شہنشاہِ غزل مہدی حسن کو مداحوں سے بچھڑے دس برس بیت گئے

0 258

لاہور : شہنشاہِ غزل مہدی حسن کو مداحوں سے بچھڑے دس برس بیت گئے، انہوں نے 1935 میں آٹھ سال کی عمر میں گلوکاری کا آغاز کیا، انیس سوباسٹھ سے نواسی تک28سال مسلسل پاکستان فلم انڈسٹری میں آواز کا جادو جگایا، عظیم گلوکار کے گائے گیت آج بھی کانوں میں رس گھولتے ہیں۔

غزل، سروں کی تان کے ساتھ مہدی حسن کی آواز ہو تو لطف دوبالا ہو جاتا ہے، موسیقی کی دنیا شہنشاہ غزل کے بغیر ادھوری ہے۔ مہدی حسن نے غزل گائیکی کو ایک نیا انگ اور آہنگ دیا۔

مہدی حسن کا تعلق موسیقی کے کلاونت گھرانے سے تھا۔ وہ جے پور کے ایک گاؤں لونا میں 18 جولائی 1927 کو پیدا ہوئے، 1935 میں آٹھ سال کی عمر میں گلوکاری کا آغاز کیا۔ تقسیم ہند کے بعد پاکستان چلے آئے، جہاں 1957 میں کراچی سے ریڈیو پاکستان سے منسلک ہوئے، ساٹھ کی دہائی میں ان کی گائی ہوئی فیض احمد فیض کی غزل ’گلوں میں رنگ بھرے‘ ہر گلی کوچے میں گونجنے لگی۔

اُن کے احترام کا یہ عالم تھا کہ مشہور بھارتی گلوکارہ لتا منگیشکر کہتی تھیں کہ مہدی حسن کے گلے میں تو بھگوان بولتے ہیں۔ ملکہ ترنم نور جہاں کا کہنا تھا کہ ایسی آواز صدیوں میں ایک بار پیدا ہوتی ہے، نیپال کے شاہ بریندرا اُن کے احترام میں اْٹھ کے کھڑے ہوجاتے تھے۔

مہدی حسن نے 25 ہزار سے زائد فلمی و غیر فلمی گیت اور غزلیں گائیں، انہیں حکومت کی جانب سے تمغہ امتیاز، ستارہ امتیاز اور پرائیڈ آف پرفارمنس جیسے اعزازات سے بھی نوازا گیا۔

سانسوں کو سروں میں ڈھال دینے والے مہدی حسن نے 13 جون 2012 کو کراچی میں زندگی کی آخری سانس لی، طویل جدوجہد اپنے اختتام کو پہنچی، مگر اپنے کام سے ان کی گہری وابستگی مہدی حسن کو ہمیشہ چاہنے والوں کے دلوں میں زندہ رکھے گی۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.