مستونگ کے محلہ زرخیلان میں تین روز سے عوام گھروں میں محصور ہیں اور کھانے کو کچھ نہیں ،آغا فاروق شاہ
کوئٹہ (امروزنیوز)
مستونگ (نامہ نگار)نیشنل پارٹی کے صوبائی ورکنگ کمیٹی کے ممبر آغا فاروق شاہ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ مستونگ کے محلہ زرخیلان میں تین روز قبل ایک شخص کا کورونا ٹیسٹ مثبت آیاتھا جس کے بعد انتظامیہ نے پورے محلہ کو بغیر اطلاع دیے سیل کردیا جس کی وجہ سے ہم محلہ کے لوگ گزشتہ تین دنوں سے اپنے گھروں میں محصور ہوکر رہ گئے ہیں عوام کے گھروں میں موجود اشیاء خوردونوش بھی ختم ہوگئی ہیں محلے کے لوگ سخت پریشانی کے عالم میں ہیں راستے سیل ہونے کے باعث لوگ گھروں سے نکل نہیں پا رہے اور انتظامیہ لوگوں کو اشیاخوردونوش لینے کی اجازت بھی نہیں دے رہی ہے خدشہ ہے کہ لوگ کورونا وائرس سے زیادہ روزمرہ خوراک نہ ملنے سے موت کے منہ میں نہ چلے جائیں دوسری جانب ضلعی انتظامیہ دن کی روشنی کے بجائے رات کی تاریکی میں راشن تقسیم کرنے میں مصروف عمل ہے اور اصل مسئلہ جہاں لوگوں کی زندگیوں کا ہے وہاں ضلعی انتظامیہ اور ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ تماشاہی بنے ہوئے ہیں اور اب اسی محلہ کے متاثرہ خاندان کے نو افراد کے کورونا ٹیسٹ مثبت آئیں ہیں لیکن حکومتی اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں صوبائی حکومت اپنی ذمہ داریوں کا ادراک کرتے ہوئے محلہ زرخیلان کے لوگوں کو محدود پیمانے پر روزمرہ اشیاء خورنوش و دیگر ضروری سامان کی خریداری کے لیے اقدامات کیے جائیں اور فوری طور پر مستونگ میں کورونا وائرس کی تدارک کے لیے سنجیدہ اقدامات اٹھائیں حکومت کی جانب سے مستونگ میں کورونا وائرس کی فوری روک تھام کے لیے اقدامات نہ اٹھانا سمجھ سے بالاتر ہے تفتان میں حکومتی لاپرواہی کی وجہ سے آج جو صورتحال پہنچی ہے خدانخواستہ وہ مستونگ میں عدم توجہی سے وائرس اندرون بلوچستان بھی پھیل سکتا ہے حکومت مستونگ میں وائرس کی روک تھام کے لیے ڈبلیو ایچ او کی ہدایات پر فوری عملدرآمد کرتے ہوئے اقدامات کرے ضلعی انتظامیہ اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے محلہ زرخیل کے تمام افراد کے ٹیسٹ کروائے جائیں اور وائرس سے متاثرہ خاندان کے لوگوں کا جن افراد سےمیل جول رہا ہے ان کے خصوصی ٹیسٹ کیے جائیں اور محلہ کہ مساجد اور گھروں میں وائرس کش سپرے کیا جائے محلہ کے لوگوں کے لیے راشن اور دیگر طبی آلات اور ضروری سامان فراہم کرنے کے لئے فوری بنیادوں پر اقدامات اٹھائیں جائیں تاکہ وائرس کو پورے ضلع میں پھیلاو کوروکنے کے لیے عملی طور پر انتظامات کیے جائیں اگر یہ اقدامات مستونگ کے عوام کے لئے نہیں اٹھائی گی تو عوام سڑکوں پر نکلنے پر مجبور ہونگے۔.