عمران خان پولیس جے آئی ٹی کے سامنے پیش

0 97

چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کا کہناہے کہ اسلام آباد کی کال دی تو حکومت برداشت نہیں کرسکے گی۔

خاتون جج اور پولیس کو دھمکیاں دینے پر دہشت گردی کا مقدمے میں چیئرمین تحریک انصاف کو بالآخر شامل تفتیش ہونا ہی پڑا۔

خاتون جج اور پولیس افسران کو دھمکیوں پر دہشتگردی کے کیس میں چیئرمین تحریک انصاف عمران خان آج پولیس جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوگئے۔

عمران خان کی پیشی کے موقع پر ایس ایس پی انویسٹیگیشن آفس کے باہر سیکیورٹی کے غیرمعمولی انتظامات کیے گئے تھے۔

ایس ایس پی انویسٹی گیشن کی سربراہی میں پولیس ٹیم نے عمران خان سے بیس منٹ تک تفتیش کی۔

پولیس انوسٹی گیشن ٹیم کی عمران خان سے خاتون جج اور پولیس کو دھمکیوں کے حوالے سے زبانی پوچھ گچھ کی، اور پولیس نے عمران خان کا بیان ریکارڈ کر کے تفتیش کا حصہ بنا دیا۔

عمران خان سے سوالات اور ان کے جوابات

تفتيشی ٹيم نے عمران خان سے پوچھا کیا آپ نے تقریر میں کہا آئی جی، ڈی آئی جی شرم کرو، کيا تقرير ميں يہ بھی کہا زیبا چوہدری آپ پر ہم ایکشن لیں گے۔

عمران خان نے جواب دیا کہ ہاں میں نے ايسا بولا ہے۔

تفتیشی ٹیم نے سوال کیا کہ کيا آپ کو علم ہے کہ افسران کے خلاف تقریر سے ماتحتوں میں خوف پیدا ہوا۔

عمران خان نے جواب دیا کہ نہیں! میرا مطلب ڈرانا يا خوف پھیلانا نہیں تھا۔

تفتيشی ٹيم نے عمران خان سے پوچھا کہ آپ کی تقریر اور مقدمے کے بعد کیس کے تفتیشی افسر کو ڈرایا جا رہا ہے؟۔

عمران خان نے جواب دیا کہ نہیں یہ بات میرے علم میں نہیں ہے۔

تفتيشی ٹيم نے سوال کیا کہ کيا آپ نہيں جانتے شہباز گل کیس زیر سماعت ہے،فیصلہ آنا باقی ہے۔

عمران خان نے جواب دیا کہ جی میرے علم میں يہ بات ہے۔

تفتيشی ٹيم نے عمران خان سے کہا کہ آپ کے یہ بیانات دہشت گردی کے زمرے میں آتے ہیں۔

عمران خان نے جواب دیا کہ میرا مقصد یہ نہیں تھا۔

تفتیشی ٹیم نے چیئرمین پی ٹی آئی کو 21 نکات پر مشتمل سوالنامہ بھی دے دیا، جس کا انہیں تحریری جواب دینا ہوگا۔

عمران خان پر مقدمہ

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کیخلاف 20 اگست کی تقریر پر دہشت گردی کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

انسداد دہشت گردی عدالت  نے عمران خان کی ایک لاکھ روپے مچلکوں کے عوض یکم ستمبر تک عبوری ضمانت منظور کی تھی، یکم ستمبر کو عمران خان عدالت پیش نہ ہوئے تو انہیں عدالت کی جانب سے پیش ہونے کا حکم دے دیا گیا۔

عمران خان یکم ستمبر کی دوپہر انسداد دہشت گردی عدالت پیش ہوئے، جس پر عدالت نے سابق وزیراعظم عمران خان کی عبوری ضمانت منظور کرتے ہوئے 12 ستمبر تک توسیع دے رکھی ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.