افغانستان کے95 فیصد شہریوں کے پاس کھانے کو کچھ نہیں، وزیرخارجہ

0 74

اسلام آباد (امروز ویب ڈیسک)وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے دنیا کو خبر دار کیا ہے کہ افغانستان میں حالات بگڑ رہے ہیں، صورتحال خراب ہونے سے دہشت گردوں کو پنپنے کا موقع مل جائےگا ، پاکستان 41 برس کے بعد او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کے غیر معمولی اجلاس برائے افغانستان کی میزبانی کرنے جا رہا ہے،

اجلاس کا واحد ایجنڈا افغانستان کی صورتحال ہو گا،پورا خطہ سردی کی لپیٹ میں آنے والا ہے، احتمال ہے معصوم ،لوگ، بچے بھوک سے مرجائیں گے، افغانستان میں انسانی بحران کا پڑوسیوں پر بھی اثر پڑے گا۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی زیر صدارت وزارت خارجہ میں او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کے غیر معمولی اجلاس کے انتظامات کا حتمی جائزہ لینے کیلئے اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا، جس میں وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری، سیکرٹری خارجہ سہیل محمود، وزارتِ خارجہ کے ترجمان عاصم افتخار اور وزارت خارجہ کے سینئر افسران نے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس میں وزیر خارجہ کو او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کےغیر معمولی اجلاس کے انتظامات کے مختلف پہلوو¿ں کے حوالے سے مفصل بریفنگ دی گئی۔وزیر خارجہ نے انتظامات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے انہیں مزید بہتر بنانے کیلئے خصوصی ہدایات دیں اور کہا کہ پاکستان 41 برس کے بعد او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کے غیر معمولی اجلاس برائے افغانستان کی میزبانی کرنے جا رہا ہے، اس اجلاس کا واحد ایجنڈا افغانستان کی صورتحال ہو گا

اور اس کے توسط سے افغانستان میں انسانی بحران سے نمٹنے، افغانستان کے امن و استحکام سے متعلق متفقہ لائحہ عمل طے کرنے کیلئے سنہری موقع میسر آئے گا، میں آج دنیا کو باور کروانا چاہتا ہوں کہ اگر افغانستان کی صورتحال پر سنجیدگی کا مظاہرہ نہ کیا گیا تو افغانستان میں ابھرتا ہوا انسانی بحران سنگین صورتحال اختیار کر سکتا ہے، افغانستان کا معاشی انہدام واضح دکھائی دے رہا ہے، اس بحران سے نہ صرف پاکستان بلکہ پورا خطہ متاثر ہو گا۔شاہ محمود قریشی نے بتایا کہ میں نے نیویارک میں مختلف وزرائے خارجہ کے ساتھ ہونیوالی ملاقاتوں میں افغانستان کی مخدوش صورتحال کی جانب توجہ دلائی، حال ہی میں برسلز میں یورپی یونین کے خارجہ امور کے سربراہ جوزف بوریل کے ساتھ افغانستان کی سنگین صورتحال پر تبادلہ خیال کیا، میں نے انہیں باور کروایا کہ اگر افغانستان کی صورتحال پر توجہ نہ دی گئی تو وہاں جنم لینے والے بحران سے نہ صرف خطے کے ممالک متاثر ہوں گے بلکہ یورپ بھی متاثر ہو گا،

آج اقوام متحدہ،ورلڈ بینک،آئی ایم ایف، ہماری بات دہرارہے ہیں، وہ کہہ رہے ہیں کہ اگر افغانستان پر لگی پابندیوں پر نظرثانی نہ کی گءاور افغانوں کو فی الفور امداد بہم نہ پہنچاءگءتو بہت بڑا بحران سامنے آ سکتا ہے۔وزیرخارجہ نے کہا کہ افغانستان میں کوئی بنکنگ نظام نہیں ہے، عالمی ادارے کہہ رہے ہیں کہ اگر فوری توجہ نہ دی گئی تو 2022 کے وسط تک 97 فیصد افغان سطح غربت سے نیچے ہوں گے، اس وقت 95 فیصد افغانوں کے پاس کھانے کو کچھ نہیں ہے، ہم اپنی ذمہ داری نبھا رہے ہیں لیکن پاکستان تنہا یہ ذمہ داری نہیں اٹھا سکتا، افغانستان میں بارشیں نہیں ہوئیں،قحط کی صورتحال ہے، ان کے پاس سرکاری ملازمین کو دینے کے لیے تنخواہیں نہیں،فوری فیصلے نہ کیے گئے تو بڑا بحران آئےگا، پورا خطہ سردی کی لپیٹ میں آنے والا ہے، احتمال ہے کہ معصوم ،لوگ، بچے بھوک سے مرجائیں گے۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان کے مو¿قف پر توجہ نہیں دی گئی،حقائق نے ا±سے درست ثابت کر دیا،

پاکستان کہتا آ رہا ہے کہ افغانستان کا سیاسی حل تلاش کریں، دنیا کو باور کرانا چاہتے ہیں کہ افغانستان میں حالات بگڑ رہے ہیں،دنیا کو افغانستان کے معاملات میں فوری مداخلت کرنا ہوگی، افغانستان کو انسانی بحران سے بچانا ہوگا، افغانستان میں انسانی بحران کے پاکستان پر اثرات مرتب ہوں گے، 40لاکھ افغان مہاجرین کی آج بھی خدمت کررہے ہیں، مزید افغان مہاجرین کا بوجھ اٹھانے کی استطاعت نہیں۔وزیرخارجہ نے کہا کہ افغانستان میں انسانی بحران کا پڑوسیوں پر بھی اثر پڑے گا، دہشت گردی کی نئی لہر جنم لے سکتی ہے، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے افغانستان کی انسانی معاونت کیلئے “فلیش اپیل” دنیا کے سامنے رکھی، وزیر اعظم عمران خان نے ہر فورم پر افغانستان کا معاملہ اٹھایا، پاکستان کہتا رہا کہ افغانستان میں مسلط کی گئی حکومت پر عوام کا اعتماد نہیں ہے سیاسی سمجھوتے کیلئے آگے بڑھنا چاہیے، افغانستان میں خدانخواستہ اگر انسانی بحران پیدا ہوتا ہے تو اس کے نتیجے میں افغان مہاجرین کی ایک یلغار سامنے آ سکتی ہے، افغانستان میں صورتحال خراب ہونے سے دہشت گردوں کو پنپنے کا موقع مل جائے گا، اور دہشت گردی کے خلاف کی گئی کاوشیں ملیا میٹ ہو جائیں گی، ضرورت کی اشیاءافغانستان کا رخ کریں گی تو پاکستان میں مہنگائی مزید بڑھے گی۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.