بلوچستان کی اخباری صنعت کو بچانے کیلئے پرعزم ہیں، ایکشن کمیٹی

اخباری صنعت کے علاوہ بلوچستان میں دوسری کوئی ایسی صنعت نہیں جو وسیع پیمانے پر روزگار فراہم کررہی ہو

0 132

حکومت کی جانب سے اشتہارات کو BPPRA پر مکمل طور پر منتقل کرنے سے بیروزگاری اور مایوسی پھیلی گی

کوئٹہ ایکشن کمیٹی اخباری صنعت بلوچستان کا علامتی احتجاجی کیمپ 53 ویں روز بھی کوئٹہ پریس کلب کے سامنے جاری رہا۔ علامتی احتجاجی کیمپ میں اخبارات،جرائد اور اخبار مارکیٹ کے نمائندگان موجود رہے۔

احتجاجی کیمپ کے شرکاء کا کہنا تھا کہ بلوچستان کا پرنٹ میڈیا ہزاروں افراد کو روزگار فراہم کرنے کے بہت بڑا ذریعہ ہے جس سے مختلف جامعات سے شعبہ صحافت کی ڈگریاں حاصل کرنے والے ہزاروں نوجوان صوبے کی خدمت کررہے ہیں۔

بلوچستان میں دوسری کوئی ایسی صنعت نہیں جو وسیع پیمانے پر روزگار فراہم کررہی ہو ان حالات میں حکومت کی جانب سے اشتہارات کو BPPRA پر مکمل طور پر منتقل کرنے سے بیروزگاری اور مایوسی پھیلی گی جس کا صوبہ بلوچستان کسی صورت متحمل نہیں ہوسکتا۔

علامتی احتجاجی کیمپ کے شرکاء کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے بارہا اپیل کرچکے ہیں کہ بلوچستان کے پرنٹ میڈیا کو حکومتی سرپرستی کی ضرورت ہے کیونکہ یہاں پرائیویٹ سیکٹر نہ ہونے کی وجہ سے پرنٹ میڈیا صرف حکومت کی جانب سے جاری ہونیوالے اشتہارات پر انحصار کرتا ہے۔

شرکاء کا کہنا تھا کہ 53روز سے جاری احتجاجی کیمپ اس بات کی غمازی کرتا ہے بلوچستان کی اخباری صنعت کو بچانے کیلئے ہم پرعزم ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.