ہیپی ٹائٹس، کالے یرقان کا بلوچستان میں تیزی سے پھیلائو خطرے کی گھنٹی ہے،پروفیسرڈاکٹرکاشف ملک

2 137

بلو چستان کے کسی بھی سر کا ری ہسپتال میں پی سی آر کی مشین موجود نہیں کہ جس سے ہیپی ٹائٹس کے مرض کی تشخیص کی جاسکے ،صدر پاکستان سوسائٹی آف ہیپاٹولوجی
کوئٹہ پاکستان سوسائٹی آف ہیپاٹولوجی کے صدر پروفیسر ڈاکٹر کاشف ملک نے کہا ہے کہ ہیپی ٹائٹس ،یرقان، کالا یرقان بلوچستان میں بڑی تیزی سے پھیل رہا ہے جو کہ خطرے کی گھنٹی ہے،بلو چستان کے کسی بھی سر کا ری ہسپتال میں پی سی آر کی مشین موجود نہیں کہ جس سے ہیپی ٹائٹس کے مرض کی تشخیص کی جاسکے ،حکومت سے اپیل کرتا ہوں کہ بلوچستان کے سرکاری ہسپتالوں میں پی سی آر ٹیسٹ کی مشین لگوائیں اور ہیپی ٹائٹس بی اور سی کے علاج میں استعمال ہونے والی ادویات کی وافر مقدار فراہم کی جائے۔ یہ بات انہوں نے جمعرات کو جوائنٹ سیکرٹری پاکستان سوسائٹی آف ہیپاٹولوجی و اسسٹنٹ پروفیسر ہیپٹالوجی ڈاکٹر داؤد غلزئی، ڈاکٹر یاسر خان خوستی کے ہمراہ کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کر تے ہوئے کہی، انہوں نے کہاکہ ہر سال دنیا بھر میں تقریباً 257ملین افراد ہیپی ٹائٹس بی، 71ملین افراد ہیپی ٹائٹس سی، 14لاکھ افراد ہیپی ٹائٹس اے اور 20لاکھ افراد ہیپی ٹائٹس ای میں مبتلا ہوتے ہیں بلکہ اس وقت تقریباً 350ملین افراد ہیپی ٹائٹس میں مبتلا ہیں جن میں سے تقریبا310ملین افراد لو کالا یرقان لاحق ہے، انہوں نے کہاکہ ہیپی ٹائٹس (یرقان، کالا یرقان) ایک مہلک بیماری ہے جس جگر کو متاثر کرلیتی ہے اس مرض کی عموماً پہلے پہل علامات ظاہر نہیں ہوتے بعد ازاں جگر میں سوزش پیدا کرنے کے بعد چند ہی سالوں میں جگر سکڑ جاتا ہے اور اگر پھر بھی اس کا علاج نہ کیا جائے تو یہ کینسر کی شکل اختیار کرلیتا ہے انہوں نے کہاکہ سب سے خطرناک امر یہ ہے کہ یہ مرض پاکستان اور بالخصوص بلوچستان میں بڑی تیزی سے پھیل رہا ہے جس کے تدارک اور اس مرض میں مبتلا مریضوں کے علاج کے لئے حکومت سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز کو مل کر کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے، انہوں نے کہاکہ ہیپی ٹائٹس ای حمل کے دوران خطرناک ثابت ہوسکتا ہے اس لئے حاملہ خواتین حمل سے پہلے ہیپی ٹائٹس ای کی ویکسین ضرور لگوائیں،انہوں نے کہاکہ ہیپی ٹائٹس سی کا علاج اس وقت دنیا بھر میں موجود ہے تین مہینے تک ادویات کی کورس مریض کو دی جاتی ہے جس سے یہ مرض مکمل طور پر ختم ہوجاتا ہے، ہیپی ٹائٹس بی کو کنٹرول ادویات کے ذریعے کنٹرول کیا جاسکتا ہے عوام ہیپی ٹائٹس کا ٹیسٹ کرائیں ٹیسٹ مثبت آنے کی صورت میں علاج کروائیں اور منفی آنے پر ہیپی ٹائٹس بی کے ویکسین لگوائیں کیونکہ جیسے ہم نے پہلے بھی ذکر کیا کہ اس مرض میں مبتلا صرف 10سے 20فیصد لوگوں کو معلوم ہوجاتا ہے کہ انہیں کالا یرقان کا مرض لاحق ہوچکا ہے اور باقی مریضوں کو معلوم نہیں ہوتا،انہوں نے کہاکہ حکومت سے اپیل کرتا ہوں کہ بلوچستان کے سرکاری ہسپتالوں میں پی سی آر ٹیسٹ کی مشین لگوائیں اور ہیپی ٹائٹس بی اور سی کے علاج میں استعمال ہونے والی ادویات کی وافر مقدار فراہم کی جائے،انہوں نے کہاکہ پاکستان سوسائٹی آف ہیپاٹولوجی کے زیر اہتمام ہر سال 28جولائی کو ورلڈ ہیپی ٹائٹس ڈے اور23جولائی کو سرینا ہوٹل کوئٹہ میں ایک روزہ سمینار کا انعقاد کررہی ہے جس میں ملک بھر سے ماہرین امراض جگر، معدہ، آنت سمیت ماہرین گائنی شرکت کررہے ہیں تاکہ نہ صرف کالے یرقان سمیت جگر کی بیماریوں اور حمل کے دوران ہیپی ٹائٹس کے بیماری کے تدارک و دیگر سے متعلق میڈیکل فیکلٹی سے وابستہ افراد کو آگاہی دی جاسکے،انہوں نے حکومت سے اپیل کرتی ہے کہ عوامی سطح پر ہیپی ٹائٹس کے ٹیسٹ کروائیں جائیں اور عطائی ڈاکٹروں جو ایک ہی سرنج مختلف مریضوں پر استعمال کرتے ہیں، دندان سازوں جو آلات کو سٹریلائز کئے بغیر مختلف مریضوں پر استعمال کرتے ہیں ان کے خلاف ایکشن لیا جائے، اسی طرح منتقلی خون کے عمل کو محفوظ بنایا جائے تاکہ کالے یرقان کا مرض دوسرے افراد کو منتقل نہ ہو۔

2 Comments
  1. […] امیر جماعت اسلامی بلوچستان مولانا عبدالحق ہاشمی نے صوبہ بھر کے امرائے اضلاع کا […]

  2. […] کوئٹہ  بلوچستان حکومت اور محکمہ فنانس بلوچستان سے مطالبہ کیا ہے کہ حالیہ بجٹ 2022 میں بلوچستان کے مزدوروں و ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کرے اور وفاقی حکومت کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کی پیروی کرتے ہوئے تمام ایڈہاک الائونسز بنیادی تنخواہ میں ضم کئے جائیں اور بلوچستان کے مختلف محکموں میں جن ملازمین کی بنیادی تنخواہ منجمد ہوچکی ہے ایسی کیٹگری کی پوسٹوں کو اپ گریڈ کیا جائے۔ […]

Leave A Reply

Your email address will not be published.