بی این پی کے چھ نکات میں لاپتہ افراد کی بازیابی کا مسئلہ سرفہرست ہے، غلام نبی مری

0 244

کوئٹہ (امروز ویب ڈیسک) بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی کمیٹی کے ممبر غلام نبی مری نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ بلوچ مائیں بہنیں گزشتہ ایک ہفتے سے اپنے پیاروں کی بازیابی کیلئے اس شدید سردی میں اسلام آباد ڈی چوک پر دھرنہ دئیے بیٹھے ہیں دھرنے کے شرکاء کے ساتھ وہاں کی انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے روا رکھا گیا غیر اسلامی، غیر جمہوری و انسانی رویہ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ بلوچ خواتین نے کوئٹہ پریس کلب سے لیکر کراچی پریس کلب اور پھر نیشنل پریس کلب اسلام آباد تک طویل ترین لانگ مارچ کیا جو سینکڑوں میل پر مشتمل ہے لانگ مارچ کے شرکاء نے اپنے پیاروں کی بازیابی کیلئے پیدل سفر کیا لواحقین کا مطالبہ ہے کہ لاپتہ افراد اگر قانون کی خلاف ورزی کے مرتکب ہیں

یا کسی بھی حوالے سے قانون کو مطلوب ہیں تو انہیں قانون کے مطابق ملکی عدالتوں میں پیش کیا جائے تاکہ یہ معلوم ہوجائیں کہ ان کا جرم اور قصور کیا ہے کیونکہ یہ ملک کے مطابق چلتا ہے اور اس آئین پر عمل کیلئے ادارے ، عدلیہ موجود ہے پاکستان اقوام متحدہ کے بنیادی انسانی حقوق کے حوالے سے ممبر ہے اور اس طرح کے اقدامات انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے اعلیٰ عدلیہ نے بھی اس حوالے سے ہدایت کی ہے کہ ملک میں بلوچ ہو یا کوئی اور لاپتہ افراد کو بازیاب کراکر عدالت میں پیش کیا جائے انہوں نے کہا کہ ملک میں جب تک قوموں کی بقاء، تحفظ اور سلامتی ، تشخص، زبان ، کلچر ہزاروں سالوں پر مشتمل جغرافیہ، تہذیب و تمدن اور حق حکمرانی، وسائل پر اختیار تسلیم نہیں کیا جاتا، فیڈریشن میں تمام پالیسی ساز اداروں میں قوموں کو برابری کی بنیاد پر حق نمائندگی نہ ہوں

تو یہ مسائل جوں کے توں رہیں گے آج ملک جس سنگین سیاسی سماجی آئینی بحران تضادات اور کشمکش کا شکار ہیں ان کی وجوہات صرف اور صرف وہ پالیسیاں ہیں جو حکمرانوں نے محکوم قوموں کے ساتھ روا رکھے ہیں بلکہ ان کو تیسرے درجے کی حیثیت سے آج قوموں میں شدید احساس محرومی جنم لے چکی ہیں اور پہلی دفعہ ملکی سطح پر بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر جان مینگل نے شراکت اقتدار میں وزارتوں، مراعات اور دیگر مفادات کو ٹھوکر مارتے ہوئے بلوچستان کے دیرینہ اجتماعی قومی سیاسی مسائل کے حل کیلئے 6 نکات پیش کیے اور ان چھ نکات میں سرفہرست لاپتہ افراد کی بازیابی کا مسئلہ ہے

بلوچستان میں گوادر سے متعلق قانون سازی سمیت دیگر اہم مسائل شامل ہیں اگر ان مسائل کو حل نہیں کیا گیا تو حالات ابتر ہوں گے کیونکہ اقوام کو مزید بزور طاقت، خوف و ہراس، دھونس دھمکیوں قتل و غارتگری، ان کے حقوق سے محروم رکھنے سے ملک ترقی کی بجائے پسماندگی کی طرف بڑھے گا، 21 ویں صدی اقوام کی ترقی و خوشحالی، جمہوریت کی حقیقی شکل کی بحالی ہے اگر پرانا ڈگر اپنایا گیا تو ملک بحرانوں میں دھنستا چلا جائے گا آج ملک بند گلی کی طرف جا رہا ہے اور عوام کا موجودہ سیٹ اپ اور اسٹیٹس کو سے اعتماد ختم ہوتا جا رہا ہے اور لوگ اس نظام کے ساتھ مزید رہنے کیلئے تیار نہیں ہیں

انہوں نے کہا کہ محکوم اقوام میں دن بدن تشویش بڑھ رہی ہے بلوچستان میں کچھ لوگوں کو لاپتہ اور کچھ کو بازیاب کرانے سے یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا بلوچستان کا بنیادی مسئلہ ساحل و سائل پر واک و اختیار، سرزمین پر ان کی حق حاکمیت تسلیم کرنے سے مسائل حل ہوں گے حکمرانوں اور با اختیار قوتوں کو اپنی پالیسی تبدیل کرنا ہوگی اور بلوچستان کو ملک کے دیگر صوبوں کی طرح تسلیم کرنا ہوگا تب مسائل میں بہتری آئے گی انہوں نے مطالبہ کیا کہ تمام لاپتہ افراد کو بازیاب کرایا جائے بلوچستان کا مسئلہ سیاسی ہے مسائل کو سیاسی عمل کے ذریعے حل کیا جائے انہوں نے کہا کہ بی این پی اپنے بزرگ عظیم قوم پرست سیاسی رہنما سردار عطا اللہ خان مینگل کی رہبری اور سردار اختر جان مینگل کی قیادت میں جاری جدوجہد علاقائی، گروہی اور ذاتی مفادات کی بجائے بلوچستان کی قومی اجتماعی مفادات کی دفاع اور تحفظ کیلئے ھے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.