عمران خان نے بحریہ ٹاؤن کی رقم قومی خزانے میں جمع کرانے کے بجائے ایڈجسٹمنٹ کی، وزیر داخلہ

0 230

وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان نے بحریہ ٹاؤن کی برطانیہ میں پکڑی گئی 50 ارب روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرانے کے بجائے ان سے ایڈجسٹمنٹ کی اور شہزاد اکبر کی مدد سے پانچ ارب روپے کمیشن وصول کیا۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ 3دسمبر 2019 کو اس وقت کی وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا تھا جس میں لفافے میں بند کسی معاہدے کی منظوری دی گئی تھی اور یہ بتایا گیا کہ اس وقت کے وزیراعظم عمران خان نے کابینہ سے کہا کہ اس میں کوئی چیز ہے اور اس کی آپ منظوری دے دیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت میڈیا نے خبریں دی تھیں کہ کابینہ کے اراکین نے سوال کیا تھا کہ ہمیں بتائیں تو اس میں ہے کیا تو کابینہ ایک خاتون رکن نے بلند آواز میں کہا تھا کہ ہم آپ کو بعد میں بتا دیں گے، بس اس کی منظوری دے دیں، اس کی بعدازاں منظوری دے دی گئی۔

انہوں نے کہا کہ بعد میں میڈیا اور دیگر ذرائع سے یہ بات سامنے آئی کہ بحریہ ٹاؤن کی 50ارب روپے کی رقم انہوں نے برطانیہ ٹرانسفر کی اور اسے مروجہ قانون کے تحت ٹرانسفر نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے وہ رقم وہاں ٹریس ہو گئی اور برطانوی حکام اور نیشنل کرائم ایجنسی نے اس رقم کو اپنے قبضے میں لے لیا۔

ان کا کہنا تھا کہ برطانیہ حکام نے پاکستانی حکام سے رابطہ کر کے انہیں آگاہ کیا کہ یہ رقم غیرقانونی ذرائع سے ہمارے پاس پہنچی ہے اور ہم نے اسے قبضے میں لے لیا، اس کی ملکیت حکومت پاکستان اور پاکستان کے عوام کی ہے تو یہاں سے ایسٹ ریکوری یونٹ کے شہزاد اکبر نے ریاست کی طرف سے اس معاملے کو دیکھا لیکن انہوں نے اس رقم کو پاکستان کے عوام کے لیے استعمال کرنے کے بجائے اپنا حصہ مبینہ طور پر 5ارب روپے طے کر کے دو نمبری کا طریقہ کار بنایا۔

رانا ثنااللہ نے کہا کہ جب بیچ میں یہ چور پڑے تو انہوں نے اس طریقہ کار کے تحت یہاں ایک دستاویز مرتب کی کہ کس طرح سے ہم نے اس کا 50ارب روپے محفوظ کرنا ہے اور اس نے پھر ہمیں 5ارب ہضم کرنا ہے اور کس طرح سے عوامی پیسے پر ڈاکا ڈالنا ہے، یہ ہے ان کا صادق اور امین ہونا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس دستاویز کی منظوری کے بعد شہزاد اکبر برطانیہ گئے اور وہاں جا کر یہ سارا عمل مکمل کرایا، اس کے بعد 50ارب روپے بحریہ ٹاؤن کے قرضے کے بدلے ایڈجسٹ کرا دیا۔

انہوں نے کہا کہ کابینہ نے ایک ذیلی کمیٹی بنائی ہے جو اس بارے میں پوری تحقیقات کرے گی اور ان تحقیقات کے نتیجے میں جو بھی چیز فائنل ہو گی وہ سامنے لائیں گے۔

مسلم لیگ(ن) کے رہنما نے کہا کہ اسی بحریہ ٹاؤن نے جس کا 50ارب روپیہ ایڈجسٹ کیا گیا، اس نے 458کنال کی جگہ کا معاہدہ کیا جس کی مالیت کاغذات میں 93 کروڑ روپے جبکہ اصل قیمت پانچ سے 10 گنا زیادہ ہے اور یہ زمین بحریہ ٹاؤن نے القادر ٹرسٹ کے نام پر ٹرانسفر کی، اس زمین کو بحریہ ٹاؤن نے عطیہ کیا اور اس میں ایک طرف دستخط بحریہ ٹاؤن کے عطیہ کنندہ کے ہیں اور دوسری جانب سابق خاتون اول بشریٰ خان کے ہیں، یہ قیمتی اراضی القادر ٹرسٹ کے نام پر ٹرانسفر کی گئی جس کے دو ہی ٹرسٹی ہیں جس میں پہلی بشریٰ خان ہیں اور دوسرے سابق وزیراعظم ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کے علاوہ 200کنال مزید ہے، اس میں 100 کنال اراضی بنی گالا میں ہے اور یہ مسماۃ فرح شہزادی ان کے نام پر منتقل کی گئی ہے، اس کے علاوہ مارچ 2021 میں مزید 100 کنال اراضی بھی فرح شہزادی کے نام پر منتقل کی گئی، اگست میں مزید 40 کنال اراضی منتقل کی گئی۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ یہ صادق اور امین ہیں جنہوں نے قوم کا 50ارب روپے گنوائے، قوم کے پیسے لو لٹایا اور اس میں سے اپنا حصہ وصول کیا گیا، حصہ وصول کرتے وقت بھی کوئی شرم و حیا نہیں تھی کہ کسی اور کے نام پر منتقل کر والوں یا کسی اور کے نام پر منتقل کر والو یا کسی اور کے نام پر منتقل کروالو، خاتون اول نے خود دستخط کیے، اسی طرح زمین براہ راست فرح شہزادی کے نام ہو رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ فرح شہزادی اس وجہ سے نہیں بھاگی کہ وہ افسروں سے ٹرانسفر کے پیسے لیتے رہی یا جو انگوٹھیاں وہ لیتی رہی ہیں، وہ اس وجہ سے بھاگی ہیں کہ ان کے پاس اس بات کی کیا وضاحت ہے کہ 200کنال بنی گالا میں انہوں نے کیسے اور کیوں خریدا اور بحریہ ٹاؤن نے یہ انہیں کیوں دیا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.