مستونگ، غیر قانونی ٹیسٹ وانٹریو منسوخ کیا جائے ۔نیشنل پارٹی
(امروز نیوز) ویب ڈیسک
مستونگ( نامہ نگار)نیشنل پارٹی مستونگ کے ضلعی صدر نواز بلوچ تحصیل مستونگ کے صدر نثار مشوانی سینئر رنماء و سابق ناظم میر سکندر خان ملازئی بی ایس او پجار کے مرکزی رہنما بابل ملک بلوچ زونل صدر ناصر بلوچ جنرل سیکریٹری نثار بلوچ و دیگر نے اپنے ایک بیان میں شہید نواب غوث بخش میموریل ہسپتال کے نیب زدہ اور کرپٹ سی ای او اور ڈپٹی کمشنر مستونگ کی ملی بھگت سے نرسنگ اردلی کی ایک پوسٹ پر بغیر اخباری اشتہار اور بغیر ٹیسٹ و انٹریو کے بوگس اور غیرقانونی بھرتی کی شدید الفاظ میں مزمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ مزکورہ آسامی کو فلفور کینسل کرکے قانونی طریقے سے اوپن میرٹ پر بھرتی کیا جائے۔۔۔انھوں نے کہا ہسپتال میں 12 سال تک خدمات سر انجام دینے والی ایک غریب اور لاچار خاتون جو دائی کے پوسٹ پر کام کر رہی تھی کینسر کی مرض میں مبتلا ہونے کے باعث چند ماہ قبل فوت ہو گئی۔۔۔اب انکی خاندان غربت بھوک و افلاس کی وجہ سے در پدر کی ٹھوکر کھانے پر مجبور ہے۔۔ لیکن ہسپتال انتظامیہ مرحومہ کی جگہ انکی غریب بیٹے یا بیٹی کو ملازمت دینے کے بجائے ساز باز کر کے انکی حقوق پر ڈاکہ ڈال کر سفارشی اور من پسند لوگوں کو نواز رہے ہے۔۔۔انھوں نے کہا نیشنل پارٹی اس نا انصافی اور ظالمانہ اقدام کے خلاف بھر پور آواز بلند کر کے متاثرہ خاتون کے ورثاء کی حق و حقوق کے لیے بھر پور کردار ادا کرینگے۔۔۔۔نیشنل پارٹی اور بی ایس او پجار کے رنماوں نے کہا کہ ڈپٹی کمشنر ۔۔۔۔۔پہلے مستونگ کے کرپٹ اور معطل ڈی ای او مستونگ کے ساتھ مل کر میرٹ کا گلہ گھونٹ کر ایجوکیشن کے 100 سے زائد آسامیوں پر اقربا پروری اور سفارش کی بل بوتے پر غیر قانونی بھرتیوں کے بعد اب شہید نواب غوث بخش میموریل ہسپتال کے نیب زدہ سی ای او کے ساتھ مل کر غیر قانونی اور بوگس بھرتیوں کا عمل شروع کیا ہے جو کہ نا قابل برداشت عمل ہے۔۔انھوں نے کہا موجودہ کٹپتلی اور سلیکٹڑ صوبائی حکومت نے دانستہ طور پر ڈپٹی کمشنر کو غیر قانونی کاموں کی سر انجام دہی کا لائسنس جاری کر دیا ہے جبکہ عوام اور آل پارٹیز کی بھر پور احتجاج اور چیف سیکریٹری کو تحریری آگاہ کرنے کے باوجود انکے خلاف کاروائی نہ کرنا سمجھ سے بالاتر اور قابل مزمت ہے۔۔نیشنل پارٹی اور بی ایس او پجار کے رنماوں نے کہا کہ ان غیرقانونی اور عوام کی حقوق پر ڈالنے کی اقدامات پر یہاں سے منتخب ایم پی اے خاموشی اختیار کرنے کے بجائے اپنی عملی کردار ادا کرے۔۔۔۔