علم سے غافل اقوام کے لئے تاریخ میں کوئی جگہ نہیں اصغر اچکزئی

0 236

کوئٹہ (امروز نیوز)عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر و صوبائی پارلیمانی لیڈر اصغرخان اچکزئی نے 16دسمبر کی تاریخ سے سبق سیکھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس دن کے دو حوالے ہیں ایک حوالہ جمہور کی رائے کا احترام نہ کرنے کی صورت میں پیش آنے والا سقوط ڈھاکہ ہے اور دوسرا حوالہ آرمی پبلک سکول کا ہے جس کے بعد نیشنل ایکشن پلان بنایاگیا جب تک ملک میں جمہور کی رائے کا احترام نہیں ہوتا اور معاشرے میں تشددکو ہوا دینے والی پالیسی ترک نہیں کی جاتی سانحات کی راہ نہیں روکی جاسکتی ، ملک بھر میں تعلیم کی صورتحال بالعموم اور بلوچستان میں بالخصوص انتہائی خراب ہے صحت تعلیم اور دیگر شعبوں میں ہمیں بہت زیادہ کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ان خیالات کااظہار انہوںنے پیر کے روز بوائے سکاﺅٹس ہال میں کیمبرج سکول کے زیراہتمام منعقدہ سالانہ تقریب تقسیم انعامات سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب سے ڈپٹی سپیکربلوچستان اسمبلی سردار بابرخان موسیٰ خیل ، سکول کے پرنسپل و اساتذہ نے بھی خطاب کیا۔ اصغرخان اچکزئی نے کہا کہ علم سے غافل اقوام کے لئے تاریخ میں کوئی جگہ نہیں جو قومیں اپنے نوجوانوں کو علم اور ہنر سے لیس نہیں کرتیں وہ ترقی اور خوشحالی کی منزل تک کبھی نہیں پہنچ سکتیں ہم نے ہمیشہ علم و ہنر ، شعور ، آگاہی اور سیاسی و سماجی بیداری کی بات کی ہے اور ہمیشہ کرتے رہیں گے۔ انہوںنے کامیاب طلبہ کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ آپ اپنی توجہ حصول علم پر مرکوز رکھیں علم کے بغیر ترقی اورخوشحالی کی منزل تک رسائی ممکن نہیں۔ انہوںنے کہا کہ آج ہم یہ تقریب ایک ایسی تاریخ کو منارہے ہیں جس سے ہماری انتہائی تلخ یادیں وابستہ ہیں 16دسمبر1971ءکو آج ہی کے دن سقوط ڈھاکہ ہوا اور 16دسمبر2014ءکوپشاور کے آرمی پبلک سکول پر دہشت گردانہ حملے کا واقعہ رونما ہوایہ دونوں واقعے دو تلخ حوالے ہیں ون یونٹ کے وقت ملک میں عام انتخابات منعقد ہوئے جس میں ایک جماعت نے اکثریت حاصل کی ہم نے اقتدار حوالہ کرنے کی بجائے جمہور کی رائے کو جوتے کی نوک پر رکھا جس سے دوریوں نے جنم لیا اور بعد میں لوگوں نے ا س سے فائدہ اٹھایا اور 16دسمبر کا سقوط ڈھاکہ کا واقعہ پیش آگیا اسی طرح آج کی تاریخ کا دوسرا حوالہ اے پی ایس کا سانحہ ہے اس دن معصوم اور بے گناہ پھول جیسے بچوں کا قتل عام کیا گیا چالیس سال سے جو پالیسیاں اس ملک میں روا رکھی گئیں ان کی نشاندہی ہم نے پہلے بھی کی آج بھی کررہے ہیں آئندہ بھی کرتے رہیں گے کہ جب تک پالیسی ساز پالیسی تبدیل نہیں کرتے معاشرے کو امن اور خوشحالی کا گہوارہ نہیں بنایا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ سانحہ اے پی ایس کے بعد پورے ملک کی قیادت سر جوڑ کر بیٹھی اور نیشنل ایکشن پلان بنایا نیشنل ایکشن پلان پر اس کی اصل روح کے مطابق عملدرآمد کرنے کی ضرورت ہے اور اگر اب بھی اس سے آنکھیں چرانے کی کوشش کی گئی تو یہ بطورمعاشرہ ہمارے لئے انتہائی خطرناک عمل ہوگا۔ انہوںنے تعلیمی شعبے کی بہتری ، بحالی اور اصلاحات کے لئے ہر ممکن حد تک جانے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم کا شعبہ پورے ملک میں تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے لیکن ہمارے صوبے میں صورتحال زیادہ خراب ہے اس حوالے سے اساتذہ کرام، طلبہ ، سول سوسائٹی سب کو اپنا کردار اداکرنے کی ضرورت ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.