وزیراطلاعات مقرر کیا جائے، پرنٹ میڈیا کو ختم کرنے کی سازش کی جارہی ہے،ایکشن کمیٹی

0 131

بلوچستان کے پرنٹ میڈیا کو بحرانی کیفیت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔حکومت کی جانب سے زمینی حقائق کو نظر انداز کرنا باعث تشویش ہے

وزیراعلیٰ بلوچستان کے واضح احکامات کے باوجود بھی اخبار مارکیٹ کیلئے بہبود فنڈز کا اجراء ممکن نہیں ہوسکا

کوئٹہ ایکشن کمیٹی اخباری صنعت بلوچستان کے زیراہتمام اشتہارات کو BPPRA پر منتقل کرنے کی کوششوں کیخلاف علامتی احتجاجی کیمپ شیڈول کے مطابق منعقد کیا گیا۔ علامتی احتجاجی کیمپ میں اخبارات،جرائد اور اخبار مارکیٹ کے نمائندگان موجود رہے۔علامتی احتجاجی کیمپ کے شرکاء نے کہا کہ چند عناصر اپنے ذاتی مفادات کیلئے صوبے کے پرنٹ میڈیا کیخلاف سازشوں میں مصروف ہیں،ایسے لوگوں کا ہر صورت راستہ روکیں گے۔

بلوچستان کے مقامی اخبارات و جرائد سے ہزاروں افراد کا روزگار وابستہ ہے۔احتجاجی دھرنے میں شریک مدیران کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے پرنٹ میڈیا کو بحرانی کیفیت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔حکومت کی جانب سے زمینی حقائق کو نظر انداز کرنا باعث تشویش ہے۔بلوچستان کے پرنٹ میڈیا کو ختم کرنے کی سازش کی جارہی ہے لیکن ایسی کسی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔

بلوچستان کے پرنٹ میڈیا کے اشتہارات کو BPPRA پر منتقل کرنے کو کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔دوسری جانب صوبے کی واحد اخبار مارکیٹ بھی فنڈز کی کمی کے باعث مشکلات سے دوچار ہے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان کے واضح احکامات کے باوجود بھی اخبار مارکیٹ کیلئے بہبود فنڈز کا اجراء ممکن نہیں ہوسکا۔

علامتی احتجاجی کیمپ کے شرکاء نے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا پالیسی میں ترمیم سے سب سے زیادہ صوبے کے مقامی افراد متاثر ہونگے۔بیروزگاری میں اضافہ اور مستند میڈیا ذرائع کا خاتمہ ہو جائے گا۔علامتی احتجاجی کیمپ کے شرکاء کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے مثبت پیشرفت کے منتظر ہیں جبکہ وزیراعلیٰ بلوچستان وزیراطلاعات بھی مقرر کریں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.