حکومت لاپتہ افراد کے بل کو وزارت قانون اور وزارت انسانی حقوق کے درمیان فٹ بال نہ بنائے، بلاول بھٹو زر داری
اسلام آباد (امروز نیوز) قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے چیئرمین بلاول بھٹو زر داری نے کہاہے کہ حکومت لاپتہ افراد کے بل کو وزارت قانون اور وزارت انسانی حقوق کے درمیان فٹ بال نہ بنائے، جبری گمشدگی کو جرم قرار نہ دینے پر اختر مینگل حکومت کو عوام دشمن بجٹ پر ووٹ نہ دیں،ہم اپنے پارلیمانی حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے، ایف آئی اے کو شاہزیب جیلانی کے معاملے میں جواب دینا ہوگا، کام کرنے والی ماو¿ں کے لئے ڈے کیئر سینٹرز کا قیام بہت ضروری ہے۔ انہوںنے کہاکہ انسانی حقوق کے قوانین کی منظوری کے حوالے سے ہم نے ذیلی کمیٹی بنادی ہے۔انہوںنے کہاکہ ذیلی کمیٹی بلوں کی رپورٹ کے بعد انسانی حقوق کے بلوں کو پارلیمنٹ منظوری کے لئے بھجوایا جائیگا،لاپتہ افراد اور جعلی پولیس مقابلوں کے خاتمے کے لئے ہمیں جدوجہد کرنا ہوگی۔ پیر کو چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے حوالے سے صحافیوں کو میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے کہاکہ خواتین کے خلاف جرائم ملک میں معمول بن چکے ہیں، ملک میں خواتین کی لیگل فورمز تک رسائی بہت مشکل ہے۔انہوںنے کہاکہ قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے خواتین پر تشدد کے حوالے سے خصوصی پراسیکیوٹرز تعینات کرنے کی تجویز دی ہے۔انہوںنے کہاکہ صحافی شاہزیب جیلانی کے خلاف پی ٹی آئی حکومت نے مقدمہ درج کیا۔انہوںنے کہاکہ شاہزیب جیلانی نے قائمہ کمیٹی میں قانونی ماہرین کے سامنے اپنا مو¿قف بیان کیا۔انہوںنے کہاکہ اگر آپ کے پاس اظہار رائے کی آزادی نہیں ہوگی تو دیگر بنیادی انسانی حقوق کیلئے کیسے آواز اٹھائیں گے۔انہوںنے کہاکہ ممکن ہے کہ میں آپ کی بات سے اختلاف کروں مگر آپ کے بات کو کہنے کے حق کیلئے آخری دم تک لڑوں گا۔انہوںنے کہاکہ شاہزیب جیلانی کیس کے حوالے سے ایف آئی اے سربراہ کو اگلے اجلاس میں طلب کرلیا ہے۔انہوںنے کہاکہ قانون کے مطابق متعلقہ ایجنسیوں کو اپنی ششماہی کارکردگی پارلیمنٹ کو پیش کرنا ہوتی ہے۔انہوںنے کہاکہ بدقسمتی سے متعلقہ ایجنسیوں نے اپنی ششماہی کارکردگی پارلیمنٹ کو پیش نہیں کی۔انہوںنے کہاکہ شاہزیب جیلانی کے معاملے میں بنیادی قانونی تقاضوں کو ایف آئی اے نے نظرانداز کیا۔انہوںنے کہاکہ ایف آئی اے کو شاہزیب جیلانی کے معاملے میں جواب دینا ہوگا۔انہوںنے کہاکہ قائمہ کمیٹی کے اگلے اجلاس میں دیکھا جائیگا کہ ایف آئی اے اپنے ہی ملک کے قانون پر عملدرآمد کیوں نہیں کررہا۔انہوںنے کہاکہ نیشنل کمیشن اسٹیٹس آف ویمن، معذوروں کے حقوق، دفاتر میں ہراسانی کا معاملہ، ڈے کیئر سینٹر اور زینب کیس سے متعلق سمیت سات بلوں کا معاملہ قائمہ کمیٹی کے سامنے آیا۔انہوںنے کہاکہ بلوچستان میں رکن اسمبلی کا ایوان میں بیمار بیٹی کو لانے پر دیگر ارکان کا ردعمل درست نہیں تھا۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہاکہ کام کرنے والی ماو¿ں کے لئے ڈے کیئر سینٹرز کا قیام بہت ضروری ہے۔ انہوںنے کہاکہ انسانی حقوق کے قوانین کی منظوری کے حوالے سے ہم نے ذیلی کمیٹی بنادی ہے۔انہوںنے کہاکہ ذیلی کمیٹی بلوں کی رپورٹ کے بعد انسانی حقوق کے بلوں کو پارلیمنٹ منظوری کے لئے بھجوایا جائیگا۔انہوںنے کہاکہ گزشتہ اجلاس میں ہمیں حکومت نے بتایا کہ انسداد تشدد بل منظوری کے حوالے سے کابینہ کے اجلاس میں پیش ہوگا۔انہوںنے کہاکہ وزارت قانون کے حوالے سے کچھ ایشوز کے باعث انسانی حقوق وزارت کا انسداد تشدد کا بل کابینہ میں پیش نہیں کیا گیا۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہاکہ لاپتہ افراد کے حوالے سے حکومتی بل بھی آگے نہیں بڑھایا جارہا۔انہوںنے کہاکہ میں سمجھتا ہوں کہ انسانی حقوق کی وزارت اور قائمہ کمیٹی کے پارلیمانی حقوق کو نظر انداز کیا جارہا ہے۔انہوںنے کہاکہ حکومت انسانی حقوق سے متعلق بل دوسری وزارتوں کو بھجوادیتی ہے اور کوئی کام نہیں ہوتا۔انہوںنے کہاکہ حکومت کی وزارت برائے انسانی حقوق کو بھی دوسری وزارتوں کو ان کے بل بھجوائے جانے پر اعتراض ہے انہوںنے کہاکہ ہم اپنے پارلیمانی حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ انہوںنے کہاکہ جبری گمشدگی و تشدد جیسے معاملات انسانی حقوق سے متعلق ہیں۔ انہوں نے کہاکہ یہ کیسا طریقہ ہے کہ انسانی حقوق کے معاملات پر وزارت انسانی حقوق اور قائمہ کمیٹی اپنی رائے نہیں دے سکتی۔انہوںنے کہاکہ اختر مینگل نے لاپتہ افراد سمیت بلوچستان کی محرومیوں کے معاملے کو اٹھایا۔انہوںنے کہاکہ پی ٹی آئی نے حکومت میں آنے سے پہلے وعدہ کیا تھا کہ جبری گمشدگی کو جرم قرار دیا جائیگا۔انہوںنے کہاکہ شیریں مزاری نے پارلیمان میں کھڑے ہوکر جبری گمشدگی کو جرم قرار دینے کی بات کی تھی۔انہوںنے کہاکہ اختر مینگل نے پی ٹی آئی کو ووٹ دیا اور ان کی جماعت کے منشور میں لاپتہ افراد کا معاملہ تھا۔انہوںنے کہاکہ میں نے تجویز دی کہ جبری گمشدگی کو جرم قرار نہ دینے پر اختر مینگل حکومت کو عوام دشمن بجٹ پر ووٹ نہ دیں۔انہوںنے کہاکہ اختر مینگل صاحب ووٹ نہ دے کر حکومت کو مجبور کرسکتے ہیں کہ وہ جبری گمشدگی کو جرم قرار دے کر اپنے وعدے پر عمل درآمد کرے۔انہوںنے کہاکہ ہم جلد بلوچستان میں انسانی حقوق کمیٹی کا اجلاس منعقد کریں گے۔انہوںنے کہاکہ بلوچستان کے مسائل کو بلوچستان میں ہی بیٹھ کر حل کرنے کی کوشش سے بہتر اور کچھ نہیں۔انہوںنے کہاکہ حکومت ہونے والی ہر قانون سازی کا کریڈٹ لینے کی کوشش کرتی ہے۔انہوںنے کہاکہ ڈے کیئر سینٹر کے حوالے سے ہمارے سینیٹر نے بل سینیٹ سے منظور کرایا۔انہوںنے کہاکہ میں امید کرتا ہوں کہ ڈے کیئر سینٹر کے حوالے سے بل اسمبلی سے بھی اتفاق رائے سے منظور ہوگا۔، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہاکہ افتخار چوہدری سوموٹو لے کر لاپتہ افراد کے معاملے کو عدالت لے آئے۔ انہوںنے کہاکہ معاملہ عدالت میں جانے کے بعد پارلیمان اچھے فیصلے کا منتظر ہوتا ہے۔انہوںنے کہاکہ بدقسمتی سے لاپتہ افراد کے حوالے سے سوموٹو کیس میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔انہوںنے کہاکہ پہلے صرف پاکستان پیپلزپارٹی لاپتہ افراد کے حوالے سے اپنے منشور میں بات کرتی تھی۔انہوںنے کہاکہ اللہ کا شکر ہے کہ اب دیگر سیاسی جماعتیں بھی اس انسانی المیے کے حل کی بات کررہی ہیں۔انہوںنے کہاکہ جب حکومت خود کہہ چکی ہے کہ وہ جبری گمشدگیوں کو جرائم قرار دیگی تو پھر تو کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہاکہ حکومت لاپتہ افراد کے بل کو وزارت قانون اور وزارت انسانی حقوق کے درمیان فٹ بال نہ بنائے۔ انہوںنے کہاکہ ایم کیوایم کے افراد لاپتہ ہوئے تو انہوں نے بھی اس معاملے کو اٹھایا۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہاکہ اگر حکومت جبری گمشدگی کو جرم قرار دینے کے وعدے کو پورا نہ کرے تو ایم کیوایم اور اختر مینگل کو عوام دشمن بجٹ کو ووٹ نہیں دینا چاہئے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہاکہ عمران خان نے جبری گمشدگیوں کے حوالے سے جو وعدے ایم کیوایم اور اختر مینگل سے کئے، انہیں پورا کریں۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہاکہ راو¿ انوار کا معاملہ قائمہ کمیٹی کے ایجنڈے پر نہیں تھا مگر پارلیمانی ضوابط سے ناواقف ایک رکن نے یہ معاملہ اٹھایا۔ انہوںنے کہاکہ راو¿ انوار کو بہادر بچہ کہنے کے حوالے سے ہماری جانب سے مکمل وضاحت آچکی ہے۔ انہوںنے کہاکہ راو¿ انوار کے حوالے سے آئی ایس آئی کے خط کی وضاحت آئی ہے یا نہیں؟ مجھے اب تک اس سوال کا جواب نہیں ملا۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہاکہ راو¿ انوار کے حوالے سے پاکستان پیپلزپارٹی کا مو¿قف بالکل واضح ہے۔ انہوںنے کہاکہ ہم صرف ایک راو¿ انوار کی بات نہیں کرتے کیونکہ ہم ماورائے عدالت قتل کا شکار رہے ہیںانہوںنے کہاکہ میرے کارکنان کو کراچی سے بلوچستان اور فاٹا تک ماورائے عدالت قتل کیا گیا ہے۔ انہوںنے کہاکہ میں نے اپنی پوری زندگی ماورائے عدالت قتل کا ہتھیار استعمال ہوتے دیکھا، میرا خاندان ماورائے عدالت قتل کے معاملے کا شکار رہا ہے۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہاکہ ہم جانتے ہیں کہ ایک پولیس افسر میں اتنی طاقت نہیں ہے کہ وہ ملک بھر میں ماورائے عدالت قتل کرے۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہاکہ ماورائے عدالت قتل ایک بری روایت ہے، دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لئے ہم نے انسانی حقوق کا المیہ پیدا کرلیا ہے، لاپتہ افراد اور جعلی پولیس مقابلوں کے خاتمے کے لئے ہمیں جدوجہد کرنا ہوگی۔