لاہور ہائی کورٹ نے عمران خان کی حفاظتی ضمانت کا فیصلہ پیشی سے مشروط کردیا

0 120

 لاہور: لاہور ہائیکورٹ نے چیئرمین پی ٹی آئی کی حفاظتی ضمانت سے متعلق درخواست پر دورانِ سماعت عدم حاضری پر عدالتی کارروائی کل تک ملتوی کردی۔ 

خیال رہے کہ الیکشن کمیشن کے باہر احتجاج کے کیس میں انسداد دہشت گردی کی عدالت کی جانب سے عبوری ضمانت عدم پیشی پر خارج ہونے کے بعد عمران خان کے وکیل نے لاہور ہائیکورٹ میں حفاظتی ضمانت کے لیے رجوع کیا تھا۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ درخواست گزار عدالت پیش نہیں ہوا، عدالت نے درخواست گزرا کو پیش ہونے کا موقع بھی دیا اور سوا آٹھ بجے دوبارہ درخواست گزرا کے وکیل نے مہلت مانگی۔

جسٹس طارق سلیم شیخ نے ریمارکس دیے کہ جب تک عمران خان عدالت میں پیش نہیں ہوتے ان کی درخواست منظور نہیں کی جا سکتی۔ بعدازاں عدالت نے سماعت کل (بروز جمعرات) تک ملتوی کردی۔

عدالت رات 8 بجے تک موجود ہے، عدالت

اس سے قبل سماعت کے دوران لاہورہائیکورٹ نے کہا کہ عدالت رات 8 بجے تک موجود ہے اگر حفاظتی ضمانت چاہیے تو درخواست گزار لیکر آئیں۔ عدالت نے مزید ریمارکس دیے کہ رات دیر تک عدالتیں کھولنے پر آپ لوگوں کو اعتراض ہوتا ہے۔

جسٹس طارق سلیم شیخ نے عمران خان کے وکیل کو ہدایت دی کہ میں آپ کا پابند نہیں ہوں جو 12 بارہ بجے تک انتظار کروں گا۔

دوران سماعت عمران خان کے وکیل نے کہا کہ اسلام آباد کی عدالت نے میڈیکل گراؤنڈ پر حاضری سے استثنی نہیں دیا، اسلام آباد کی عدالت نے درخواست ضمانت مسترد کر دی ہے، انسداد دہشتگری عدالت اسلام آباد میں دوبارہ درخواست ضمانت دائر کرنی ہے۔

انہوں نے استدعا کی کہ لاہور ہائیکورٹ متعلقہ عدالت میں سرنڈر کرنے کے لیے حفاظتی ضمانت منظور کرے جبکہ میڈیکل رپورٹس ساتھ ہیں، ڈاکٹرز نے میڈیکل رپورٹس کی بنیاد پر لکھا ہے کہ وہ تین ہفتوں تک مزید چل پھر نہیں سکتے، درخواست گزار اپنے گھر میں ہے اشتہاری نہیں۔

عدالت نے استفسار کیا کہ درخواست گزار کہاں پر ہے اس درخواست کو کس بنیاد پر منظور کرو؟ ہم نے قانون کے مطابق چلنا ہے، جو بھی عدالت آئے گا اس کے ساتھ ایک جیسا سلوک ہوگا۔

عدالت نے ریماکس دیے کہ اگر آپ کو حفاظتی ضمانت چاہیے تو درخواست گزار کو عدالت پیش کریں، ہم ادھر بیٹھے ہیں آپ درخواست گزار کو ساتھ لے آئے۔ وکیل درخواست گزرا نے مؤقف اختیار کیا کہ عمران خان سابق وزیراعظم ہیں وہ پیش ہونے سے قاصر ہیں۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ اگر زیادہ خطرہ ہے تو ہم عدالت کے گارڈز بھیج دیتے ہیں۔ عمران خان کے وکیل نے کہا کہ زمان پارک سے عدالت تک حفاظتی ضمانت دی جائے۔ جس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ میں آئی جی پنجاب کو کہتا ہوں وہ خود درخواست گزار کو لیکر آتا ہے۔

عمران خان کی سیکیورٹی کا مسئلہ ہے، فواد چوہدری

فواد چوہدری نے سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کے سامنے پرامن احتجاج کیا گیا جس میں عمران خان شریک نہیں تھے مگر اُن کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان کی سیکیورٹی کا مسئلہ ہے، اداروں نے کہا ہے عمران خان پر دوبارہ حملہ ہوسکتا ہے جبکہ انہیں ڈاکٹرز نے بھی دو ہفتوں کے آرام کا مشورہ دیا اور بتایا ہے کہ ہڈی جڑ گئی ہے مگر احتیاط نہ کرنے کی وجہ سے یہ دوبارہ کھل جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان نوازشریف نہیں جنہیں لندن جانا ہو، چیئرمین پی ٹی آئی ڈرنے والے نہیں وہ حکومت کو گھر بھیج کر ہی رہیں گے، موجودہ حکومت آئین اور قانون کی دھجیاں اڑا رہی ہے۔

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ملک اس وقت دہشت گردی کا شکار ہے، کیس کی سماعت میں کل ہم دوبارہ دلائل دیں گے۔ اس سے قبل انہوں نے کہا کہ تھا کہ عمران خان زخمی ہیں اور چل پھر نہیں سکتے۔

رہنما پی ٹی آئی نے کہا تھا کہ اجلاس مں فیصلہ ہوا کہ چیئرمین پی ٹی آئی ہائی کورٹ پیش نہیں ہوں گے اور عمران خان خرابی صحت کی وجہ ہائی کورٹ پیش نہیں ہو سکتے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.