سی ٹی ڈی کراچی کی جانب سے خضدار میں چادر و چار دیواری کی پامالی اور بلوچ خواتین کی گرفتاری قابلِ مذمت ہے، شفیق الرحمٰن ساسولی

0 570

خضدار ( امروز ویب ڈیسک) بلوچستان نیشنل پارٹی ڈسٹرکٹ خضدار کے پریزیڈنٹ شفیق الرحمٰن ساسولی نے گزشتہ رات سی ٹی ڈی کراچی کی جانب سے خضدار میں چادر و چار دیواری کی پامالی اور بلوچ خواتین کی گرفتاری کو قابلِ مذمت قرار دیتے ہوئے کہاہیکہ خضدار سمیت بلوچستان کا ہر علاقہ یہاں کے خفیہ اداروں کا ڈساہواہے سی ٹی ڈی کراچی نے اپنا حصہ ڈال کر زہر میں مزید اضافہ کیا۔

انہوں نے کہاکہ ہم نے پہلے بھی کہاہے اب دوبارہ دہراتے ہیں کہ اگر کسی پہ الزام ہے/ یا کوئی ملزم ثابت ہوتے ہوئے بھی فرار ہے ضلعی انتظامیہ پولیس لیویز موجود ہیں ان سے گرفتار کروائیں، پھر عدالتوں میں پیش کریں۔ یہ حیوانیت کاسلسلہ بند کریں اگر یہی وحشی پن چلانا ہے تو انتظامیہ پولیس لیویز اور تمام عدالتوں کو ختم کرکے اپنی وحشیانہ عمل کا چسکہ لیتے رہیں مگر یاد رکھیں ظلم تادیر قائم نہیں رہنے والی۔ براہوی زبان میں ایک کہاوت ہیکہ ” صد دے دز انا ازدے خواجہ نا”۔ اور پھر اس دھرتی کے مالکوں کا دن بھی آئے گا۔

شفیق الرحمٰن ساسولی نے کہاکہ ہمیں بحیثیت بلوچ قوم کو اپنی تاریخ ثقافت زبان اقدار اور روایات سے منسلک رہنے کے ساتھ ساتھ گزشتہ رات کے کاروائی میں خواتین کی گرفتاری و ان پہ تشدد ہو یا ہمارے تعلیمی اداروں میں گھس کر بچوں کو حراساں کرکے حفیظ بلوچ کی طرح اساتذہ کو بے گواہ کرنا ہو یا کئی اور وحشیانہ طریقوں سے بلوچوں کو جبراً لاپتہ کرنا ہو، اس طرح کی حرکات اور بلوچ قوم پر ڈھائے گئے تمام مظالم کے خلاف متحد ہونے اور بیک آواز ہمیشہ کھڑے رہنے کی ضرورت ہے۔ ورنہ اسی طرح قباحت، پسماندگی اور زوال مقدر بن سکتی ہے۔

بلوچ قوم اپنی زبان ، ادب، ثقافت و تہذیب سے پہچانی جاتی ہے اور ہمارے روایات ہی بلوچ قوم کی تاریخ، ثقافت و تہذیب کا آئینہ دار اور ترجمان ہیں۔ حالات کتنے کٹھن اور مشکل کیو ں نہ ہوں مگر حق اور مظلوم کی ترجمانی ساتھ دینے اور ظالم و باطل طاقتوں کی مذمت اور اس کے خلاف جہاد میں بلوچ قوم اپنے بلوچی ادب اور روایات کو مدنظر رکھتے ہوئے پیش پیش رہے ہیں۔

اب بلوچ قوم کے ہر فرد کو اس معاملے میں غور سے سوچنا چاہئے کہ اگر دنیا میں اپنی شناخت اور بقاءکو برقرار رکھنا ہے تو اپنی روایات زبان و ادب اور تہذیب و ثقافت کے ساتھ ساتھ ظلم کے خلاف اٹھنا ہوگا۔

ہمارے روایات، ہماری ثقافت ہماری پہچان ہیں۔ بلوچ قوم کے تمام قبائل اپنی بہادری، مہمان نوازی، چادر اور چار دیواری کے احترام اور خواتین کواعلیٰ مقام دینے جیسی مثبت روایات کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہیں۔جو قومیں اپنی ثقافت، زبان اور مثبت روایات کو اہمیت نہیں دیتیں، ہمیشہ مستقبل کے مسائل سے دوچار رہتی ہیں۔ جن قوموں نے اپنی زبان، تہذیب، ثقافت اور مثبت روایات کو اولیت نہ دیتے ہوئے مظالم کے خلاف اٹھ کھڑے نہ ہوئے آج ان کے نام و نشان تک مٹ چکے ہیں۔ لہذا ہماری روایات کا تقاضا ہیکہ بلوچ قوم پر ڈھائے گئے مظالم کے خلاف متحد ہوکر اٹھنا ہے۔

شفیق الرحمٰن ساسولی نے کہاکہ سی ٹی ڈی سندھ کی بغیر اجازت بلوچستان میں کاروائی یہاں کے انتظامیہ کی اختیارات پر ہمیشہ کی طرح ایک سوال اور بلوچستان میں جنگل کے قانون کا عکاس ہے۔ گزشتہ رات کی کاروائی میں خواتین کو گرفتار کرنا اور ان پہ تشدد کرنا بلوچ روایات کے منافی عمل ہے۔ اگر اس معاملے میں کوئی ملزم ہے تو قانون کے دائرے میں سزاء و جزاء دی جائے ہمیں کوئی اعتراض نہیں مگر اس طرح روایات کی پامالی ناقابل برداشت ہے۔ جس کی بھرپور مذمت اور بے گناہ مرد و خواتین کیلئے انصاف کا مطالبہ کرتے ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.