مقامات حریری کا ڈھائی صدی پرانا نایاب نسخہ دریافت
یہ نسخہ 1809 بہ مطابق 1224ھ میں لکھا گیا جو 223 صفحات پر مشتمل ہے،رپورٹ
ریاض شاہ عبدالعزیز پبلک لائبریری نے عرب زبان وادب کی شگفتی کی پہچان کہی جانے والی کتاب مقامات حریری کا تقریبا ڈھائی صدی قبل لکھا ہوا ایک نایاب مخطوطہ منظر عام پرلایا ہے۔ یہ نسخہ 1809 بہ مطابق 1224ھ میں لکھا گیا جو 223 صفحات پر مشتمل ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق مقامات حریری یوسف بن علی بن محمد بن عثمان الحریری (المتوفی 516ھ) نے کی تالیف تھی اور یہ عربی فن میں مقامات بدیع الزماں الحمدانی کے بعد سب سے مشہور مقامات ہیں۔
اس کے بیاناتی اور لسانی عناصر کے ساتھ ساتھ مختلف کہانیوں کے پیش نظر اس کی بہت سی تشریحات بھی کیں گئیں۔مخطوطہ میں 50 مقامات شامل ہیں۔ کتاب کے پہلے صفحات پر ایک فہرست میں یہ مقامات جاری کیے ہیں جن میں مکی، صنعانیہ، حلوانیہ، دیناری، الرازی، البغدادی، الشعریہ، البصری وغیرہ جیسے عنوانات شامل ہیں۔کتاب کا آغاز مقامات کے تعارف کے ساتھ کیا گیا ہے جس میں اس کے مندرجات کا ذکرکیا گیا تھا۔ الحریری کہتے ہیں کہ میں نے یہ کتاب اس لیے لکھی کیونکہ مجھے سخت غیبت، ایک مردہ ذہانت، ایک ناکارہ بیانیے جیسے رویوں کا سامنا تھا۔ اس لیے میں نے پچاس مقامے لکھ ڈالے جو گفتار و مزاح، شائستہ اور طعنہ زنی، بیان میں دھوکہ دہی اور غلطی، ادب کی چاشنی،قصوں کہانیوں، آیات اور استعاروں کی خوبیوں، عربی محاوروں اور ادبی باریکیوں سے مزین ہیں۔مقامات حریری میں لوک کہانیوں اورداستانوں کا ایک سلسلہ بھی شامل ہے جو فرضی کردار ابو زید السروجی کے گرد گھومتا ہے۔ ابو زید السروجی ایک ایسا شخص ہے جو بہت فصاحت، بلاغت اور اچھی تقریرکی خوبیوں کا مالک ہے۔
وہ پیسے بٹورنے کے لیے اپنی طلاقت لسانی کا استعمال کرتا ہے اور شعبدہ بازی سے بھی گریز نہیں کرتا۔ اس میں ایک کردار حارث ابن ہمام جو کہ مرکزی کردار ہے۔ وہ مقامات کے تمام واقعات بیان کرتا ہے۔ یہ حریری کے تخیل سے بنایا گیا ایک کردار ہے کیونکہ یہ زمین پر موجود نہیں ہے۔اس تناظر میں، کہانیاں، شاعری، ادب، تبلیغ، حکمت اور مزاحیہ حقائق جیسے بہت سے موضوعات پر بحث کی گئی ہے۔ یہ قرون وسطی کے دوران عرب ممالک میں زندگی کی حقیقت کی تصویر بھی پیش کرتی ہے۔ مقامت کو جملوں اور شاعری کے فقروں کے ذریعے نثری شکل میں بیان کیا جاتا ہے اور اس میں جگہ جگہ شاعرانہ انداز بیان بھی اپنایا گیا ہے،آیات، حکمت، افکار اور ضرب الامثال شامل ہیں۔قابل ذکر ہے کہ حریری 446 ھ میں بصرہ شہر کے ایک گاں المشان میں پیدا ہوئے۔
وہ بن حرام کے علاقے میں رہے اور پلے بڑھے۔ وہ اپنی ذہانت اور ادب اور عربی زبان میں بڑی مہارت کے لیے مشہور تھے۔ وہ اچھے اخلاق کے مالک بھی تھے اور اپنے وقت کے بہت سے علما کے ہم عصر تھے۔ انہیں فقہ، حدیث، عربی زبان اور ادب کے میدان عبور حاصل تھا۔ان کی زندگی کا بیشر عرصہ بصرہ اور بغداد میں گذرا اور 516ھ میں بصرہ میں وفات پائی۔