صوبائی حکومت زمینداروںکو بھرپور مالی مدد فراہم کریں محمد ہاشم نوتیزئی
نوشکی(امروز نیوز) بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنماءو رکن قومی اسمبلی حاجی میر محمد ہاشم نوتیزئی نے چاغی اور مل میں طوفانی بارشوں اور سیلابی ریلوں میں زمینداروں کے فصلات ،پالیزات ،سولر پلیٹس اور بورنگ نقصانات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ قدرتی آفات سے زمیندار بری طرح متاثر ہوئے ہیں حالیہ طوفانی بارشوں سے چاغی اور یونین کونسل مل میں بڑے پیمانے پر گندم ،پالیزات ، شمسی پلیٹس اور بورنگ زیر آب آنے وجہ سے زمینداروں کو کروڈوں کا نقصان ہوا ہے بلوچستان کے زمیندار پہلے سے ہی انتہائی کسمپرسی کا شکار تھے دو مہینے قبل بھی طوفانی بارشوں اور سیلابی ریلوں نے زمینداروں کو بڑے پیمانے پر نقصان سے دوچار کیا تھا اور اب ایک مرتبہ پھر چاغی اور نوشکی کے علاقہ مل میں سیلابی ریلوں نے زمینداروں کو بری طرح متاثر کردیا ہے فصلات کے عین تیاری کے موقع پر سیلابی ریلوں اور بارشوں نے زمینداروں کے کروڈوں کے فصلات کو تباہ کرکے رکھ دیا ہے جبکہ متعدد علاقوں میں زرعی بندات، شمسی پلیٹس اور بورنگ زیر آب آنے کے وجہ سے زمینداروں کو کروڈوں کے نقصانات کا سامنا ہے بلوچستان کے لوگوں کی زندگی کی گزر بسر زراعت سے منسلک ہے جب کہ ان علاقوں میں زراعت سے سینکڑوں گھرانوں کا روزگار بھی منسلک ہے،مگر حالیہ طوفانی بارشوں سے تبائیوں نے مقروض زمینداروں کو ناقابل تلافی نقصان سے دوچار کردیا ہے حکومتی سرپرستی اور سبسڈی نہ ہونے کے وجہ سے بلوچستان کے لوگوں کی واحد گزر بسر کا واحد ذریعہ بھی تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے بلوچستان کے زمیندار سال بھر قرضے لیکر زراعت پر لگاتے ہیں تاکہ فصلات کے سیزن میں اپنے خاندانوں کا گزر بسر کا بندوبست اور قرضے اتاریں مگر بدقسمتی سے بے وقت کے بارشوں اور سیلابی ریلوں میں انکی قیمتی فصلات اور آبنوشی مشینری سیلابی ریلوں میں بہہ چکے ہیں اور زمیندار شدید گومگو کی صورت میں قرضوں کے بوجھ تلے دب چکے ہیں اس سے قبل بھی طوفانی بارشوں اور سیلابی ریلوں میں ہونے والے نقصانات کا صوبائی حکومت نے کوئی تلافی نہیں کیا اور اب واپس زمیندار نقصان سے دوچار ہوچکے ہیں، صوبائی حکومت زمینداروں کی بھرپور مالی مدد فراہم کرکے سینکڑوں خاندانوں کو بچائے اور انکے مشکلات میں کمی لائے تاکہ بلوچستان کی واحد معیشت زراعت کو واپس استوار کیا جاسکے اور زمینداروں کے مالی نقصانات کا ازالہ کرکے انکی اور انکے خاندانوں کی زندگیاں وفاقی کشی، غربت سے بچائے جاسکے۔