آسامیوں کی خرید و فروخت اب بھی عروج پر ہے ،عبدالحق ہاشمی
کوئٹہ( امروز نیوز)جماعت اسلامی کے صوبائی امیر مولانا عبدالحق ہاشمی نے کہا کہ حکومتی سطح پر آسامیوں کی تشہیر توکی جاتی ہے مگر تعیناتی میں کرپشن اور خرید وفروخت اب بھی عروج پرہے آسامیوں کے حوالے سے انٹرویووٹیسٹ اور تعیناتی کا باربار ملتوی ہونے کا سبب بھی یہی بدعنوانی ہے آسامیوں کے حوالے کرپشن وبے قاعدگی نے اہل وپڑھے لکھے نوجوانوں کو مایوس کر دیا ہے ۔بدعنوانی کی وجہ سے نائب قاصد کی اسامی کیلئے بھی 3سے 5لاکھ روپے مانگے جاتے ہیں جو لمحہ فکریہ اور بے روزگار پڑھے لکھے نوجوانوں کے حق مارناکے مترادف ہے ۔انہوں نے کہا کہ حکومت کے ناک کے نیچے خیانت وظلم کا بازار گرم ہے اس کا تدار ک کون کریگاحکومت انصاف وعدل نام کی کوئی چیز نہیں اس اندھیر نگری میں جو ملازمت قیمتاً یعنی رشوت دیکر حاصل کریگا وہ بھی کرپشن وبدعنوانی اور لوٹ مار ہی کریگاکرپشن کو کرپشن کے ذریعے ختم نہیں کیا جاسکتا ۔جماعت اسلامی اس ظلم کے خلاف ہر فورم پر آوازبلند کرتی رہیگی بلوچستان میں بے روزگاری انتہا کو پہنچ گئی ہے بدقسمتی سے اہل وپڑھے لکھے نوجوان ڈگریاں ہاتھوں میں ملازمت کی تلاش میں ہوتے ہیں ان کے پاس اہلیت تو ہے مگر بڑی ،ناجائز دولت ورشوت اور سفار ش نہ ہونے کی وجہ سے ان لوگوں کو ملازمت نہیں ملتی ۔رشوت ختم کرنے اور ان کے تدار ک کرنے والے اگر خود رشوت دیکر ملازمت حاصل کریں گے تو خاک بدعنوانی چوری روکھے گی ۔حکومتی سطح پر انصاف وقانون پرمبنی معاشرہ تشکیل دینے کی ضرورت ہے تاکہ حق داروں کو ان کا جائز حق ملیں روزگار برائے فروخت کے بجائے اہل وپڑھے لکھے نوجوانوں کو روزگار ملیں ۔ظلم وجبر اور رشوت پر مبنی معاشرے میں سکون واطمینان اور خوشحالی کے بجائے پریشانی ،بے برکتی اور بے سکونی ہی عام ہوگی حق پر مبنی،دینی ،ذمہ دارفلاحی معاشرے کی تشکیل کی ضرورت ہے جس میں حقداروں کو ان کا حق میسر ہو۔