بلوچستان میں حالیہ برفباری اور حکومتی دعوے۔۔۔۔

0 127

پنجگور(امروز نیوز)
نیشنل پارٹی کے صوبائی نائب صدر اور سابق صوبائی وزیر صحت میر رحمت صالح بلوچ نے کہا کہ حالیہ طوفانی بارشوں اور برفانی سے بلوچستان میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی گھر بار مکانات مال مویشی زرعی بندات اور فصلیں سمیت بجلی پانی کا نظام درہم برہم ہوچکا ہے بلوچستان میں انسانی المیہ نے جنم لیا ہے لیکن بلوچستان حکومت اور وفاقی حکومت زبانی اخباری بیانات اور سوشل میڈیا میں بلند بھانگ دعوی کرکے انسانی جانوں سے کھیل رہی ہے عوام کو ریلیف فراہم کرنے بجائے خواب غفلت میں سویا ہوا ہے علامی ڈونرز تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ بلوچستان میں حالیہ طوفا ی بارشوں اور فرفانی کی تباہ کاریوں اور انسانی جنم لینے والی المیہ کا نوٹس لیکر بلوچستان کے مظلوم عوام کی مدد کریں انہوں نے کہا کہ مکران ڈویژن سے لیکر ژوب رخشان ڈویژن سے لیکر جھالاوان اور سراوان سمیت پورے بلوچستان میں حالیہ طوفانی بارشوں اور فرفباری سے تباہی کی وجہ سے انسانی المیہ نے جنم لیا ہے انسانی جانوں کے ضائع کے ساتھ مکانات گھر چاردیواری مال مویشی زرعی زمینات بندات فصلیں مکمل طور پر تباہ ہوچکی ہے بجلی پانی کا نظام درہم برہم ہوچکا ہے بلوچستان میں بڑی تباہی کے باوجود حکومت بلوچستان اور وفاقی حکومت مکمل طور پر بلوچستان کے عوام کو ریلیف فراہم کرنے میں ناکام ہوچکا ہے عوام شدید سردی میں بے یار مدد گار کھلے اسمان طلے زندگی بسر کررہے صوبائی حکومت کے ساتھ وفاقی حکومت اور خصوصا وزیر اعظم نے بھی بلوچستان کے عوام کے ساتھ سوتیلے ماں جیسا سلوک کرکے بلوچستان کی طرف توجہ دینا ہی چھوڈ دیا یے وزیراعظم کو فرصت نہیں کہ وہ بلوچستان کا دورہ کریں انہوں نے کہا کہ حالیہ بارشوں کو تین دن گزرگئے ہیں لیکن اب تک بلوچستان کے بیشتر علاقوں کے عوام بے سروسامانی کاشکار ہیں یہاں تک کہ بلوچستان کے عوام راشن اور امدادی اشیاء تک موئثر نہیں ہے جو افسوسناک عمل ہے انہوں نے پی ڈی ایم اے اور این ڈی ایم اے سے درخواست کی کہ بلوچستان کو افت زدہ علاقہ قرار دے کر فوری ایمرجنسی نافذ کرکے انٹر نیشنل ڈونرز سے مدد طلب کرکے امدادی سرگرمیاں شروع کریں

Leave A Reply

Your email address will not be published.