پاکستان میں بے حیائی کا طوفان، سوشل میڈیا پر فحاشی کے مقابلے، ویڈیوز وائرل

0 524

لاہور( پاکستان میں بے حیائی کا طوفان آگیا، سوشل میڈیا پر فحاشی کے مقابلے مزید تیز ہوگئے، علیزے سحر کی نازیبا ویڈیو بھی یہیں سے لیک ہوئی تھی۔

انٹرنیٹ پر موجود ٹک ٹاک، لائیکی، انسٹاگرام، یوٹیوب شارٹس اور دیگر لائیو اسٹریمنگ پلیٹ فارمز پر فحاشی کو ایک باقاعدہ کاروبار کی صورت دے دی گئی ہے، جہاں اخلاقیات کی تمام حدیں پار کر دی جاتی ہیں۔

اب یہ صرف ویڈیوز تک محدود نہیں رہا، بلکہ “لائیو سیشنز” میں نازیبا گفتگو، بیہودہ حرکات، اور شہوانی اندازِ گفتگو کو نہ صرف دکھایا جاتا ہے بلکہ “گفٹس” کے نام پر مالی فائدہ بھی حاصل کیا جاتا ہے۔

علیزے سحر کی نازیبا ویڈیو جو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، اسی ماحول کا حصہ تھی، جس نے نوجوان ذہنوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔

اس بے حیائی کے طوفان میں کئی نام نمایاں ہو چکے ہیں، جو روزانہ کی بنیاد پر ہزاروں لوگوں کے سامنے فحش مواد پیش کر رہے ہیں۔

ان میں ڈاکٹر ایمان، صوفی گجراتن، صبا شاہ، تنظیم ہنجرہ، بلی شلی، شکیل مہر، سنزیلہ خان، عائزہ خان، خلیل، ضعیف العمر چاچا منیر، مریم، نمرہ، سنبل ملک، سارا، ملنگ، سیم آئزل، سینوریٹا، شیبا، علی بھائی، چاند، مومی، ماہ نور، وسیم، حیدر شاہ اور جیا راجپوت جیسے نام شامل ہیں جو مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر فالوورز اور پیسے کمانے کے لالچ میں روزانہ کی بنیاد پر نازیبا گفتگو، بے ہودہ حرکات، اور لچر انداز میں پرفارمنس پیش کرتے ہیں۔

یہ عمل پاکستانی خاندانی نظام کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ لائیو اسٹریمنگ کے دوران یہ افراد نوجوانوں کو ورغلاتے ہیں، جنہیں وہ گفٹس، کوائنز اور ڈالر کی شکل میں انعامات دیتے ہیں۔

افسوسناک بات یہ ہے کہ ان حرکات کے خلاف نہ حکومت مؤثر قدم اٹھا رہی ہے، نہ پلیٹ فارم انتظامیہ اور نہ ہی والدین اپنی اولاد کی آن لائن سرگرمیوں پر نگاہ رکھتے ہیں۔

اگر اس بڑھتی ہوئی فحاشی کو ابھی روکا نہ گیا تو پاکستان کا معاشرہ ایک ایسی دلدل میں جا گرے گا، جہاں سے واپسی مشکل ہوگی۔

وقت آ چکا ہے کہ ریاست، والدین اور سوشل میڈیا ماہرین مل کر ایک مؤثر حکمتِ عملی تیار کریں تاکہ اس اخلاقی زوال کو روکا جا سکے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.