پاکستان ایٹمی طاقت ،کوئی بھی ڈکٹیشن نہیں دے سکتا،قومی فیصلے اتحادی حکومت میں شامل جماعتوں کی مشاورت سے ہوتے ہیں،احسن اقبال
ضمنی انتخابات میں شکست کی وجہ آئی ایم ایف سے معاہدے کیلئے ضروری سخت معاشی اقدامات تھے،اتحادی حکومت اگر مدت پوری نہیں کرتی تو آئی ایم ایف کیساتھ ڈیل پر عملدرآمدمیں مشکل ہو گی ، حکومت اقتصادی اصلاحات پر عمل کرنے کیلئے کمر بستہ ہے،امید ہے آئی ایم ایف سے معاہدے کے بعد امریکی و بین الاقوامی سرمایہ کار پاکستان کا رخ کریں گے، وفاقی وزیر
اسلام آباد وفاقی وزیر منصوبہ بندی،ترقی، اصلاحات و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان ایٹمی طاقت ،کوئی بھی ڈکٹیشن نہیں دے سکتا،قومی فیصلے اتحادی حکومت میں شامل جماعتوں کی مشاورت سے ہوتے ہیں،ضمنی انتخابات میں شکست کی وجہ آئی ایم ایف سے معاہدے کیلئے ضروری سخت معاشی اقدامات تھے،اتحادی حکومت اگر مدت پوری نہیں کرتی تو آئی ایم ایف کیساتھ ڈیل پر عملدرآمدمیں مشکل ہو گی ، حکومت اقتصادی اصلاحات پر عمل کرنے کیلئے کمر بستہ ہے،امید ہے آئی ایم ایف سے معاہدے کے بعد امریکی و بین الاقوامی سرمایہ کار پاکستان کا رخ کریں گے،عمران خان پاکستان کو ون پارٹی سٹیٹ بنانا، حزب اختلاف کو ختم کرنا چاہتے تھے تاکہ ریاستی اداروں پر قابض ہو جائیں،امریکا ، چین، یورپی یونین اور خلیجی ممالک سے قریبی تعلقات کو آگے بڑھاناہماری خارجہ پالیسی میں شامل ہے،کسی ایک سے بہتر تعلقات کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ دوسرے کسی ملک سے تعلقات میں کمی آگئی ہے،امریکا پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے ،امریکہ کو اپنی برآمدات میں زیادہ سے زیادہ اضافے کے خواہاں ہیں۔وائس آف امریکہ کو انٹرویو دیتے ہوئے وفاقی وزیر منصوبہ بندی،ترقی، اصلاحات و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کہا کہ حالیہ ضمنی انتخابات میں شکست کی وجہ آئی ایم ایف سے معاہدے کیلئے ضروری سخت معاشی اقدامات تھے، پاکستان کی اتحادی حکومت امریکا کیساتھ ماضی کی طرح محض سیکیورٹی امور پر نہیں بلکہ اقتصادی تعاون اور باہمی احترام کی بنیاد پر مضبوط تعلقات استوار کرنے کی خواہاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری شکست کے بارے میں تجزیہ کرتے ہوئے یہ ذہن میں رکھنا چاہئے کہ یہ وہ نشستیں ہیں جو ہم پہلے بھی عام انتخابات میں ہارے ہوئے تھے، البتہ اگر ہمیں آئی ایم ایف کی وجہ سے سخت معاشی اقدامات نہ کرنے پڑتے تو ہم ان 17 میں سے بھی 15سیٹیں جیت سکتے تھے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اگر اتحادی حکومت اپنی مدت پوری نہیں کرتی تو آئی ایم ایف کیساتھ ڈیل پر عملدرآمدمیں مشکل ہو گی کیونکہ عبوری حکومت کے پاس فیصلہ سازی کیلئے درکار آئینی قوت نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان پاکستان کو ون پارٹی سٹیٹ بنانا چاہتے تھے، وہ حزب اختلاف کو ختم کرنا چاہتے تھے تاکہ وہ ریاستی اداروں پر قابض ہو جائیں، یہ سب ملک کے مفاد میں نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) باقی اتحادی جماعتوں کیساتھ عدم اعتماد کی قرارداد پارلیمنٹ کے اندر لے کر آئی تھی اور ہماری جماعت ’ ووٹ کو عزت دو‘ کے نظریئے پر یقین رکھتی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں عدلیہ آزاد ہے، ہم آزادی اظہار کا احترام کرتے ہیں۔عمران خان حکومت کی تبدیلی کی مبینہ سازش کے الزامات کے متعلق انہوں نے کہا کہ عمران خان پاکستان کی نفسیاتی کیفیت کو تباہ کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں اتحادی پارٹیوں کی حکومت امریکا سے وسیع البنیاد تعلقات قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہے،ہماری توجہ اس بات پر ہے کہ ہم امریکا سے تعلقات کو سیکیورٹی کی بجائے اقتصادی اور ترقیاتی شعبے میں استعمال کریں اس سے ان میں ایک مستقل مزاجی استحکام اور تسلسل رہے گا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے ، پاکستان کو کوئی بھی ڈکٹیشن نہیں دے سکتا،پاکستان کے قومی فیصلے اتحادی حکومت میں شامل پارٹیوں کی مشاورت سے ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی مالیاتی ادارے کیساتھ پاکستان کا معاہد ہ حتمی ہے اور پاکستان کو اگست میں ایک بلین ڈالر کی قسط جاری ہو جائیگی۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت اقتصادی اصلاحات پر عمل کرنے کے لئے کمر بستہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا ، چین، یورپی یونین اور خلیجی ممالک سے قریبی تعلقات کو آگے بڑھاناہماری خارجہ پالیسی میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان میں سے کسی ایک سے بھی بہتر تعلقات کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ دوسرے کسی ملک سے تعلقات میں کمی آگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے اور پاکستان کی کوشش یہ ہونی چاہئے کہ امریکا کو اپنی برآمدات میں زیادہ سے زیادہ اضافہ کرے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ امریکا زراعت کے شعبے میں پاکستان کو اہم ٹیکنالوجی فراہم کرکے تعاون کر سکتا ہے اور ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے میں بھی مدد کرسکتا ہے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبہ میں پاکستان کی اہمیت پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان دنیا کی سب سے بڑی فری لانسنگ منڈیوں میں سے ایک ہے اور آئی ایم ایف کے معاہدے کے بعد پاکستان امید کرتا ہے کہ امریکی اور بین الاقوامی سرمایہ کار پاکستان کا رخ کریں گے۔انہوں نے کہا کہ اس وقت نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کو یوکرین کی جنگ کے بعد بحرانی کیفیت کا سامنا ہے اور اتحادی پارٹیوں کی حکومت میں ملک کے تمام حصوں سے لوگ شامل ہیں اور یہ چیز پاکستان کے استحکام کیلئے ایک بڑا موقع فراہم کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کی سربراہی میں اتحادی حکومت نے یو ایس پاکستان نالج کوریڈور پروگرام بحال کردیا ہے جس کے تحت پاکستان کے ایک ہزار طالب علم امریکی یونیورسٹیوں سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کریں گے ۔