پاکستان افغانستان کو تنہا تسلیم نہیں کرسکتا، عمران خان

0 314

اسلام آباد(امروز ویب ڈیسک)وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ افغانستان میں امن خطے کے امن کےلئے ناگزیر ہے، افغانستان سے تین گروپ پاکستان کے خلاف سرگرم ہیں جنہیں پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کےلئے استعمال کیا جارہا ہے،پاکستان افغانستان کو تنہا تسلیم نہیں کرسکتا، افغان حکومت کو تسلیم کرلینا چاہیے ،کشمیر کا براہ راست تعلق پاکستان سے ہے، خطے میں امن کے لیے بھارت سے بات ہوسکتی ہے ،پہلے بھارت کو کشمیر پر لیا گیا یک طرفہ اقدام واپس لینا ہوگا

اس اقدام کے بغیر بھارت سے کوئی بات کرنا کشمیریوں سے غداری کے مترادف ہوگا ،فرانس پاکستان کیلئے بہت اہم ملک ہے، فرانس کے صدر سے دو طرفہ تعلقات پر بات کرنا چاہوں گاجب دنیا کے ساتھ ہمارے اچھے تعلقات ہوں۔وزیراعظم نے کہاکہ آخری چیز جوہم نہیں چاہیں گے وہ عالمی تنہائی ہے،یعنی ہم واحدملک ہوں جوانہیں(طالبان حکومت) کوتسلیم کرے تاہم یہ کہتے ہوئے میرایقین ہے کہ آگے بڑھنے کاواحدراستہ یہ ہے کہ اگرتقریباًچارکروڑ افغانوں کی فلاح وبہبودکے خواہاں ہیں توافغان حکومت کوجلدیابدیرتسلیم کرنا ہے کیونکہ اس وقت کوئی دوسرامتبادل دستیاب نہیں۔وزیراعظم نے کہاکہ جب پچھلی بارطالبان کی حکومت تھی تو ان کاشمالی اتحاد کے ساتھ تنازعہ چل رہاتھا۔افغانستان میں اب کوئی تصادم نہیں جوکہ 40 سال بعدپہلاموقع ہے، ۔ اگرکوئی افغانوں کے کردارسے واقف ہے تو اسے یہ ادراک ہونا چاہیے

کہ وہ بہت فاخرلوگ ہیں اورآپ انہیں مجبورنہیں کرسکتے، وہ بیرونی مداخلت سے نفرت کرتے ہیں، 2001 میں پاکستان ان تین ممالک میں سے ایک تھاجنہوں نے افغانستان کوتسلیم کررکھاتھا،اس کے باوجود جب پاکستان نے طالبان سے یہ کہنے کی کوشش کی کہ وہ اسامہ بن لادن کو امریکاکے حوالے کردے تو انہوں نے صاف انکار کردیا۔ اس لئے ایک حد تک بیرونی دباﺅ کسی حکومت پر اثر اندازہو سکتا ہے۔ خاص طور پر ایسی حکومت پر جو طالبان کی طرح بہت زیادہ آزادی پسند ہے۔ صرف متنبہ کرنے کے لئے اگر کوئی یہ سوچتا ہے کہ اس عمل کے لئے آپ انہیں مجبور کر سکتے ہیں تو ایسا نہیں ہونے والا ہے اور ہمیں توقع بھی نہیں کرنی چاہیے کیونکہ خواتین کے حقوق کے متعلق افغانستان کے لوگ کیاسوچتے ہیں

اور مغرب میں خواتین کو کیا حقوق حاصل ہیں ان دونوں کے درمیان ایک بڑی خلا ہے۔ خواتین کے لئے مغربی طرزکے حقوق کی اگرکوئی توقع کررہاہوں توافغانستان میں ایسا نہیں ہوگا تاہم وہ اس بات سے متفق ہے کہ لڑکیوں کو تعلیم حاصل کرنے کی اجازت ہونی چاہیے۔ کم از کم یہ ایک ایسا نقطہ ہے جس پر جب وہ یہاں آئے تو انہوں نے اتفاق کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ دو خدشات موجود ہیں پہلا تو پناہ گزین ہیں۔ پاکستان میں پہلے ہی چالیس لاکھ سے زیادہ پناہ گزین موجود ہیں اور تشویش ناک بات یہ ہے کہ اگر افغانستان میں حالات بگڑتے ہیں ، اگر یہ انسانی بحران بد تر ہوتا ہے تو ملک میں پناہ گزینوں کاایک سیلاب آئے گا۔ پاکستان مزید پناہ گزینوں کا متحمل نہیں ہو سکتا،ہمارے پاس وسائل نہیں ہیں، دوسرا یہ کہ سقوط کابل سے قبل افغانستان سے تین گروہ کاررائیاں کررہے تھے پہلے نمبر پر ٹی ٹی پی پاکستانی طالبان، دوسرا بلوچ دہشت گرد تھے اور تیسرے نمبر پر داعش تھی، اس لئے ہمارا پختہ یقین ہے کہ جتنی زیادہ مستحکم افغان حکومت ہوتی جائےگی ان گروہوں کو وہاں سے کارروائیاں کرنے کے مواقع کم ملیں گے،

اس لئے ہمارے پاس مضبوط دلائل ہیں۔ پاکستان کے پاس افغانستان میں استحکام کی مضبوط ترین دلیل ممکنہ مہاجرین اور دہشت گردی ہے۔طالبان حکومت کی جانب سے اپنی سر زمین کو دیگر ممالک کے خلاف دہشت گردی کے استعمال نہ کرنے کے سوال پر وزیراعظم نے کہا کہ انہیں طالبان حکومت پر بھروسہ ہے میرے خیال میں جس نے بھی افغان طالبان کے ساتھ کام کیا ، میں سال 2000 کی بات کررہا ہوں، ایک بات آپ کہہ سکتے ہیں کہ وہ اپنی زبان پر قائم رہتے ہیںوزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ حکومت کے 5 سال مکمل ہونے پر دیکھوں گا غربت ختم ہوئی یا نہیں،22 کروڑ آبادی کسی بھی ملک کی بہت بڑی طاقت ہوتی ہے،

اگر آپ اپنی معیشت میں شامل کرلیں تو ہماری بڑی طاقت ثابت ہوں گے، ڈیجیٹل پاکستان اس سفر کا نام ہے جس کے تحت ہم لوگوں کو معیشت میں شامل کریں گے،دنیا میں آگے بڑھنے کے لئے ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانا ہو گا، 22 کروڑ آبادی کو رسمی معیشت کا حصہ بنا کر اثاثہ بنایا جا سکتا ہے، سمندر پار پاکستانیوں کے لئے مزید آسانیاں پیدا کریں گے، نچلے طبقے کے حالات بہتر بنانا ہی ہماری اصل کامیابی ہوگی ۔ وہ منگل کو ملک کے پہلے ڈیجیٹل پیمنٹ سسٹم ”راست“ کا اجراءکرنے کی تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ وزیراعظم نے کہا کہ 22 کروڑ کی آبادی کو اگر ہم رسمی معیشت کا حصہ بنا لیں تو اسے ایک اثاثے میں تبدیل کیا جاسکتا ہے

Leave A Reply

Your email address will not be published.