیکن بائیڈن ماما نے افغانستان کی رقم جو افغانوں کی ہے میں آدھی رقم نیویارک میں مارے لوگوں میں تقسیم جبکہ آدھی رقم کو این جی اوز کے ذریعے افغانستان کے لوگوں میں تقسیم کااعلان کیاہے کیا یہ بائیڈن ماما کاانصاف ہے ؟افغانستان کو خیرات نہیں چاہےے امریکہ ،چین ،روس ،عرب اور پاکستان سمیت دنیا افغانوں کی قرض دار ہیں افغان جنگ پر دنیا معافی مانگیں

۔ان خیالات کااظہار انہوں نے چارسدہ اشنغر میں میر عالم شاہ مرحوم کی یاد میں تعزیتی جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ محمود خان اچکزئی نے کہاکہ خیبرپشتونخوا کا علاقہ بڑے بڑے انقلابوں کامرکز رہاہے جیسے کہ بایزید روشان ،خوشحال خان ،دریا خان ،مہمند، مولوی پوپلزئی ،خدائی خدمت گار باچاخان اور مزدور کسان پارٹی جس نے طبقاتی جبر کے خلاف جس میں عالم شاہ لالا نے جدوجہد کی ہے دوسرے صوبوں میں بھی مزدور کسان پارٹی تھیں لیکن مزدور کسان پارٹی نے پشتونخواوطن کیلئے یہ اعزاز ہے کہ جس نے قربانیاں دیں اور اولس کو ٹیکس ودیگر سے چھوٹ دلوائی ان لوگوں کے ساتھ مزدور کسان پارٹی کے غریب ورکرز نے پنجہ آزمائی کی جو ان لوگوں کو انسان ماننے کیلئے تیار نہیں تھے لیکن آج شکر ہے

یہاں اجرے موجود ہیں انہوں نے کہاکہ پشتون ملت تاریخ کے انتہائی خطرناک موڑ پر کھڑا ہے ہم کسی کی زمین پرآباد نہیں نہ ہی کسی نے یہ وطن زکواة یا خیرات میں ہمیں یہ وطن دیاہے ،تاریخ کہہ رہاہے کہ آمو دریا سے لیکر اباسین تک یہ وطن پشتون افغان قوم کا وطن رہاہے ہر پشتون کو یہ بات کہنی چاہےے کہ یہ وطن ہمیں کسی نے خیرات یا زکواة میں نہیں دیا یہ وطن ہمیں اپنے قوم کے معلوم ونامعلوم شہیدوں دیاہے ہم پاگل نہیں تمام انسان حضرت آدم کے اولاد میں سے ہیں

جو وطن ہمارا ہے اس وطن کیلئے ہمارے آباﺅاجداد نے قربانیاں دی ہیں اس کے نعمتوں پر سب سے پہلا حق ہمارا ہمارے بچوں کا ہیں ،انہوں نے علماءسے اپیل کی کہ اگر ہمارے باتوں میں کوئی بات قرآن مجید کی تعلیمات کے خلاف ہیں تو نشاندہی کریں ہم زندگی میں کبھی بھی وہ بات نہیں کرینگے اگر کسی وکیل ،سیاسی رہنماءکو ہماری باتیں غلط لگ رہی ہیں تو ہم بھائی ہیں آئیں مل کر غلطیاں دور کریں ،ہمارا قوم اور وطن غلام ہیں اس کے خلاف ہر جمہوری اور وطن دوست پشتون کو ایک طاقت ور محاذ بنانے کی ضرورت ہے رہبری آپ لوگ کریں اسفندیار خان ولی ہوں یا آفتاب احمدشیر پاﺅ یا پھر جمعیت علماءاسلام ہوں آگے آئیں ،انہوں نے کہاکہ فرنگی ہوں یا انگریز ان کے خلاف آمو سے لیکر اباسین تک جو جدوجہد پشتون نے کی آج تک کسی نے نہیں کی ہے چاہے بندوق ہوں یا جمہوری جدوجہد ہوں ،کسی انسان کا قتل برا عمل ہے لیکن اگر کوئی آپ کی وطن پر قبضہ کرنے آتا ہے تو پھر مجبوراََ ہتھیار اٹھانا پڑتاہے

Leave A Reply

Your email address will not be published.