بی ایم سی طالبات و ملازمین کی گرفتاری حکومت کا بوکھلاہٹ ہے خیر بخش بلوچ

0 116

کوئٹہ (امروز نیوز)
نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری خیر بخش بلوچ نے جاری بیان میں بی ایم سی طالبات پر تشدد اور گرفتاریوں پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جام سرکار نے اس گھناونے عمل کے ذریعے بلوچستان کی سیاسی سماجی اور ثقافتی اقدار کو روند کر شدید سنگین پامالیوں کا مرتکب ہوئے ہے۔مسلط شدہ سرکار نے ظلم و جبر اور ناروا اقدامات سے آمریت کی یاد تازہ کردی ہے۔جعلی مینڈیٹ والے اس طرح کے سیاہ کارنامے ہی کرسکتی ہے۔نیشنل پارٹی اس واقعے کی بھرپور مذمت کرتی ہے۔اور طلباء اور ملازمین کے مکمل ساتھ ہے۔بیان میں کہا گیا کہ بی ایم سی کے طلباء اور ملازمین اپنے جائز مطالبات کے حل کے لیے گزشتہ کئی مہینوں سے پر امن طور سراپا احتجاج ہے۔لیکن ان کی شنوائی نہیں ہورہی ہے۔گزشتہ کچھ دن پہلے بھی طلباء اور ملازمین کو اسمبلی کے سامنے سے گرفتار کیا گیا تھا۔ لیکن طلباء اور ملازمین ودیگر عوامی ردعمل کا سامنا نہ کرسکنے والی اسمبلی نے مظاہرین سے مذاکرات کیے اور یقین دہانی کرائی گئی کہ مطالبات کو حل کرنے کے لیے پیش رفت کیا جائےگا۔لیکن افسوس ایسا نہ ہوا تو طلباء اور ملازمین نے پھر احتجاج کی کال دی۔بیان میں کہا گیا کہ احتجاجی کال کے مطابق جب طلباء پہنچے تو لاٹھی گولی کی سرکار نے بلوچستان کی تمام اخلاقی سیاسی اور قانونی حدود کو پار کرتے ہوئے طالبات کو گرفتار کیا۔جو کہ بدترین اقدام تھا۔جسکی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔بیان میں کہا گیا کہ مسلط شدہ حکومت کے اس گھناونے عمل کی اجازت کسی بھی بلوچستانی کے لیے ممکن نہیں۔بلوچستان اسمبلی میں صرف فنڈنگ کے لیے آواز اٹھانے والی حزب اختلاف بھی سرکار کی جرم میں برابر کے شریک ہے۔بیان میں کہا گیا کہ نیشنل پارٹی طلباء اور ملازمین کے فوراً رہائی کا مطالبہ کرتی ہے۔اور طلباء اور ملازمین کو یقین دلاتی ہے کہ نیشنل پارٹی انکی جدو جہد کو بلوچستان بھر میں وسط دینے کے لیے بھی ساتھ ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.