چھ نکا ت پر عملدرآمد کےلئے کمیٹی نہیں بن سکی ، اختر مینگل

0 108

کوئٹہ+اسلام آباد (امروز نیوز)بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ رکن قومی اسمبلی سردار اختر مینگل نے کہاہے کہ آٹھ ماہ کا عرصہ گرنے کے باوجود بھی چھ نکات پر عملدآمد کے لئے کمےٹی نہیں بن سکی ، اورماڑہ میں 20لوگ آئے اور بسوں سے اتار کر لوگوں کو شہید کیا لیکن کسی نے نہیں دیکھا، بلوچستان میں نوجوانوں اور بوڑھوں کے بعد اب خواتیں اور بچوں کو اٹھانے کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے، ایدھی حکام نے بغیر ڈی این اے ٹیسٹ کےے 22لاشوںکو دفنا دیا ،ہمارے کسی بھی ہمسائےے سے تعلقات ٹھیک نہیں ہیں ، یہ بات انہوں قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہی ، سردار اختر مینگل نے کہا کہ گزشتہ دو دن سے بلوچستان کے مسائل پر بات کرنا چاہ رہا تھا لیکن اسمبلی میں دو دن سے جن مسائل پر بات چیت اور بحث ہورہی تھی وہ بلوچستان کے مسائل سے کچھ زیادہ ہی اہمیت کے حامل تھے بلوچستان کچھ قدرتی آفات ،کچھ ریاستی آفات ،کچھ دہشتگردانہ آفتوں سے دو چار رہا ہے ہزار گنجی میں کئی بے گناہ معصوم لوگ شہید کئے گئے ، ہزارہ برداری کا قتل عام معمول بن چکا ہے ، وہ گھر سے نہیں نکل سکتے ،ہزارہ برداری کو چار دیواری میں بند کیا گیا ہے ، انہیںمنڈی تک جانے کےلئے سکیورٹی چاہےے ہوتی ہے، بلوچستان جس کے امن وامان کی مثال دی جاتی آج بد امنی کا شکار ہے ہمارے ہاں نہ مساجد محفوظ ہیں ، نہ امام بارگاہیں اور نہ گرجہ محفوظ ہیں،انہوں نے کہا کہ اورماڑہ میں بسوں سے اتار کر ہاتھ باندھ کر لوگوں کو شہید کیاگیا جسکی جتنی مذمت کی جائے کم ہے ، مجھے وزیر خارجہ کے بیان سے حیرانی ہوئی کہ حملہ آور ایران سے آئے اور کاروائی کے بعد واپس ایران چلے گئے ، وزیر خارجہ کو معلوم ہونا چاہےے کہ جس مقام پر واقعہ پیش آیا وہ ایران کی سرحد سے 450کلو میٹر دور ہے ،ایران کی سرحد تک کوسٹل ہائی وے جاتا ہے ،اس راستے میں 50چیک پوسٹیں ہیں ،ایف آئی اے ، ایف سی ،لیویز ،پولیس کی چیک پوسٹوں کے باوجودحملہ آور آئے 5سے 6 بسوں سے مسافر وں کو اتارا اور کاروائی کی ،ہر بس سے مسافر چیک کر کے اتارنے میں 15سے 20منٹ لگے ہونگے20حملہ آور چارسو کلو میٹر دور چلے گئے کیا انہیں 60روپے فی کلو میٹر خرچے والا ہیلی کاپٹر تو نہیں دیا گیا تھا ،اگر کوئی بات کی جائے اسکے پےچھے کوئی دلیل ہونی چاہےے ، انہوں نے کہا کہ کونسا ہمسایہ ملک ہے جو ہمارا دوست ہے، ایک ایران بچا تھا اس پر بھی الزام عائد کردئےے ہندوستا ن سے نہ تعلقات تھے نہ ہیں نہ رہیں گے ،افغانستا ن سے بھی تعلقات بہتر نہیں ،ایک سمندر بچا ہے جس سے تعلقات ہیں پتہ نہیں کس وقت و ہ سونامی میں ہمیں بہا کر لے جائے
انہوں نے کہا کہ اتنا بڑا واقعہ ہوا اور اس کے درعمل میں ایک سے چار سال کے تین بچوں کو ماﺅں سمیت اٹھایا گیا مجھے اطلاع ملی ہے کہ انہیں چھوڑ دیا گیا ہے اگر انہیں چھوڑ دیا گےا ہے تو مہربانی اگر نہیں چھوڑا تو ایسے واقعات کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے اےسا کرنے سے محبتیں نہیں نفرتیں بڑھیں گی ، انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں موجود ہ دور نہیں بلکہ گزشتہ 20سال سے یہ رواےت چل رہی ہے ،پہلے نوجوان اور بوڑھوں کو اٹھایا جاتا تھا اب عورتوں کوبھی اٹھا یا جاتا ہے،سردار اختر مینگل نے کہا کہ 22لاشوں کو ایدھی انتظامیہ نے بغیر شناخت کے دفنا دیا ،کیا ان لوگوں کا کوئی وارث نہیںکیا حکومت کی یہ ذمہ داری نہیں بنتی تھی کہ انکا ڈی این اے ٹیسٹ کرتے کیا بلوچستان سری لنکا سے بھی کم اہم ہے ،میں نہیں کہتا کہ تمام لوگوں کو ٹارگٹ کیاگیا ہوسکتا ہے انکی اموات دےگر وجوہات سے بھی ہوئی ہوں لیکن صوبائی اور مرکزی حکومت کی ذمہ داری بنتی تھی کہ انکا ڈ ی این اے ٹےسٹ کریںانہوں نے کہا کہ 70سال سے بلوچستان کے لوگ آتش فشاں میں جل رہے ہیں
چھ نکات مسائل کے حل کی راہ ہیں اس پر کتنا عمل درآمد ہورہا ہے ہمیں معلوم ہے آج تک عمل درآمدکمےٹی نہیں بن پائی ،آٹھ ماہ میں چھ نکات پر عمل نہیں ہوا، چھ نکات میں صوبے کے سیاسی، انتظامی سمیت دےگر اہم مسائل کا حل ہے لیکن ان میں سے کسی ایک پر بھی عمل نہیں ہواجبکہ قومی اسمبلی میں جبری گمشدگی کا بل نہیں آرہا نہ دستخط ہو رہا ہے

Leave A Reply

Your email address will not be published.