پاکستان ایران کےساتھ اپنے دیرینہ دوستانہ تعلقات کو بڑی اہمیت دیتا ہے، قاسم سوری

0 335

اسلام آباد (امروز ویب ڈیسک)ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری نے کہا ہے کہ پاکستان ایران کے ساتھ اپنے دیرینہ دوستانہ اور برادارانہ تعلقات کو بڑی اہمیت دیتا ہے اور موجودہ حکومت پارلیمانی اور معاشی شعبوں میں تعاون کو فروغ دے کر دو طرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک مذہب اخوت اور ہمسائیگی کے لا زوال رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں اور اہم علاقائی و عالمی امور پر یکساں موقف رکھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک نے علاقائی اور عالمی فورمز پر ہمیشہ ایک دوسرے کےموقف کی حمایت کی ہے

۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار پاکستان میں تغینات ایران کے سفیر سید محمد علی حسنی سے گفتگو کرتے ہوئے کیا جنہوں نے جمعرات کے روز پارلیمنٹ ہاوس میں ڈپٹی اسپیکر سے ملاقات کی۔ڈپٹی اسپیکر نے دو طرفہ تعلقات میں ہونے والی حالیہ پیش رفت پر اطمنا ن کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دو طرفہ تعلقات میں تیزی سے اضافہ اطمینان بخش ہے اور سیاسی، پارلیمانی اور دفاعی شعبوں میں اعلی سطح پر ہونے والے تبادلے اس کے عکاس ہیں۔ انہوں نے دونوں ممالک میں پارلیمانی رابطوں کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دونوں برادر اسلامی ممالک کے ارکین پارلیمنٹ دو طرفہ تعلقات کو مزید وسعت دینے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک نے ہر مشکل وقت میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہےاور کشمیر ، فلسطین اور خطے میں پائیدار امن و استحکام کی خواہش رکھتے ہیں۔انہوں نے کشمیر پر ایران کے واضح موقف کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایران کی جانب سے کشمیری عوام کی حمایت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ انہوں نے دونوں ممالک میں اقتصادی، تجارتی اور ثقافتی شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ڈپٹی اسپیکر نے پاک ایران سرحد کے دونوں اطراف تجارتی مارکیٹوں کے قیام کے فیصلے کو خوش آئیند قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ سرحد کے دونوں جانب مارکیٹوں کے قیام سے مقامی لوگوں کی تجارت اور کاروبار کو مضبوط بنانے کی راہ ہموار ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے منڈ اور پشین بارڈر مارکیٹ پر اپنی طرف سے 85 فیصد کام مکمل کر لیا ہے اور انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ ایران بھی ان مارکیٹوں کے لیے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات اٹھائے گا۔ ایران کے سفیر سید محمد علی حسنی نے کہا کہ ایران پاکستان کے ساتھ اپنے برادرانہ تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہےاور ان کی حکومت پاکستان کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی خواہش رکھتی ہے۔ انہوں نے علاقائی و عالمی فورمز پر ایرانی موقف کی ہمایت پر پاکستان کی حکومت اور عوام کا شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے دونوں ممالک کی پارلیمانوں میں رابطوں کو فروغ دینے کی تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے اراکین پارلیمنٹ کے وفود کے تبادلوں سے ہم آہنگی کو فروغ حاصل ہوگا اور دونوں اقوام کو مزید قریب لانے میں مدد ملے گی۔انہوں نے ڈپٹی اسپیکر کو سرحد کے دونوں جانب قائم کی جانے والی مارکیٹس کے حوالے سے ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران بھی ان مارکیٹس کے قیام میں گہری دلچسپی رکھتا ہے اور ان کی بروقت تکمیل کے لئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات اٹھائے جا رہیں ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.